100 بااثر شخصیتوں میں مودی، ممتا اور ملابرادر شامل

پوری دنیا سے منتخب کی جانے والی ذی اثر شخصیتوں کی اس فہرست میں امریکی صدر جوبائیڈن، نائب صدر کمل ہیرس، چینی صدر شی جنپنگ، پرنس ہیری اور میگھن، سابق امریکی صدر اور ڈونالڈ ٹرمپ کے نام بھی شامل ہیں۔

نئی دہلی: ٹائم میگزین نے 2021 کی سو سب سے بااثر شخصیات کی اپنی سالانہ فہرست جاری  کردی  جس میں وزیراعظم نریندرمودی، چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی، سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای او آدر پونہ والا اور طالبان کے شریک بانی ملاعبدالغنی برادر  ملا عبدالغنی بادر کے کا نام شامل ہیں۔

پوری دنیا سے منتخب کی جانے والی ذی اثر شخصیتوں کی اس فہرست میں امریکی صدر جوبائیڈن، نائب صدر کمل ہیرس، چینی صدر شی جنپنگ، پرنس ہیری اور میگھن، سابق امریکی صدر اور ڈونالڈ ٹرمپ کے نام بھی شامل ہیں۔

پی ایم مودی کا پروفائل دیتے ہوئے ٹائم میگزین نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے 74 برسوں میں ملک میں تین بے حد قد آور قائدین ہوئے ہیں جن میں جواہرلال نہرو اور اندراگاندھی کے بعد تیسرا نام وزیراعظم مودی کا ہے۔

یہ شخصیتیں ملک کی سیاست پر اس طریقہ سے اثرانداز ہوئیں ہیں کہ ان سے پہلے کوئی دوسرا اس طورپر اثرانداز نہیں ہوا تھا۔ سی این این کے معروف صحافی فرید ذکریہ کی جانب سے تحریر کردہ وزیراعظم کے پروفائل میں یہ بات بھی کہی گئی کہ وزیراعظم مودی نے ملک کو سکیولرازم سے دور اور ہندو قوم پرستی کی طرف دھکیلا ہے۔

نیز ان پر ہندوستان کی مسلم اقلیت کے حقوق کو کم کرنے اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور جیل میں ڈالنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی کے پروفائل میں یہ لکھا گیا کہ 64 سالہ لیڈر ہندوستانی سیاست کا ایک تیز طرار چہرہ بن گئی ہیں۔

ان کے بارے میں مزید کہا گیا کہ بنرجی اپنی پارٹی ترنمول کانگریس کی قیادت نہیں کرتیں بلکہ وہ خود پارٹی ہیں۔ وہ سڑکوں پر لڑائی کا جذبہ رکھتی ہیں اور ایک مخصوص کلچر میں انہوں نے اپنے ذاتی طرز زندگی سے اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔

ٹائم میگزین کی سال 2021 کی فہرست میں ایک اور غیرمعمولی نام جو نام شامل ہوا ہے وہ طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کا ہے۔

افغانستان میں اگست میں جب طالبان نے اقتدار کی سمت پیشقدمی کی تو وہ ملابرادر ہی تھے جوتمام اہم مشاورتوں میں کلیدی رول ادا کررہے تھے۔

 انہوں نے جو باتیں طے کروائیں ان میں سابقہ حکومت کے ارکان کیلئے عام معافی اور خونریزی سے گریز شامل ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.