سپریم کورٹ نے زبیر کی رہائی کا حکم دے دیا

سپریم کورٹ نے زبیر کو مستقبل میں ٹویٹنگ سے باز رکھنے کی حکومت ِ یوپی کی گزارش بھی ٹھکرادی اور کہا کہ کیا کسی وکیل کو بحث سے بازرکھا جاسکتا ہے؟ بنچ نے پوچھا کہ کسی صحافی کو ٹویٹنگ اور رائٹنگ سے کیسے روکا جاسکتاہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو اترپردیش میں درج تمام ایف آئی آرس میں ضمات دے دی اور کہا کہ زبیر کو مسلسل حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ دہلی پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر میں دہلی کی عدالت ضمانت منظور کرچکی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں اسی معاملہ میں کوئی ایف آئی آر درج ہوتی ہے تب بھی زبیر کو ضمانت پر رہا کردیا جائے گا۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ‘ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اے ایس بوپنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ زبیر کو چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پٹیالہ ہاؤز کورٹ نئی دہلی میں 20 ہزار روپے کا ضمانتی بانڈ جمع کرانے کے بعد یوپی میں درج تمام ایف آئی آرس کے سلسلہ میں رہائی مل جائے گی۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت نے زبیر کے خلاف یوپی میں درج تمام ایف آئی آرس کو دہلی پولیس کی موجودہ ایف آئی آر کے ساتھ یکجا کردیا۔ بنچ نے زبیر کے خلاف تحقیقات کے لئے بنائی گئی یوپی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو بھی تحلیل کردیا۔

اس نے کہا کہ زبیر‘ دہلی پولیس اور یوپی پولیس کی درج کردہ ایف آئی آرس کو رد کرانے کے لئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہوسکتا ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ گرفتاری کے اختیارات کا اندھادھند استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

سپریم کورٹ نے زبیر کو مستقبل میں ٹویٹنگ سے باز رکھنے کی حکومت ِ یوپی کی گزارش بھی ٹھکرادی اور کہا کہ کیا کسی وکیل کو بحث سے بازرکھا جاسکتا ہے؟ بنچ نے پوچھا کہ کسی صحافی کو ٹویٹنگ اور رائٹنگ سے کیسے روکا جاسکتاہے۔ بنچ نے زائداز 2 گھنٹوں کی تفصیلی سماعت کے بعد احکام جاری کئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button