شاہی تاریخ کا منفرد ریکارڈ

عزت مآب الزبتھ دوم کے ملکہ بننے کے70سال مکمل ہوگئے ،یہ برطانیہ میںکسی بھی بادشاہ یا ملکہ رہنے کے عہد کا سب سے طویل عرصہ ہے۔ اس تاریخی موقع کو ملکہ برطانیہ نے اہم اعلان کرکے ہمیشہ کیلئے ایک یادگار دن بنادیا۔

راحیلہ مغل:

عزت مآب الزبتھ دوم کے ملکہ بننے کے70سال مکمل ہوگئے ،یہ برطانیہ میںکسی بھی بادشاہ یا ملکہ رہنے کے عہد کا سب سے طویل عرصہ ہے۔ اس تاریخی موقع کو ملکہ برطانیہ نے اہم اعلان کرکے ہمیشہ کیلئے ایک یادگار دن بنادیا۔ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم نے اپنے پیغام میں اعلان کیا کہ میرے بعد ملک کے آئندہ بادشاہ ان کے بیٹے شہزادہ چارلس ہوں گے اور برطانیہ کی نئی ملکہ شہزادہ چارلس کی اہلیہ کمیلاپارکر ہوںگی۔ اپنے پیغام میں ملکہ برطانیہ نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ جب شہزادہ چارلس ملک کے بادشاہ بنیں تو ان کی اہلیہ کمیلا پارکر ’’ کوئین کنسورٹ‘‘ بنیں۔

کوئین کنسورٹ کاخطاب بادشاہ کی شریک حیات کیلئے ہوتا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم نے ملک کے آئندہ بادشاہ اور ملکہ کے ناموں کااعلان کرکے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کردیا ہے۔ ملکہ الزبتھ برطانیہ پر طویل ترین عرصے تک حکومت کرنے والی برطانوی فرماں رواہیں۔

6 فروری2022 کو انہیں ملکہ بنے70 سال مکمل ہوگئے ہیں اوران کی حکمرانی کی پلاٹینم جوبلی منائی جارہی ہے۔ الزبتھ الیگزینڈرامیری ونڈسر(ملکہ الزبتھ کا پورانام) 21 اپریل1926 کو لندن میں پیداہوئیں۔ ان کی پیدائش کے وقت دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر برطانیہ کی حکومت تھی۔ جب ملکہ الزبتھ دوم تخت نشین ہوئیں تو دنیا کے کئی خطوں میں تاج برطانیہ کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا تھا۔ لیکن وہ اب بھی رسمی طور پر برطانیہ ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک کی سربراہ ریاست ہیں۔ اپنے اس70 سالہ دورحکومت میں ملکہ برطانیہ نے کئی اتار چڑھائو دیکھے لیکن اس طویل ترین دور حکمرانی کاآغاز ایک اتفاق کا نتیجہ تھا۔

برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم کے دوسرے بیٹے جارج ششم کے گھر21 اپریل 1926ء کو جنم لینے والی الزبتھ الیگزینڈر شاہی خاندان کا حصہ تو ضرور تھیں لیکن انہوں نے خود بھی کبھی تصور نہیں کیاہوگا کہ ایک دن ان کے سرپر بادشاہت کا تاج سجے گا۔ الزبتھ کے والد جارج ششم سے پہلے ان کے بڑے بھائی ایڈورڈ ہشتم برطانیہ کے بادشاہ تھے جو 20 جنوری سے11دسمبر 1936ء تک اس منصب پر براجمان رہے۔ا یڈورڈ ایک طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس وارفیلڈ سمپسن کی محبت میں گرفتار تھے اور ان سے شادی کرنا چاہتے تھے۔

برطانیہ میں بادشاہ یاملکہ چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ چرچ کے تحت شادی کا رشتہ پوری زندگی کیلئے ہوتا ہے اور طلاق یافتہ افراد کا شریک حیات اگر زندہ ہوتو کسی اور سے اس کی شادی نہیں ہوسکتی۔ طلاق کے بعد ویلس کے سابق شوہر چونکہ بقید حیات تھے تو اسی بنیاد پر چرچ بادشاہ کی ان سے شادی کی مخالفت کررہاتھا۔

