طالبان جنگجوؤں کو خانگی گھر چھوڑ دینے کا حکم : وزیراعظم حسن آخند

یہ بظاہر ایک کوشش ہے تاکہ طالبان کی صفوں میں نظم پیدا کیاجاسکے۔

کابل: طالبان نے آج اپنے جنگجوؤں کو حکم دیاکہ وہ خانگی گھروں ودفاترکو جہاں وہ گذشتہ ماہ کے معرکہ کے دوران جبکہ گروپ نے افغانستان پر قبضہ کرلیاتھا رہنے لگے تھے چھوڑدیں۔ یہ بظاہر ایک کوشش ہے تاکہ طالبان کی صفوں میں نظم پیدا کیاجاسکے۔

اسی دوران دارالحکومت کابل میں طالبان نے خواتین کی ریالی کو منتشرکرنے کیلئے گولیاں چلائیں جو مساوی حقوق کا مطالبہ کررہی تھیں جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس کے علاقائی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان بہت بڑے انسانیت کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔

جبکہ موسم سرما آنے والا ہے اور ملک میں شدیدترین مالیاتی قلت پیدا ہوئی ہے۔ طالبان وزیراعظم حسن آخند کی جانب سے یہ احکام طالبان حکام کی جانب سے حالیہ کھلے عام بیانات کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔

جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تنظیم کو بہتربنانے اور مارشل فائٹرس کو لڑائی لڑنے کے پہلے سے بھی زیادہ قابل بنانے کے منصوبے تیارکئے جارہے ہیں۔

یہ بتایاگیا ہے کہ طالبان کے دفاع‘داخلہ اور انٹلیجنس کے اداروں سے تعلق رکھنے والے ارکان جو خانگی گھروں میں رہ رہے ہیں ان کو سارے ملک میں واقع فوجی اڈوں کو واپس آکر رپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

کابل میں آج طالبان نے ایک مقامی اسکول کے اندر 6 خواتین کی چھوٹی سی ریالی کو منتشرکرنے کیلئے گولیاں چلائیں جو تعلیم کے لئے مساوی حقوق پر زوردے رہی تھیں۔

انہوں نے خواتین کے پاس رہنے والے پوسٹرس کو ضبط کرلیا جن پر ”ہماری کتابوں کو نہ جلاؤ“ لکھا ہوا تھا۔

دوسری خواتین پڑوسی علاقہ کرتِ چار میں احتجاج میں حصہ لینے کیلئے آئیں جن سے بعد میں کہاگیا کہ وہ گھر چلے جائیں۔

کیونکہ طالبان کی کاروائی کا اندیشہ تھا۔ بعدازاں طالبان کے عہدیدار مولوی نصراللہ نے اخباری نمائندوں کوبتایاکہ خواتین نے ریالی کیلئے اجازت حاصل نہیں کی تھی۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button