صدرنشین نوودیا ایجوکیشن ٹرسٹ کے بیان پر ڈاکٹر رزاق استاد کی تنقید

اس دفعہ پر عمل آوری کیلئے سالوں سے جدوجہد کرنے والے، اپنی زندگی کا ایک حصہ اس جدوجہد کیلئے وقف کرنے والے ڈاکٹر رزاق استاد نے نمائندہ کو بتایا کہ ایس آر ریڈی کا بیان سراسر لغو و جھوٹ کا پلندہ ہے۔ پچھلے چند سالوں سے وہ اس دفعہ ا اطلاق اپنے ادارے پر نہ کرنے کیلئے حکومتی سطح پر کوشش کی۔

رائچور:علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی موقف اور مقامی امیدواروں کو تعلیمی و سرکاری ملازمت میں تحفظات فراہم کرنے والی دفعہ 371(J) کی مخالفت کرنا اور اس کا اطلاق نوودیا ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے چلائے جارہے مختلف طبی و ٹیکنیکی، انجینئرنگ تعلیمی اداروں کے داخلوں میں نہ کرنے کی عرضی ہائیکورٹ میں داخل کرنے پر مقامی عوام و قائدین کی برہمی کو دیکھتے ہوئے ٹرسٹ کے صدرنشین ایس آر ریڈی جو تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی نارائن پیٹ کے ٹی آر ایس رکن اسمبلی ہیں نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے خود کو موافق دفعہ 371(J) بتانے کی کوشش کی۔

اس دفعہ پر عمل آوری کیلئے سالوں سے جدوجہد کرنے والے، اپنی زندگی کا ایک حصہ اس جدوجہد کیلئے وقف کرنے والے ڈاکٹر رزاق استاد نے نمائندہ کو بتایا کہ ایس آر ریڈی کا بیان سراسر لغو و جھوٹ کا پلندہ ہے۔ پچھلے چند سالوں سے وہ اس دفعہ ا اطلاق اپنے ادارے پر نہ کرنے کیلئے حکومتی سطح پر کوشش کی۔

اس میں ناکامی کے بعد صرف قانونی پیچیدگیوں میں اس کو الجھاتے ہوئے داخلوں کو بغیر ایچ کے کوٹہ کے کرنے کے درپے ہیں۔ سال 2019ء سے وہ ہائیکورٹ میں درضی داخل کرتے ہوئے حیدرآباد کرناٹک کوٹہ کا اطلاق ان کے تعلیمی اداروں پر نہ کرنے کی درخواست پیش کرتے ہوئے حکومت کے اقدام پر حکم التواء حاصل کیا تھا جس کو حالیہ دنوں میں خارج بھی کیا گیا۔

اس کے باوجود ریاستی چیف سکریٹری کو دو مرتبہ خط لکھ کر بتایا کہ میرا ٹرسٹ جو تلگو لسانی اقلیتی موقف کا حامل ہے یہاں پر ایچ کے کوٹہ کے اطلاق سے تلگو لسانی اقلیتی طلبہ کو داخلوں میں دشواری پیش آرہی ہے لیکن ریاستی حکومت نے ان کو تلگو طلبہ جو اس حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

 اس کوٹہ میں داخلہ دینے پر زور دیا تھا چونکہ اس کی گنجائش دفعہ 371(J) میں موجود ہے لیکن وہ اس حلقہ کی بجائے ریاست بھر کے تلگو لسانی طلبہ کے داخلوں پر زور دیتے رہے ہیں جوکہ اس دفعہ کے یکسر خلاف ہے۔ یہ دفعہ پارلیمنٹ میں تمام پارٹیوں کی حمایت سے مرتب کی گئی جس کو کرناٹک اسمبلی نے بھی جوں کا توں قبول کیا۔

 اس قدر قانونی حامل دفعہ کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی حال میں اس دفعہ پر عمل آوری کے حق میں نہیں۔ اُن کے اس مخالف حیدرآباد کرناٹک موقف کے خلاف زبردست عوامی احتجاج کا آغاز ہوا ہے جب تک وہ اپنی ان حرکت سے باز نہیں آتے،  تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button