شاہی خاندان اور چرچ آف انگلینڈ کی سخت مخالفت کے باوجود ایڈورڈس ویلس سے اپنی شادی کا ارادہ ترک نہیں کیا البتہ بادشاہت چھوڑ دی ۔ا یڈورڈ کے اس فیصلے کے نتیجے میں ان کے چھوٹے بھائی اور الزبتھ کے والد جارج ششم کو برطانیہ کی بادشاہت ملی۔ یہ وہی بادشاہ جارج ہیں جنہیں ہکلاہٹ کی شکایت تھی اوراس پر قابو پانے کیلئے ان کی مستقل مزاجی سے کی گئی کوششوں کو2010ء میںریلیز ہونے والی فلم ’’کنگز اسپیچ‘‘ میں دکھایا گیا ہے۔ جارج ششم کی موت کے بعد1952ء میں صرف 25 برس کی عمر میںالزبتھ ملکہ بنیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ اس معاملے پر چرچ کے موقف میںنرمی آئی اور2018ء میں شہزادہ ہیری کی طلاق یافتہ امریکی اداکارہ میگھن مرکل سے شادی پر چرچ آف انگلینڈ معترض نہیںہوا۔ یہ اتفاق ہی کا نتیجہ تھا کہ ان کے والدکے بڑے بھائی نے محبت کی خاطر تاج کو ٹھکرادیا جس کے بعد بادشاہت پہلے ان کے والد کو ملی اور پھر ملکہ الزبتھ کے حصے میں آئی۔ آج وہ اس منصب پر سب سے طویل عرصے تک فائز رہنے والی برطانوی حکمران بن چکی ہیں۔ الزبتھ دوم اس دور میں ملکہ بنی تھیں جب برطانیہ 1946ء میںختم ہونے والی دوسری عالمی جنگ کے اثرات سے نکل رہاتھا۔ انہوں نے اپنے دور میں کئی وزرائے اعظم ، صدور، پوپ بدلتے دیکھے۔ سرد جنگ اور پھر سوویت یونین کا انہدام بھی اسی ستر سالہ تاریخ کا حصہ ہے۔

انہوں نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور کورونا کی عالمی وباء سے پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات بھی دیکھے۔ ان ستربرسوں میںدنیا کی سیاست اور سماج میں کئی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں لیکن وہ نہ صرف اپنے منصب پر برقرار رہیں بلکہ انہیں برطانیہ میں استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ملکہ کے طویل ترین دور میں برطانیہ کی بادشاہت کا تسلسل برقرار رہا ہے لیکن اس میں کئی جدتیں بھی آئیں۔ ان میںسے بعض نئی روایات کاآغاز انہوں نے ملکہ بننے سے پہلے کردیا تھا۔ 1945ء میں وہ فوجی خدمات انجام دینے والی شاہی خاندان کی پہلی خاتون بن چکی تھیں۔وہ جون1952ء کو جب ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی ہوئی تو یہ پہلا موقع تھاکہ اس شاہی تقریب کو براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا ۔ دنیا میں کروڑوں لوگوں نے پہلی بار یہ منظر ٹی وی پر دیکھا۔

تاجپوشی کی اس رسم کی براہ راست نشریات ٹی وی اور برطانوی شاہی خاندان کیلئے ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا۔ اس کے بعد سے عام شہریوں کو شاہی خاندان کی طرز زندگی اور رہن سہن سے متعلق معلومات تک مزید رسائی حاصل ہوئی۔ 1957ء میں پہلی مرتبہ کرسمس کے موقع پر ملکہ کا پیغام ٹی وی پر نشر ہوا تھا جسے انہوں نے عوام کے ساتھ براہ راست اور ذاتی سطح کے رابطے میںایک قدم آگے بڑھنے سے تعبیر کیاتھا۔

ملکہ الزبتھ 1970 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے پر گئیں تو اس موقع پر انہوں نے ایک اور نئی روایت کا آغاز کیا۔ اس دورے میں پہلی مرتبہ وہ عوام میںگھل مل گئیں، ان سے مصافحہ کیا اور عام لوگوںسے گپ شپ بھی کی۔ اس کے بعد سے عوامی مقبولیت کیلئے یہ طریقہ شاہی خاندان کا معمول بن گیا۔ خاص طور پر شہزادی ڈیانا کو اس طرح عوامی میل ملاپ سے سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔

سن1981ء میں ملکہ کے بیٹے شہزادہ چارلس کی ڈیانا سے شادی اساطیر ی انداز میںہوئی اور یہ جوڑاعالمی سطح پر عوامی توجہ کا مرکز بنا۔ لیکن بعدازاں جب یہ شادی ٹوٹی تو برطانیہ کے شاہی خاندان کے امیج کو بھی ٹھیس پہنچی۔

بعدازاں1990ء کی دہائی میںشاہی خاندان کی مقبولیت میںتیزی سے کمی آئی۔ 1992ء میں ملکہ کے چار میں سے تین بچوں کی شادیاں ٹوٹیں اور اسی لیے انہوں نے اسے شاہی خاندان کیلئے ’’ہولناک سال‘‘ قرار دیا۔ اگست 1997میں شہزادی ڈیانا کی پیرس میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاکت کو عوامی سطح پر ایک صدمہ تصور کیاگیا۔ برطانیہ میں اس سانحے پر ملکہ کی لاتعلقی کو محسوس کیاگیا۔

