صدر سری لنکا‘ مالدیپ سے سنگاپور فرار

سری لنکائی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپاابے وردنا نے جمعرات کے روز کہا کہ انہیں ابھی تک صدر راجہ پکشا کا مکتوب ِ استعفیٰ موصول نہیں ہوا ہے۔ راجہ پکشا کو عہدہ پر برقرار رہنے تک اپنے خلاف قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے۔

مالے/ کولمبو: سری لنکا کے مشکلات میں گھرے صدر گوٹابایا راجہ پکشا جمعرات کے روز مالدیپ سے سنگاپور کے لئے روانہ ہوگئے۔ اپنے جزیرہ نما ملک کو درپیش بدترین اقتصادی و سیاسی بحران کے دوران انہوں نے ملک چھوڑدیا تھا۔ اسی دوران موصولہ اطلاع کے بموجب ایک سعودی پرواز جس میں راجہ پکشا سوار ہیں‘ آج مالدیپ سے سنگاپور پہنچی۔

 73 سالہ گوٹابایا راجہ پکشا جنہوں نے چہارشنبہ کے روز مستعفی ہونے کا وعدہ کیا تھا‘ ملک سے فرار ہونے کے چند گھنٹوں بعد انہوں نے وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے کو ملک کا کارگزار صدر مقرر کردیا جس کے ساتھ ہی سیاسی بحران میں اضافہ ہوگیا اور جزیرہ نما ملک میں احتجاج کی تازہ لہر شروع ہوگئی۔

 سعودی ایرلائن کی پرواز SV788 جس میں سمجھا جاتا ہے کہ صدر راجہ پکشا سوار ہیں‘ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے سنگاپور کے چانگی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچی۔ راجہ پکشا نے ہفتہ کے روز ان کی سرکاری قیام گاہ پر ہزاروں احتجاجیوں کے ہلہ بول دینے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ چہارشنبہ کے روز مستعفی ہوجائیں گے۔

سری لنکائی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپاابے وردنا نے جمعرات کے روز کہا کہ انہیں ابھی تک صدر راجہ پکشا کا مکتوب ِ استعفیٰ موصول نہیں ہوا ہے۔ راجہ پکشا کو عہدہ پر برقرار رہنے تک اپنے خلاف قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے۔

انہوں نے نئی حکومت کی جانب سے امکانی گرفتاری سے بچنے کے لئے استعفیٰ دیئے بغیر ملک چھوڑدیا۔ مالدیپ کی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر اور سابق صدر محمد نشید نے راجہ پکشا کے مالدیپ کو فرار کے لئے بات چیت کی تھی۔ مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں موجود ذرائع نے یہ بات بتائی۔

تبصرہ کریں

Back to top button