سپریم کورٹ میں اینکر روہت رنجن کی درخواست پر سماعت کی گذارش

سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لتھرا نے رنجن کی نمائندگی کرتے ہوئے ججس اندرا بنرجی اور جے کے مہیشوری لتھرا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ کے روبرو یہ معاملہ پیش کیا۔

نئی دہلی: ٹی وی اینکر روہت رنجن کے وکیل نے جمعرات کے دن اپنے مؤکل کے خلاف راہول گاندھی تقریری کا ویڈیو مبینہ طورپر توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر درج کی گئی متعدد ایف آئی آر پر سماعت کی گذارش کی۔

سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لتھرا نے رنجن کی نمائندگی کرتے ہوئے ججس اندرا بنرجی اور جے کے مہیشوری لتھرا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ کے روبرو یہ معاملہ پیش کیا۔انہوں نے بنچ کے روبرو کہا کہ عدالت کے مخصوص احکامات کے باوجود سماعت کیلئے معاملہ دن کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

بنچ نے جواب میں کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے رنجن کی عرضی تاحال کسی بنچ کو نہیں سونپی۔لتھرا نے بنچ سے گذارش کی کہ سماعت کیلئے یہ عرضی جمعہ کے دن فہرست میں شامل کریں۔یہ عرضی دستور کی32کے تحت داخل کی گئی ہے اور اس میں ٹیلی کاسٹ کے سلسلہ میں درج کرائی گئیں ۔

ایف آئی آر رد کرنے اور  پہلی ایف آئی آر کے ساتھ درج کرائی گئی۔درج کرائی گئی ایف آئی آر اکٹہ کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ قانون میں ایک ہی نوعیت کے اقدام پر متعدد ایف آئی آر درج کرانے کی اجازت نہیں ہے۔

مزید برآں براڈکاسٹر کے خلاف کیبل ٹیلیویزن نیٹ ورکس (ریگولیشن) ایکٹ1995اور پروگرامنگ قواعد کے تحت معاملہ کا احاطہ کیا جاچکاہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ جب زیر بحث معاملہ سے نمٹنے کیلئے ایک خصوصی قانون ہے تو مجرمانہ تعزیر یا ایف آئی آر درج کرانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے اقدام پر کئی ریاستوں کی پولیس درخاست گذار کا پیچھا کر رہی ہے جو نہ ہی دانستہ اور نہ محرکات پر مبنی ہے۔اس کے لئے غیر مشروط معذرت خواہی کی جاچکی ہے اور یہ ٹیلی کاسٹ کی گئی ۔ لتھرا نے دلیل پیش کی کہ ان کے مؤکل نے شو کے دوران ایک غلطی کی اور بعد ازاں انہوں نے اس کیلئے معذرت خواہی بھی کی۔ اس کے باوجود ان کے خلاف شو کے سلسلہ میں متعدد ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

لتھرا نے بنچ کے روبرو کہا کہ چھتیس گڑھ پولیس انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر نوئیڈا پولیس نے چہار شنبہ کے دن انہیں گرفتار کرنے کے بعد رہا کردیا۔بنچ نے معاملہ میں مختصر طورپر دلائل کی سماعت کرنے کے بعد جمعرات کے دن معاملہ کی سماعت سے اتفاق کیا تھا۔

تبصرہ کریں

Back to top button