اس موقع پر قومی پرچم کو سرنگوں نہ کرنے اور حادثے سے متعلق ملکہ کی خاموشی پر بھی تنقید کی گئی۔ اس واقعے کے کئی دن بعد شدید عوامی دبائو پر بالآخر ملکہ نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بطور ملکہ اور دادی میں آپ سے مخاطب ہوں اور ہم اپنے اپنے طریقے سے اس صدمے سے گزرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ملکہ کی تخت نشینی کے60 برس مکمل ہونے پر2012ء میں ان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات منائی گئیں اور اسی برس لندن میں موسم سرما کے اولمپکس کا انعقاد بھی ہوا۔ مبصرین کے مطابق اس دور میں برطانیہ کے شاہی خاندان کی مقبولیت میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔ ملکہ کی ڈ ائمنڈ جوبلی تقریبات سے ایک برس قبل ان کے پوتے شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی شادی کی وجہ سے عوام کو خوشگوار پیغام ملاتھا۔ 2021ء کے اولمپکس نے اس جوش وجذبے کو دو چند کردیا۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران برطانیہ کے شاہی خاندان کو ایک بار پھر دو بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔

2020ء میں ملکہ کے پوتے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن امریکہ منتقل ہوگئے اور اپنے انٹرویو میںشاہی خاندان پر نسل پرستانہ رویے کا الزام عائد کیا۔ ہیری اور میگھن 2020ء میں شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اسی برس ملکہ منجھلے بیٹے شہزادہ اینڈریو پرجنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آئے۔ گزشتہ ماہ شہزادہ اینڈریو سے فوجی اعزازات واپس لے لیے گئے۔

اس فیصلے کو ان سے شاہی خاندان ان کے فاصلے اختیار کرنے کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔ 9اپریل 2021ء کو ملکہ برطانیہ کے شوہر پرنس فلپ کے انتقال کے ساتھ73 سال کا یہ ساتھ ختم ہوا۔ سات دہائیوں پر محیط اس سفر میں شہزادہ فلپ ہر وقت ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ شہزادہ فلپ کی موت کے بعد ملکہ کی حکمرانی کا وہ دور شروع ہوگیا ہے جس میںوہ اپنی زیادہ تر ذمہ داریاں اپنے جانشین پرنس چارلس کے سپرد کرچکی ہیں۔

بعض مبصرین ملکہ الزبتھ کے ستر سالہ دور کو ایک سنہرا دور قرار دیتے ہیں اور چارصدیاں قبل برطانیہ کی حکمران رہنے والی ان کی ہم نام ملکہ الزبتھ اول سے ان کا موازنہ کرتے ہیں۔ الزبتھ اول کے دور حکمرانی کو برطانیہ کیلئے عظیم ترین دور قرار دیاجاتا ہے۔ اس کے برعکس بعض مبصرین کے مطابق ملکہ کی سب سے بڑی کامیابی یہی رہی کہ وہ ہمہ گیر سماجی اورمعاشی تفیرات کے باوجود برطانیہ میں اپنے خاندان کی ملکویت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

لندن سٹی یونیورسٹی میںشاہی تاریخ کی پروفیسر اینا وائفلوک کے مطابق بادشاہت میں کسی حکمران کی سب سے بڑی کامیابی حکومت کا تسلسل اور جانشینی کو یقینی بنانا سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے، اس اعتبار سے ملکہ ایک کامیاب حکمران ہیں ۔ ملکہ انٹرویو نہیںدیتیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی سیاسی موضوعات پر اپنی رائے کااظہار کیا ہے۔ اپنا موازنہ الزبتھ اول سے کرنے پر ایک بار اپنے کرسمس پیغام میں انہوں نے کہاتھا کہ صاف بات یہ ہے کہ وہ خود کو اپنے عظیم اجداد جیسا محسوس نہیں کرتیں۔

ان کے قریبی مشیر نے ’’میڈیا‘‘ کو بتایا کہ ملکہ کے نزدیک ان کے دور حکومت سے متعلق تعین کرنا لوگوں کا کام ہے وہ خود اس بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیںسمجھتیں۔ برطانیہ میں بعض حلقے بادشاہت ختم کرنے کے حامی ہیں۔ ایسے افراد برطانیہ میں ’’ ری پبلک‘‘ کے نام سے ایک گروپ کی صورت میں منظم ہیں۔ ملکہ برطانیہ کے ستر سال مکمل ہونے پر اس گروپ نے ’’ مزید سترسال نہیں‘‘ کے عنوان سے مہم شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

ری پبلک سے تعلق رکھنے والے گراہم اسمتھ کا کہنا ہے کہ اگر چہ بادشاہت کے گن گانے والی ایک اقلیت ملکہ کے ستر سال مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کررہی ہے لیکن ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ دستور سے متعلق بحث کا ایک سنجیدہ موقع آپہنچا ہے۔ چارلس سربراہ مملکت کے طور پر بہترین انتخاب نہیں ہیں۔

بطور قوم ہم اپنے سربراہ کے انتخاب کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں آج بھی برطانوی عوام کی اکثریت ملک میں بادشاہت کے حامی ہیں اور ملکہ بھی عوام میں مقبول ہیں ۔ لیکن ان کے بڑے بیٹے اور جانشین چارلس کیلئے عوام میںزیادہ حمایت نہیں پائی جاتی۔ ایک سروے کے مطابق نوجوانوں میں بادشاہت کی مخالفت میںاضافہ ہورہا ہے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button