صحافی رجت شرما کو دھمکی آمیز فون کالس

چند دن بعد جنوبی دہلی کے گریٹر کیلاش علاقہ میں 4 افراد اپنی کار میں رجت شرما کی قیامگاہ پر پہنچے اور ان کے سیکوریٹی گارڈ سے ان کے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں دریافت کیا۔

نئی دہلی: سینئر ٹی وی جرنلسٹ رجت شرما دہلی پولیس سے رجوع ہوئے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ انہیں نامعلوم افراد سے دھمکی آمیز فون کالس موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے سیکوریٹی فراہم کرنے کی درخواست کی۔ ان کی درخواست پر دہلی پولیس کے اسپیشل سل نے خطرہ کا جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ فورس کے سیکوریٹی ونگ کو بھیج دی۔

 ذرائع نے اخبار دی انڈین اکسپریس کو بتایا کہ یہ شکایت چند دن پہلے انڈیا ٹی وی کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے درج کرائی گئی تھی۔ انہیں اپنے دفتر کے نمبر پر فون کال موصول ہوئی تھی اور فون کرنے والے نے شرما کو ختم کردینے کی دھمکی دی تھی، جو چینل کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔

 انڈیا ٹی وی کے عملہ نے اپنی شکایت میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا تھا کہ اس کے چند دن بعد ہی انہیں دھمکی آمیز فون کالس موصول ہوئی ہیں۔ چند دن بعد جنوبی دہلی کے گریٹر کیلاش علاقہ میں 4 افراد اپنی کار میں رجت شرما کی قیامگاہ پر پہنچے اور ان کے سیکوریٹی گارڈ سے ان کے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں دریافت کیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ رجت شرما گزشتہ کئی برسوں سے خانگی سیکوریٹی رکھتے ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد سیکوریٹی ماہرین نے ہمیں پولیس کی مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کی سیکوریٹی ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے اور ہم انہیں موصول ہونے والی دھمکیوں یا سیکوریٹی انتظامات کے بارے میں برسرعام تبادلہ خیال کرنا نہیں چاہتے۔

 انڈیا ٹی وی کی لیگل ہیڈ ریتیکا تلوار نے یہ بات بتائی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد اسپیشل سل نے ڈی سی پی جسمیت سنگھ کی نگرانی میں خطرے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ سنگھ نے اپنی رپورٹ دہلی پولیس کے سیکوریٹی وِنگ کو بھیج دی ہے۔ شخصی سیکوریٹی عہدیدار فراہم کرنے سیکوریٹی وِنگ ہی نوڈل یونٹ ہے۔

 رجت شرما کو پہلی مرتبہ دھمکی نہیں ملی ہے۔ 2012ء میں شرما نے دہلی پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی تھی اور کہا تھا کہ ان کے چینل پر ایک خودساختہ سوامی کے دعووں پر ایک پروگرام کے دوران سوال اٹھائے جانے کے بعد انہیں نامعلوم افراد سے فون پر دھمکیاں اور دھمکی آمیز پیامات موصول ہورہے ہیں۔ گریٹر کیلاش پولیس اسٹیشن میں انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کے تحت ایک کیس درج کرلیا گیا تھا۔

تبصرہ کریں

Back to top button