شمالی کوریا کا سب سے طاقتور میزائل کا تجربہ

ایجنسی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میزائل مشرقی سمندر (جاپان سمندر) کی جانب داغا گیا۔

سیول: شمالی کوریا نے اتوار کو بحیرہ جاپان کی طرف ایک نامعلوم میزائل کا تجربہ کیا۔یہ اطلاع جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں دی ہے۔

ایجنسی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میزائل مشرقی سمندر (جاپان سمندر) کی جانب داغا گیا۔

اس سلسلہ میں جے سی ایس کی طرف سے مزید کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔دریں اثنا، جاپانی کوسٹ گارڈ نے اتوار کی صبح شمالی کوریا کی طرف سے ممکنہ میزائل لانچ کی وارننگ جاری کی اور جہازوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔

اگر اس میزائل تجربہ کی سرکاری طور پر تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا ساتواں میزائل تجربہ ہوگا۔جنوبی کوریائی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے درمیانے فاصلہ تک مار کرنے والا بیالسٹک میزائل داغا ہے۔

جاپانی حکومت کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ بیالسٹک میزائل درمیانے یا طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر نے اس ضمن میں خبر دار کیا ہے کہ شمالی کوریا کشیدگی پیدا کرنے سے باز رہے اور مذاکرات پر واپس آئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا کے اس نئے میزائل تجربے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

شمالی کوریا نے ایک ایسے میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے 2017 کے بعد سے اب تک اس ملک کی جانب سے کیا جانے والا سب سے بڑا میزائل تجربہ سمجھا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا سے آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ میزائل اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق7:52 بجے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے لانچ کیا گیا۔

جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ سبھی نے اس میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کو بیالسٹک اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے منع کر رکھا ہے اور اس پر سخت پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔لیکن شمالی کوریا کی مشرقی ایشیائی ریاست باقاعدگی سے ان پابندیوں کو توڑتی رہتی ہے، اور رہنما کم جونگ اْن نے اپنے ملک کے دفاع کو بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ اتوار کو ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل (IRBM) کا تجربہ کیا گیا، جو نومبر 2017 کے بعد سب سے بڑا میزائل تجربہ ہے۔جاپانی اور جنوبی کوریا کے حکام کا اندازہ ہے کہ یہ میزائل 2000 کلومیٹر (1240 میل) کی بلندی تک پہنچا اور اس نے 30 منٹ تک 800 کلومیٹر (500 میل) تک پرواز کی جس کے بعد یہ بحیرہ جاپان میں جا گرا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ تجربات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اور اس نے شمالی کوریا سے اشتعال انگیزی سے باز رہنے اور بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کا کہنا ہے کہ جنوری کے میزائل تجربات نے 2017 کے ان دنوں کی یاد تازہ کر دی ہے جب شمالی کوریا نے کئی جوہری تجربات کیے تھے۔

واضح رہے اگست 2017 کی ایک شام شمالی کوریا نے بغیر کسی پیشگی وارننگ کے ایک دور تک مار کرنے والے میزائل کا ٹیسٹ کیا تھا جو جاپان کے اوپر سے گزرتا ہوا بحرہ الکاہل میں جا گرا تھا۔ شمالی کوریا کا یہ قدم بہت دلیرانہ تھا۔نئے سال سے پہلے ایک خطاب میں شمالی کوریا کے رہنما نے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ فوج کومضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button