ضمنی الیکشن میں ٹی آر ایس امیدوار کی شکست، کے سی آر افسردہ

بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس سربراہ و چیف منسٹر کے سی آر نے ضلع کریم نگر کے ساتھ حلقہ کے پارٹی قائدین سے ٹی آر ایس امیدوار جی سرینواس یادو کی شکست کی وجوہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

حیدرآباد: حکمراں جماعت ٹی آر ایس کی جانب سے تیز وتند انتخابی مہم چلانے اور ووٹروں کو لبھانے کیلئے دلت بندھواسکیم کو متعارف کرانے اور دیگر وعدوں کے باوجود حلقہ اسمبلی حضور آباد کے ضمنی الیکشن میں بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر نے مسلسل کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک ریکارڈ بنایا ہے۔

حلقہ سے ای راجندر کی دوبارہ کامیابی، چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو شائد ہضم نہیں ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس سربراہ و چیف منسٹر کے سی آر نے ضلع کریم نگر کے ساتھ حلقہ کے پارٹی قائدین سے ٹی آر ایس امیدوار جی سرینواس یادو کی شکست کی وجوہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

ضمنی انتخاب میں حکمراں جماعت کے امیدوار جی سرینواس یادو کو تقریباً24ہزار ووٹوں سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ٹی آرایس سربراہ نے پارٹی امیدوار کی شکست کی وجوہات پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ رائے دہی سے قبل کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابی مہم کے انچارج ٹی ہریش راؤ، وزراء اور پارٹی کے کلیدی قائدین سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے انتخابی مہم پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

کے سی آر کے بشمول پارٹی کے سرکردہ قائدین کو یقین تھا کہ جی سرینواس یادو، ای راجندر کی کامیابی کے سلسلہ کو روکتے ہوئے بحیثیت ایم ایل اے منتخب ہوجائیں گے مگر نتائج، ٹی آر ایس قیادت کے توقعات کے برعکس آئے۔

ٹی آر ایس نے سرینواس یادو کو کامیاب بنانے اور ای راجندر کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے طوفانی مہم چلائی تھی اور اس سلسلہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر حلقہ کے رائے دہندوں نے حکمراں جماعت کی لاکھ کوششوں کے باوجود ایٹالہ راجندر پر اعتماد کیا اور انہیں ایک بار پھر اسمبلی کیلئے روانہ کردیا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button