طنز و مزاحمضامین

نقلِ مکانی اور ہم

محمد اسد اللہ

ہم اپنی نقل ِ مکانی کا تذکرہ کیوں نہ اس دعا سے شروع کریں جو ہمارے دوست ربّانی صاحب نے ہمارے حق میں کی۔ ہوا یوں کہ ہم نے انھیں یہ اطلاع دی کہ ہماری خانہ بدوشی کا سلسلہ اب بھی قائم ہے اور ہم پھرایک نئے مکان میں منتقل ہوگئے ہیں تو انہوں نے چونک کر پوچھا،
”کیا نیا مکان خرید لیا ہے؟“
”بھئی ہم ایسے خوش نصیب کہاں!“ ہم نے جواباً کہا۔
”بس یوں سمجھ لیجیے کہ اس بارپھر ایک نئے مالکِ مکان نے ہمیں خرید لیا ہے۔“
(کرایہ کے مکان میں رہتے ہوئے ہمیں تو ہر بار یہی محسوس ہوتارہا ہے۔)
ہمیں پتہ تھا، اب یہ پوچھا جائے گا کہ، مکان چھوڑنے کی وجہ کیا تھی۔ لہٰذاخودہی بتا دیا کہ اس مکان میں کئی پریشانیاں تھیں۔
”افوہ! خیر کوئی بات نہیں خدا کرے آپ کسی کرائے کے مکان میں چین سے نہ رہیں۔“ہم حیرت سے ربّانی صاحب کامنہ تکنے لگے۔ انھیں تو چاہیے تھا کہ ہمارے ایک مکان سے دوسرے میں انتقال کرجانے پر کوئی رسمی سا تعزیتی جملہ ادا کرتے، مالک مکان کی چنگیزیت پر بلیغ تبصرہ کرتے اور پڑوسی کرایہ دارکی ایذارسانی پرہمیں تسلی دیتے، ان کی یہ بد دعا سن کر ہم سے نہ رہا گیا۔
”یا ربّانی، زخموں پر نمک چھڑکنے کے کچھ شریفانہ طریقے بھی ہمارے سماج میں رائج ہیں اور صاف گوئی کا دعویٰ کرنے والے بھی اس ہتھیار کو اسی وقت استعمال کرتے ہیں جب انھیں جھوٹ بولنا ہو۔ بھلا تمھیں کیا ہوا جو کھلے لفظوں میں مجھ سے دشمنی کا اظہار کر رہے ہو؟“
اس پردہ صفائی پیش کرتے ہوئے بولے،
”ڈاکٹرصاحب،یہ بات نہیں ہے میں نے جو یہ کہا کہ آپ کسی کرائے کے مکان میں خوش نہ رہیں تو اس کا مطلب بس اتنا ہے کہ میں چاہتا ہوں، اب آپ اپنا ذاتی مکان بنا نا شروع کر دیں۔ کیوں کہ کسی کرائے کے مکان میں آپ چین سے رہنے لگے تو پھر ہمیشہ وہیں کے ہو رہیں گے۔“
کاش! مکان بنانا اس قدر آسان ہوتا کہ کرایہ کے مکان میں رہ کر پیش آنے والے عبرت آموز تجربات سے عبرت حاصل کی اورمکان بنالیا۔ مکان بنانے کے لیے عبرت کی نہیں دولت کی ضرورت ہے۔ یہ سچ ہے کہ کرائے کے مکانوں کو بھگتنے والا سوائے مکان بنانے کے کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتا۔ البتہ کچھ لوگ تو کرایہ ادا کرنے کے بعد اس قابل نہیں رہ جاتے کہ،کچھ سوچ سکیں۔
مثلاًمیراایک دوست ہے سلیم۔
درجن بھر کرائے کے مکانوں میں رہ چکا ہے۔ مالی حالت کے پیشِ نظراسے یقین ہے کہ وہ زندگی بھر مکان نہیں بنائے گا۔ میری طرح وہ بھی مکان مالکوں کا ستایا ہوا ہے۔ چنانچہ اب وہ بجائے مکان بنانے کے ٹائم بم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے کہ کرایہ کا مکان چھوڑتے وقت اسے کسی کونے کھدرے میں چھوڑ کر چلا جائے۔
مکان بنانے کے لیے ایک عدد پلاٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ یوں تو ہمارے پاس کئی افسانوں، ناولوں اور فلمی کہانیوں کے پلاٹ پڑے ہیں جن پر ہم کئی افسانے اور ناول تعمیربھی کرچکے ہیں جن کے زیادہ ترہیرو ہماری طرح کرایہ دار ہیں۔ ولن اور ویمپ کے رول مالکانِ مکان کو دیے ہیں۔ اس کارِ خیر کے لیے کہیں کہیں پڑ وسیوں کو بھی چنا گیا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ میں ہر سال کیلنڈر کی طرح مکان بدلنے کا عادی ہو گیا ہوں۔ یہ رائے صحیح نہیں ہے، کیوں کہ کیلنڈر تو سال میں صرف ایک مرتبہ بدلا جاتا ہے اور مکان کا معاملہ یہ ہے کہ اسے کپڑوں اور سیاسی جماعتوں کی طرح جب جی چا ہے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ نقلِ مکانی کے مرتکب ہوئے ہیں تو اس سوال کا جواب دینے کے آپ کو تیار رہنا چاہیے کہ:
