عازمین حج کیلئے چند تجاویز و مشورے

وطن عزیز میں ظالموں کے شر سے ملت کے جان ومال،عزت و آبرو کی حفاظت اور شرپسندوں کے عزائم کوناکام بنانے کیلئے خاص دعاء کریں۔

شیخ بشارت احمد صدیقی
ٹولی چوکی۔ فون نمبر 9246177335

چیک لسٹ: چھوٹی قینچی، شمپو پاکٹ، ٹوتھ پیسٹ، برش، مسواک، تسبیح، ٹوپی، 3 جوڑے ہوائی چپل، حصیر، ناخن تراش، ناڑے کا بنڈل ناڑادانی، سوئی دھاگہ صابن دانی، چٹ پٹے نمکین، چائے پتی، دوائیں، چھوٹی نوٹ بک، 2بال پین، جوس کے چھوٹے ٹیٹراپیک بوتل، آئینہ، کنگھا، سرکاتیل (عورتوں کیلئے) سوکھے انجیر، بادام، پستہ نمکین، سوکھے کھجور، کشمش، ان کے چھوٹے چھوٹے 40پاکٹ بنائیں روزانہ حرم میں زیادہ دیر بیٹھے وقت کھاکر زم زم پینے سے بھوک کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ٹشوپیپر، عینک کی ڈوری، ایک زائد عینک، زندہ طلسمات اور بنک والے جوبیگ دیتے ہیں ضروری ساتھ لے جائیں، پاسپورٹ زیراکس، ایک سوٹ کیس میں رکھیں ایک اپنے ساتھ ، چھوٹی نوٹ بک میں اہم فون نمبرات ضرور لکھ کر رکھیں (فون کی خرابی پر مفید رہے گی)

منیٰ کیلئے بیاگ: ہینڈبیگ عورت ومرد کیلئے الگ الگ ایک شال، ایک جوڑا کپڑے احرام کھولنے کے بعد پہننے کیلئے، حصیر، ٹوپی، تسبیح، مسواک، ڈرائی فروٹ، کچھ سیب، جوس کے باٹل، اچار، لیمن رائس، ایک جوڑی چپل، منیٰ روڈ میاپ، ٹرین روڈ میاپ(حج مشن پر دستیاب رہتے ہیں) قربانی کے کوپن، ایک توال میڈیم سائز کی، دعاؤں کی کتابیں کنکریوں کیلئے چھوٹی تھیلی، سوریال چلر بنا کرر کھیں ۔

عرفات کیلئے :پیٹھ کے بیاگ میں حصیر، ایک شال، دوائیں، دعاؤں کی کتابیں ،کھانے کیلئے کچھ ضروری اشیاء ساتھ رکھیں، پانی کم پیئں۔

٭ مدینہ منورہ کیلئے اچھے معتدل خوشبوواے عطر ساتھ لے جائیں اور حاجیوں کو لگائیں۔

٭گھر سے نکل کر گھرواپس آنے تک تین باتو ںکاخاص خیال رکھیں۔

پہلا صبر، دوسراصبر، تیسراصبر۔ حج کے پورے سفرکا بھر فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ تاریخ مکہ ومدینہ، تاریخ اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ ان مقامات کے چپے چپے پر تاریخ کے انمٹ نقوش موجود ہیں۔ جس سے آپ کے خشوع وخضوع میں اضافہ ہوگا۔

٭ ضروری دوائیں اورڈاکٹر کی چٹھی ہمیشہ اپنے ہینڈبیگ میں ساتھ رکھیں۔ ٭ وہاں کے کبوتروں کیلئے باجرہ یامسورکی دال لے جاکر ڈالیں۔٭ دوسروں کی مدد کرتے ہوئے کیا جانے والا حج زیادہ مقبولیت کا درجہ رکھتا ہے ۔٭ یہاں سے جاتے وقت ایک جوڑی کپڑے، ایک احرام، کچھ کھانے کی ضروری چیزیں جو س وغیرہ اپنے ہینڈکیری میں ساتھ رکھیں تاکہ اگر آپ کا سامان کسی وجہ سے کہیں رک جائے تو آپ کو اپنے مناسک اور زیارت کیلئے رکنانہ پڑے۔باوضو رہیں اور جہاز اڑنے کے بعد کھانا کھا کر عمرہ کی نیت کرسکتے ہیں ٭ جدہ ایر پورٹ پر اترنے کے بعد سے امیگریشن، لگیج، معلم کی بسوںمیں بیٹھنا معلم کی آفیس پر انٹری وغیرہ کرنے کے بعد اپنے روم پہنچنے تک کم از کم ۶تا۸ گھنٹے لگتے ہیں، نہایت صبر کامظاہرہ کریں خواتین کو کہیں بیٹھا کر لگیج اکھٹے کریں۔

