شرجیل امام کی درخواست ضمانت، دہلی ہائیکورٹ میں سماعت

امام نے گزارش کی ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ نے تعزیرات ہند میں بغاوت سے متعلق دفعہ کو موخر کر دیا ہے، اس لیے ان کے کیس میں بھی ضمانت دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ امام کو دہلی پولیس نے 2020 میں بہار کے جہان آباد علاقے سے گرفتار کیا تھا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ 26 مئی کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سماعت کرے گی کہ جن لوگوں پر غداری کا الزام ہے وہ راحت کے لیے عدالتوں میں جا سکتے ہیں۔

امام نے گزارش کی ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ نے تعزیرات ہند میں بغاوت سے متعلق دفعہ کو موخر کر دیا ہے، اس لیے ان کے کیس میں بھی ضمانت دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ امام کو دہلی پولیس نے 2020 میں بہار کے جہان آباد علاقے سے گرفتار کیا تھا۔

دہلی پولیس نے ایک چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے مرکزی حکومت کے خلاف نفرت، حقارت اور بے اطمینانی کو بھڑکانے والی تقاریر کیں اور ایک کمیونٹی کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونےکے لیے اکسایا، جو ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے۔

دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے 24 جنوری کو امام کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے(بغاوت)، 153 اے (مذہب کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ دینا)، 153 بی(قومی یکجہتی کے لیے تعصب پر مبنی دعوے)، 505 (عوامی فساد کو ہوا دینے والے بیانات) اور یو اے پی اے کی دفعہ 13 (غیر قانونی سرگرمیوں کی سزا)کے تحت الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔

انہوں نے 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور 16 دسمبر 2019 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دی گئی مبینہ اشتعال انگیز تقریروں سے متعلق 2020 کی ایف آئی آر کے سلسلے میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔

استغاثہ نے ضمانت کی درخواست کی یہ دعویٰ کرتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ امام کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور وہ گواہوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں یا شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں۔ضمانت کی درخواست کی سماعت 26 مئی تک ملتوی کر دی گئی کیونکہ دہلی ہائی کورٹ کے جج سدھارتھ مردول اور رجنیش بھٹناگر منگل کو جمع نہیں ہوئے تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button