”آخر وہ مکان کیوں چھوڑ دیا؟“
پوچھنے والے کا اندازاکثر ایسا ہوا کرتا ہے گویاوہ آپ کے کردار کے متعلق شک وشبہ میں پڑ گیا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ یہ انتہائی فضول قسم کا سوال ہے۔ فضول ان معنوں میں کہ اس کا جواب ایک یادو جملوں میں دیا ہی نہیں جاسکتا، اس کے لیے ایک نئی داستانِ الف لیلیٰ سنانی پڑے گی۔ تاہم لوگوں کا منہ بندکرنے کے لیے آپ جوابات گھڑ لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ:
”وہ مکان بہت چھوٹا تھا اور کمرے بہت تنگ تھے۔“
حالا نکہ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ مالک مکان کا دل اس قدر چھوٹاتھا کہ،اس میں کسی ایسے آدمی کے لیے بالکل جگہ نہ تھی جو ا سے کرایہ نہ ادا کرتا ہو۔ یااس کا دماغ اتنا تنگ تھا کہ جمعہ کے دن ریڈیو پر آپ کا قوالیاں سننا تک اسے پسند نہ تھا۔
”آپ نے مکان کیوں چھوڑا؟“
اس کی وجہ مالک ِمکان اور پڑوسی کرائے دار بھی نہیں جانتے،بس یہ کہ ان کی حرکات وسکنات میں ایسی ڈرامائی تبدیلی رونما ہوتی ہے کہ اس کے کلائمکس تک پہنچتے پہنچتے آپ اپنے آپ کو ایک نئے مکان میں پاتے ہیں۔
کیلنڈر کا تبدیل ہو نا یہ ظاہر کر تا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے مگر مکان کی تبدیلی یہ بتاتی ہے کہ لوگوں کے دل و دماغ بدل گئے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ مالک ِمکان یا کرایہ دار جس کے بچوں کو آپ از راہِ خلوص مفت پڑھایا کرتے تھے، اب پاس ہوگئے ہیں اور اب ان کے والدین کو آپ سے برسرِ پیکار ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
آپ کی نقل ِمکانی اشارہ ہے اس طرف کہ ایڈوانس قبول کرتے وقت مالک ِمکان کے چہرے پر بچوں کی طرح پھیلی ہوئی مسکراہٹ سوکھی ہوئی پتیوں کی طرح جھڑگئی ہے اور اس کی مہربان نگاہیں خاردار ہوگئی ہیں،کیوں کہ گزشتہ ماہ کسی شخص نے اسے آپ کے کرائے سے دو سو روپئے زیادہ کا آفر دیا ہے۔ جاتے جاتے وہ بھلا آدمی یہ بھی کہہ گیا کہ:
”آپ کے موجودہ کرایہ دار آپ کے مکان کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے میرا تو یہاں سے آٹھ دس سال نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“
آپ کرایہ کا مکان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، یہ علامت ہے اس بات کی کہ آپ میں اپنے اعلیٰ افسران کو خوش رکھنے کی صلاحیت اب گھٹنے لگی ہے اسی لیے تو آپ پر مالکِ مکان کا عتاب نازل ہوا، کیوں کہ اس مخلوق کو کرایہ داروں کی نہیں رعایا کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ ایسی رعایا جو خود پر بھونکتی ہوئی کتیا کی بھی تعریف کرے اور کہے:
”ہاؤسویٹ، یہ کتنا پیارا بھونکتی ہے اس کے بھونکنے میں بھی کتنی اپنائیت ہے۔“
