صومالیہ میں انتخابی تنازعہ کے درمیان وزیراعظم کی معطلی

صدر کے دفتر کے بیان میں بتایاگیا کہ صدر نے وزیراعظم کو معطل کرتے ہوئے ان کے اختیارات کو ختم کردینے کافیصلہ کیاہے کیونکہ وہ مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث تھے۔ انہوں نے روبلے پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک لینڈ گرابنگ کیس کی تحقیقات میں مداخلت کررہے تھے۔

موغادیشو: صومالیہ کے صدر عبداللہی محمد نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم حسین روبلے کے اختیارات کو معطل کردیا جبکہ طویل خانہ جنگی کے درمیان بالواسطہ بغاوت کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ اس تنازعہ میں دونوں قائدین نے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد پر ایک دوسرے کے خلاف الزامات کاتبادلہ کیاتھا۔

صدر کے دفتر کے بیان میں بتایاگیا کہ صدر نے وزیراعظم کو معطل کرتے ہوئے ان کے اختیارات کو ختم کردینے کافیصلہ کیاہے کیونکہ وہ مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث تھے۔ انہوں نے روبلے پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک لینڈ گرابنگ کیس کی تحقیقات میں مداخلت کررہے تھے۔

بیان میں بتایاگیا کہ کرپشن کی پاداش میں بحریہ کے کمانڈر کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں اور انہیں معطل کردیاگیا ہے۔ اس کے جواب میں روبلے کے دفتر نے اس بیان کو شرمناک قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر پر بتایا کہ وزیراعظم کے عہدہ پر فوج کے اختیارات حاصل کرنے کی کوشش قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ایک علحدہ تحریر میں بتایا کہ روبلے قابل قبول انتخابی کاروائی کے انعقاد کی اپنی قومی ذمہ داری کی تکمیل کے پوری طرح پابندی عہد ہے جبکہ انتخابات کے ذریعہ پرامن اختیارات کی منتقلی عمل میں آئے گی۔ نائب وزیر اطلاعات عبدالرحمن یوسف عمر نے صدر کے فیصلہ کو بالواسطہ بغاوت قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ آج صبح جو کچھ ہورہاہے وہ بالواسطہ بغاوت ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے فیس بک پر یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ روبلے کے دفتر کے اطراف سیکیورٹی فورسس کی تعیناتی سے وزیراعظم کے فرائض انجام دہی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

آج ٹوئٹر تحریر میں صومالیہ میں امریکی سفارتخانہ نے بتایا کہ وہ صومالیائی قائدین پر شدید زور دے رہے ہیں کہ وہ موغادیشو میں کشیدگی کو دور کرنے فوری اقدامات کرتے ہوئے اشتعال انگیز اقدامات کے علاوہ تشدد سے گریز کریں۔ صدر جو عام طور پر فارما جو کے نام سے مشہور ہیں ان کے اقدام سے ایک دن قبل روبلے کے ساتھ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں روبلے پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔

یکم نومبر کو شدید تاخیر کے ساتھ انتخابات کاآغاز ہوا اور سمجھاجاتاتھاکہ وہ 24 دسمبر تک مکمل ہوجائیں گے لیکن ایک نومنتخب قانون ساز نے بتایا کہ 275 کے منجملہ صرف24نمائندوں کو منتخب کیاگیاہے۔ کل جاری کردہ بیان میں فارماجو کے دفتر نے بتایا کہ روبلے انتخابی کاروائی کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔

بعدازاں روبلے کے دفتر نے اپنا بیا ن جاری کرتے ہوئے بتایا کہ صدر نے قومی انتخابات کو ناکام بنانے کے لیے بہت زیادہ وقت توانائی اور سرمایہ خرچ کیاہے اور وہ انتخابی کاروائی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ بیان میں روبلے نے بتایا کہ وہ انتخابات میں تیزی پیدا کرنے کے طریقہ کار کاپتہ چلانے کے لیے میٹنگس منعقد کریں گے۔

انہوں نے بروقت اور شفاف انتخابات کی قیادت کے لیے ایک قابل قیادت سے اتفاق کیا۔ تاہم انہوں نے اس کاروائی کی طوالت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ صومالیہ کے پیچیدہ بالواسطہ انتخابی پراسس کے ذریعہ علاقائی کونسل سنیٹ کاانتخاب کرتے ہیں۔

قبیلہ کے بزرگ بعدازاں ایوان زیریں کے ارکان کا چناؤ کرتے ہیں جبکہ اس کے بعد نئے صدر کاانتخاب عمل میں آتاہے۔فارماجو کے انتخاب سے ٹکراؤ کی صورتحال دوبارہ پیدا ہوگئی جبکہ اس سے قبل اس کی یکسوئی اس وقت ہوئی تھی جبکہ صدر نے روبلے کو سیکیورٹی کو انچارج بناتے ہوئے 30 سال سے زائد عرصہ میں پہلی مرتبہ راست انتخابات کا انعقاد عمل میں لایاتھا۔

روبلے سے مربوط سیکیورٹی فورسس کے گروپس نے دارالحکومتی علاقہ پر اپریل میں قبضہ کرلیاتھا اور جبکہ وزیراعظم اور اپوزیشن نے صدر کی میعاد میں مزید دو سال کی توسیع کے اقدام کی مخالفت کی تھی۔ دونوں گروپس کے درمیان جھڑپوں میں 60 ہزار تا ایک لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

تھنک ٹینک کے مبصر نے الجزیرہ کو بتایا کہ وزیراعظم آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے آج قومی کانفرنس منعقد کرنے کامنصوبہ بنارہے ہیں۔ صدر نے پھر ایک مرتبہ مداخلت کرتے ہوئے حقیقی غیریقینی اور خطرہ کے حالات پیدا کردیئے ہیں۔صومالیہ میں 1991 سے محدود مرکزی حکومت رہی ہے اور وہ اقوام متحدہ کی مدد سے اپنی تعمیر نو کی کوشش کررہاہے اور ساتھ ہی ساتھ القاعدہ سے مربوط الشباب مسلح گروپ کے خلاف بھی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button