صدارتی الیکشن: ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کے سی آر کی اپیل

چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ مودی کو حیدرآباد میں اپنے خطاب کے دوران ہماری جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب بھی دینا چاہئے۔ کے سی آر نے کہا کہ مودی کی شکل دیکھ کر سرمایہ کار ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے صدارتی انتخابات میں ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی۔ وہ آج جل وہار میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا کی تائید میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

 اس اجلاس میں ٹی آر ایس اراکین پارلیمنٹ اسمبلی وکونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یشونت سنہا اعلیٰ اقدات کے حامل شخص ہیں۔ بطور قانون داں کیرئیر کا آغاز کرتے ہوئے مختلف عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے ملک کی بہترین خدمت کی ہے۔

وہ کئی شعبوں میں وسیع ترتجربہ کے حامل ہیں۔ ہندوستانی سیاست میں یشونت سنہا نے اہم کردار ادا کیا۔ کے چندر شیکھر راؤ نے عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ صدارتی انتخابات میں ا پنے حق رائے دہی سے استفادہ کرتے ہوئے ضمیر کی آواز پر یشونت سنہا کو ووٹ دیں انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کے صدر کے جلیل القدر عہدے پر اعلیٰ معیار و اقدار کے حامل شخص کے انتخاب سے ملک کے وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔

 چیف منسٹر نے کہا کہ ملک میں قابل لحاظ تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کے دورے حیدرآباد اور 2 روزہ قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں پر صرف الزامات ہی لگائے جائیں گے۔

کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا کہ ان کی حکمرانی میں فروغ حاصل ہوا ہے۔ مودی سے ملک کے طول و عرض میں کوئی بھی طبقہ خوش نہیں ہے۔ مودی ملک کے لئے بطور وزیر اعظم ن ہیں بلکہ سیلز مین کام کررہے ہیں۔ مودی کے رویہ کے خلاف سری لنکا میں بھی احتجاج منظم کیا گیا تھا۔

کے سی آر نے مودی سے جاننا چاہا کہ سری لنکا کی جانب سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات پر مودی کیوں خاموش ہیں؟۔ اگر وہ ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں تو انہیں قصور وار ہی سمجھا جائیگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مودی کے9سالہ دور حکومت میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

ترقی کے نام پر ملک کو تباہ کردیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مودی نے ملک کو رشوت ستانی سے پاک کرنے کے متعلق بہت بڑی بڑی باتیں کہی تھیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ عوام کو بتائیں کہ ملک کو کتنا کالا دھن واپس لایا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی کے دور میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو فروغ حاصل ہوا۔

کالے دھن پر قابو تو نہیں پایا گیا مگر کالئے دھن میں دوگنا اضافہ ضرور ہوا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے جاننا چاہا کہ کیا ترقی اسی کو کہتے ہیں؟ کے چندر شیکھر راؤ نے نریندر مودی پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مودی بطور وزیر اعظم نہیں بلکہ اپنے دوست کیلئے ساہوکار کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سرکاری اداروں کا غلط استعمال کیا گیا۔

مودی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کا کسان، فوجی، بے روزگار افراد اور ملازمین  بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کا انداز کارکردگی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں کو بیرونی ممالک سے کوئلہ خریدنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ جبکہ ملک میں کوئلہ کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

 کے سی آر نے کہا کہ مودی کا لب ولہجہ میں مٹھاس اُسی وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب انتخابات قریب آتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے عوام میں غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے مودی سے جاننا چاہا کہ اگر زرعی قوانین درست تھے تو پھر ان سے کیوں دست برداری اخ،یار کی گئی ؔ؟۔

 آپ کو ملک کے کسانوں کے آگے سرخم کیوں کرنا پڑا۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ مودی کو حیدرآباد میں اپنے خطاب کے دوران ہماری جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب بھی دینا چاہئے۔ کے سی آر نے کہا کہ مودی کی شکل دیکھ کر سرمایہ کار ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

 گذشتہ 9سالوں کے دوران ملک میں کئی اسکامس وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ روپئے کی قدر میں مسلسلہ گرواٹ کو دیکھتے ہوئے مودی کے طرز حکمرانی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ مودی سے ان کے کوئی شخصی اختلافات نہیں ہیں، صرف ان کی سوچ اور انداز کارکردگی سے اختلاف ہے۔

 کے سی آر نے کہا کہ وہ خاموش رہنے والے نہیں ہیں اور اس عوام مخالف مرکزی حکومت کے خلاف جہد مسلسل جاری رکھیں گے۔ کے سی آر نے کہا کہ مودی کی جانب سے عوام کو زبانی جمع خرچ کے ذریعہ بہلا یا جارہا ہے۔

دن کی روشنی میں بھی ایک وعدہ ایساء نہیں ملے گا جو مودی کی طرف سے پورا کیا گیا ہو، مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرول، ڈیزل اور گیاس کی قیمتوں میں اضافہ کو عوام سے بدلہ لینے والے اقدامات قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ اگر چہ کہ وہ چاہیں گے کہ مودی ان کی جانب سے کئے گئے سوالات کا جواب دیں گے۔ مگر انہیں توقع نہیں ہے کہ مودی جواب دیں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button