آپ کا کرایہ کے مکان سے نکل جانا ثبوت ہے اس بات کا کہ، آپ میں قوت برداشت کی کمی واقع ہونے لگی ہے۔ پڑوسی کے بچوں کا کرکٹ بال سے شیشہ توڑ دینا، مچھروں کا بھنبھنانا اور بجلی کے بل کا تین گنا بڑھ کر آنا، آپ کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے یا آنگن کی گندگی پڑوسیوں کی درندگی اور مالک ِمکان کی کرختگی سے بیزار ہوکر آپ نقِل مکانی پر اتر آئے ہیں۔
اس دنیا میں خدا نے کرائے دارشایداسی لیے بنائے ہیں تاکہ دنیاا نھیں دیکھے اور دہ دنیا کو دیکھیں اور دونوں کو دنیا کی بے ثباتی کا یقین ہو جائے، رشتوں اور وفاداریوں کا جھوٹ کھل جائے۔
کرایہ دار خواہ چاپلوسی کے ہمالیہ پہاڑ پرکیوں نہ چڑھ جائے،کرایہ وقت پرکیوں نہ ادا کرے، مالکِ مکان کے چشمِ ابرو کے اشارے پرکیوں نہ ناچے۔ مگر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوجاتا ہے کہ اسے نقلِ مکانی پر مجبور ہونا پڑتاہے۔
عام طور پر تین چار برسوں کے بعد صاحبِ خانہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کرایہ دار کے روپ میں ایک پودا اس کے مکان میں جڑیں پکڑنے لگا ہے لہٰذا وہ بیخ کنی پر آتا ہے۔ وہی مالکِ مکان جو آپ کے قدموں کی آہٹ پاکر سلام کرنے کے لیے باہر آجایا کرتاتھا اب دروازہ بند کرلیتا ہے کہیں و علیکم السلام نہ کہنا پڑے اورکسی نیک ساعت میں دعا قبول ہوگئی تو کرایہ دار دس بیس سال سلامتی کے ساتھ گزار کر دعویٰ کر بیٹھے گا کہ اب تو یہ مکان میرا ہے۔
یوں تو نقل ِمکانی ہراس شخص کا مقدر ہے جس کا ذاتی مکان نہ ہو، ذاتی مکان ہونے کے باوجود جولوگ نئے مکان کی جستجو کرتے ہیں تو گویا دہ ایک ہی مقام پر رہتے ہوئے اکتا گئے ہیں۔ ایک صاحب اپنے کرائے دار سے اس قدر پریشان ہوئے کہ خود کرائے کے مکان میں منتقل ہوگئے اور اپنی جگہ کسی پہلوان کو کرائے پر مکان دے دیا کہ لوہے کو لوہا کا ٹتا ہے۔
ہمارے پڑوسی شیخ صاحب کا بمبئی ٹرانسفر ہوا تو اپنا مکان کرایہ پر اٹھا دیا، اب دو سال بعد پھر لوٹ کر وطن آگئے ہیں اور کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور ہرماہ کرایہ دار کی منت سماجت کرتے ہیں کہ”بھائی خدا کے لیے مکان خالی کر دے۔“
جہاں اہلِ مکان کی نقلِ مکانی سیر و تفریح اور آوارگی ہے، وہیں بے مکانوں کی نقلِ مکانی ضرورت ہے۔ ایک قسم ان لوگوں کی بھی ہے جو مکان کی ضرورت کے پیشِ نظر نقلِ مکانی کے درجنوں تجربات سے گزر چکے ہیں، ان کی ضرورت ان کے لیے دلچسپ مشغلہ بن گئی ہے۔
انھیں مکان ڈھونڈتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی فنکار اپنے شاہکار کی تکمیل میں مصروف ہو۔ انھیں جب کوئی ڈھنگ کا مکان مل جاتا ہے تو لگتا ہے گویا زندگی میں کسی چیز کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ مکان ڈھونڈنے کی لذت سے محروم ہوگئے ہیں۔ پھر سوچتے ہیں اس مکان میں کیا کمی ہے۔ معلوم ہوا کہ پہلے جس مکان میں رہتے تھے وہ گراؤنڈ فلور پر تھا، وہاں سیلز مین، ملنے جلنے والے، فقیر، چندہ مانگنے والے ناک میں دم کیے رہتے تھے۔ اب تھرڈ فلور پر نیا مکان ملا ہے تو ایسا محسوس ہونے لگا گویا دنیا سے سنیاس لے لیا ہے۔
چنانچہ پھر ایسے مکان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں جہاں ملنے جلنے والوں کاتانتا بندھا ہے اور اسی تلاشِ مکاں کے دوراں یہ مصرع وردِ زباں رہتاہے:
اللہ کرے مرحلہ شوق طے ہو
٭٭٭