ضمنی الیکشن میں کامیابی، ای راجندر کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت

اگرچیکہ ایٹالہ راجندر نے بی جے پی ٹکٹ سے ضمنی الیکشن لڑا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ زعفرانی جماعت حضور آباد میں راجندر کی عوامی مقبولیت پر سوار تھی اسی حلقہ میں ای راجندر سے قبل ایسا مضبوط و عومی قائد نہیں تھا۔

حیدرآباد: حکمراں جماعت ٹی آر ایس کے ساتھ سخت مقابلہ کے باوجود حلقہ اسمبلی حضور آباد سے کامیابی کے تسلسل کے برقرار رکھتے ہوئے ای راجندر نے سیاسی بصیرت و قائدانہ صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔

اگرچیکہ ایٹالہ راجندر نے بی جے پی ٹکٹ سے ضمنی الیکشن لڑا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ زعفرانی جماعت حضور آباد میں راجندر کی عوامی مقبولیت پر سوار تھی اسی حلقہ میں ای راجندر سے قبل ایسا مضبوط و عومی قائد نہیں تھا۔

ٹی آر ایس قیادت نے جنہوں نے ضمنی الیکشن کو ایک غیر اہم اور چھوٹا انتخاب قرار دیا تھا، لاکھ کوششوں کے باوجود ایٹالہ راجندر کو اسمبلی میں داخلہ سے روکنے میں ناکام ثابت ہوئی۔

عوام کے مختلف طبقات کو مراعات دینے کیلئے حکومت نے دلت بندھو اسکیم کو بھی نافذ کیا اور حکمراں جماعت نے رائے دہندوں کو لبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

دوسری طرف ای راجندر نے ”متاثر“ کارڈ کا کامیابی کے ساتھ استعمال کیا اور انہوں نے اپنے وسیع تر سیاسی تجربہ کو جنہوں نے ٹی آر ایس میں رہتے ہوئے بحیثیت قائد حاصل کیا تھا، موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اس باوقار انتخابی لڑائی جیت لی۔

اسمبلی الیکشن میں تسلسل کے ساتھ7 ویں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کے اس عظیم قائد نے حلقہ کے رائے دہندوں کو یہ قائل کرانے میں کامیابی حاصل کی کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انہیں غیر منصفانہ اور غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا ہے۔

کے سی آر نے ان پر ضلع میدک میں ان (ای راجندر) کے خاندان کے پولٹری بزنس کیلئے چند کسانوں کی اراضیات پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ای راجندر نے ضمنی الیکشن میں عزت نفس کے مسئلہ کو کامیابی کے ساتھ پیش کیا اور انہوں نے الیکشن کو عزت نفس کو یہ مقابلہ کے سی آر کے غرور وتکبر اور آمرانہ طرز حکومت بنادیا۔

بی جے پی میں ان کی شمولیت کو ٹی آر ایس نے اراضیات پر قبضہ کو برقرار رکھنے کا ایک حربہ قرار دیا تھا۔ ٹی آر ایس قیادت کے ان الزامات کا حلقہ کے رائے دہندوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔56 سالہ قائد نے یہ ثابت کردیا کہ حلقہ میں پارٹی وابستگی سے زیادہ ان کا مستحکم قد اور دبدبہ ہنوز برقرار ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button