صدارتی الیکشن: آندھرا پردیش کی پارٹی کا 4 فیصد ووٹ شیئر

چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی زیر قیادت وائی ایس آر سی پی اور اڈیشہ کی حکمراں جماعت بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) ایسی دو جماعتیں ہیں جو مشکل کے وقت اور پارلیمنٹ میں اہم بلز کی منظوری میں نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت کی ہمیشہ سے ہی ضرورت پڑنے پر باہر سے حمایت کرچکی ہیں۔

امراوتی: آندھرا پردیش کی حکمراں جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایک بار پھر مرکز کی بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تائید کرے گی این ڈی اے، صدارتی الیکشن میں جو شیڈول کے مطابق جولائی میں منعقد شدنی ہیں، اپوزیشن سے 2فیصد ووٹوں سے پیچھے ہے۔

چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی زیر قیادت وائی ایس آر سی پی اور اڈیشہ کی حکمراں جماعت بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) ایسی دو جماعتیں ہیں جو مشکل کے وقت اور پارلیمنٹ میں اہم بلز کی منظوری میں نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت کی ہمیشہ سے ہی ضرورت پڑنے پر باہر سے حمایت کرچکی ہیں۔

وائی ایس آر سی پی کے قائدین نے صدارتی انتخابات کے تئیں تاحال اپنے موقف کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جگن موہن ریڈی کی سیاسی مجبوریوں اور اس جماعت کے سابقہ ٹریک ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پارٹی، آنے والے نازک دنوں میں بھی این ڈی اے کو بچا لے گی۔

صدارتی انتخابات کے الیکٹورل کالج میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ووٹوں کی قدر کا تخمینہ 4 فیصد ہے۔ اگر اپوزیشن، مشترکہ طور پر امیدوار کھڑا کرتا ہے تو ایسی صورت میں صدارتی انتخابات میں این ڈی اے کی کامیابی کو یقینی بنانے میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا اہم رول رہے گا۔

الیکٹورل کالج، ارکان لوک سبھا، راجیہ سبھا اور ریاستی اسمبلی پر مشتمل ہے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور اے پی اسمبلی میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان کے ووٹوں کی قدر کا تخمینہ43,674 لگایا گیا ہے جو چھوٹی پارٹیوں میں سب سے زیادہ ہے موجودہ حالات میں جگن موہن ریڈی، مخالف بی جے پی موقف اختیار نہیں کرسکتے۔

وہ آئینی عہدوں کو سیاسی رنگ دینے سے بھی گریز کریں گے۔ سیاسی تجزیہ نگار پی رگھویندر ریڈی نے یہ بات بتائی۔ آندھرا پردیش میں 2019 میں جب سے وائی ایس آر کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئی ہے تب سے اس کے مودی حکومت سے تعلقات بہتر رہے ہیں۔

حتیٰ کہ اے پی کی برسراقتدار جماعت نے 2017 کے صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن میں بھی این ڈی اے کی حمایت کی تھی علاوہ ازیں جگن کی جماعت طلاق ثلاثہ اور آرٹیکل 370 کی تنسیخ جیسے اہم بلز میں بھی مودی حکومت کی تائید کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ صدر جمہوریہ کے گزشتہ انتخابات میں اے پی کی ٹی ڈی پی اور تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت نے این ڈی اے کے امیدوار رام ناتھ کووند کی غیر مشروط تائید کی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button