سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت

سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر مسافرین کو درپیش مشکلات سے متعلق تفصیلی شکایت واٹس ایپ پر بھی پیش کی گئی مگر حکام نے تاحال ان شکایتوں پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

حیدرآباد: ملک کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک سکندرآباد ریلوے اسٹیشن بھی ہے جہاں سے ملک کے مختلف شہروں اور ٹاونس تک ٹرینیں چلائی جاتی ہیں۔

تلگو کی دونوں ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کے بڑے اس ریلوے اسٹیشن میں ہمیشہ ہجوم رہتا ہے مگر ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے حکام، مسافرین کی ہر روز بڑھتی تعداد کے باوجود، اس مصروف ترین اسٹیشن میں انفرااسٹرکچر اور سہولتوں کو فروغ دینے کی بات تو دور موجودہ سہولتوں کو بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

حکام کے مبینہ تساہل کی وجہ سے مسافرین کو مصائب کا سامنا ہے۔ سکندراباد ریلوے اسٹیشن میں ایک لفٹ، گذشتہ چنددنوں سے کام نہیں کررہی ہے۔ حکام اس جانب توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ مسافرین کو ایک سے دوسرے پلاٹ فارم جانے کیلئے سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑتا ہے۔

 اگر ایلی ویٹر کی سہولت دستیاب کرائی جاتی تو یہ مسافرین کیلئے سہل وکار آمد ہوتا مگر یہاں چند ماہ سے ایلی ویٹرس یہاں کام نہیں کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے معذور اور ضعیف مسافرین کو پلاٹ فارم کے لئے ان گنت مشکلات کاسامنا ہے۔

 پلاٹ فارم تک جانے کیلئے مجبوراً سیڑھیوں کو چڑھ کر جانا پڑتا ہے اس دوران ان کے گرنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ لفٹ کی سہولت نہ ہونے سے بھی بھاری بھرکم سامان کے ساتھ پلاٹ فارم تک جانا مسافرین کیلئے مصیبت سے کم نہیں ہے۔

چند مسافرین نے انڈین ریلوے کے وئب سائٹ پر اس تعلق سے تحریری شکایت اپ لوڈ کی کوشش کی تاہم فنی خرابی کے سبب وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ان مسافرین نے ریلوے سیوا مرکز ٹوئٹر پر خراب لفٹ کی تصویر پیش کی اور ریلوے خدمات کو اجاگر کیا۔

سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر مسافرین کو درپیش مشکلات سے متعلق تفصیلی شکایت واٹس ایپ پر بھی پیش کی گئی مگر حکام نے تاحال ان شکایتوں پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ چند مسافرین نے اسٹیشن کے حکام سے راست تحریری شکایت کی مگر ان عہدیدار، بھی لفٹ کی مرمت سے متعلق کوئی باضابطہ یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

 جس کے نتیجہ میں کئی دنوں سے اس لفٹ کا استعمال نہیں ہورہا ہے۔ ایلی ویٹر کے سامنے ایک بورڈ لگایا گیا ہے جس پر ”ایلی ویٹر انڈر ریپیر“ تحریر ہے۔ کئی دنوں سے ایلی ویٹر پر اس طرح کا بورڈ رکھا گیا ہے تاحال اس کی مرمت نہیں کرائی گئی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button