٭ ہمیشہ دعاء کریں کہ دوران سفر، نمازوں میں حج میں اچھے نیک اور مخلص ساتھی نصیب ہوں، یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ ہی کی طرح تمام حاجی بھی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور بلائے گئے مہمان ہیں، کبھی ناگواری ہوتو صبرکرلیں۔ ٭ جدہ ایرپورٹ پر بسوں میں بیٹھنے سے پہلے ایک آدمی اپنے سامان کو بسوں میں چڑھاتے وقت نگرانی کریں، اگردرمیان میں کوئی کہیں اتررہے ہوں تو خودبھی اترنے والے سامان کو چیک کرلیں کہ کہیں اپنا سوٹ کیس تو نہیں۔ ٭ طیارہ میں لفٹ میں بسوں میں حرم میں بھیڑمیں صبر اوربرداشت کرنے کی عادت ڈالیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ دھکم دھکی میں جھگڑا کھڑا ہوجاتاہے۔ ٭ رہائشی بلڈنگ سے عمرہ کیلئے نکلتے وقت کا ؤنٹرسے بلڈنگ کا ویزیٹنگ کارڈتمام افراد کیلئے ضرور لیں اوراپنے اپنے بیگ میں رکھیں راستہ بھول جائیں تو واپس لوٹنے میں سہولت ہوگی۔

٭ حرم شریف اور مسجد نبویؐ میں آب ز م زم کے ۵، ۷ ڈبے لائن سے رکھے ہوتے ہیں درمیان میں ہرے یااودے پینٹ سے ’’غیرمبرد‘‘ لکھاہوتا ہے وہ سادہ پانی ہوتاہے وہی استعمال کریں۔ بقیہ ایک دم ٹھنڈے ہوتے ہیں سادہ پانی پینے سے گلے کا انفکشن نہیں ہوگا۔ ٭ حرم میں جانے کے بعدوقت ضرورت ہی سادہ زم زم پئیں؍ زیادہ پینے سے حرم میں طہارت کا تقاضہ ہوگا حرم سے روم کوواپسی کے وقت پیٹ بھر کر پئیں٭ کسی بھی حاجی کی نیچے گری ہوئی چیز کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں ورنہ مسئلہ کھڑاہوجائیگا۔ پورے حرم شریف کی کیمروں سے نگرانی ہوتی ہے اور انتظامیہ پرہرگزتنقید نہ کریں۔

ہیں جانا ہوتو ٹیکسی میں پہلے مرد بیٹھیں اور بعد میں خواتین اُتر تے وقت پہلے خواتین اورآخرمیں مرد ۔

٭ رہائش کے قریب مساجد میں پانی ، کھجور اورجوس وغیرہ عرب حضرات اور دیگر اہل خیرکی جانب سے تقسیم ہوتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بعض کئی کئی پیاکٹس حاصل کرتے ہیں یا پورے ڈبے کواٹھالے جاتے ہیں، ایک تودوسرے کا حق مارنے کا گناہ ہوگا نیز مقامی عرب حضرات پر انتہاہی خراب تاثر پیداہوگا اور’’حاجی‘‘ کی بد نامی ہوگی۔٭ انڈین حج مشن سے منیٰ کا روڈ میاپ اور میٹرو ٹرین روٹ میاپ لینا نہ بھولیں 6؍ذالحجہ کو ایک دن پہلے منیٰ میں اپنا خیمہ اور آنے جانے کے راستے کو جاکر دیکھ آئیں۔ قریب کے لینڈمارک کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیںقریبی پول وغیرہ کی تصویر لیں یا نوٹ کرلیں۔

٭ میٹروٹرین کے روڈ میاپ سے عرفات، مزدلفہ، جمرات کیلئے بہت آسانی ہوگی۔ ٭ مکہ مکرمہ میں فری زیارت کے نام بسوں کااہتمام رہتاہے بعد میں یہ لوگ قربانی کیلئے آفر کرتے ہیں۔ یہ بے بھروسہ ہوتے ہیں۔ الراجی بینک یا سعودی پوسٹ سے کوپن لیں اور قربانی کیلئے دئیے گئے وقت کے ایک گھنٹہ بعد ہی حلق کروائیںیا پھر مسلخ جاکر خود قربانی کریں۔ رہائشی بلڈنگ کے قریب ہی ’’ مسجد عائشہ ‘‘ جانے کیلئے ٹیکسی دستیاب رہتی ہے ۔4آدمی ملکر5،10 ریال زیادہ بھی ہوتو اس سہولت سے فائدہ اٹھالیںورنہ حرم شریف کے سامنے بس اسٹانڈ میں بسوں کیلئے بے انتہابھیڑہوتی ہے تکلیف الگ ہوگی وقت بھی ضائع ہوگا اور تھکن بھی ہوگی۔

٭ بسوں کیلئے دئیے گئے وقت سے پہلے تیاررہیں اورنیچے آکربسوں کے قریب ٹھہرجائیںورنہ لفٹ میں بھیڑ ہوگی اور تاخیر پر پریشانی ہوگی ٭ منیٰ جاتے وقت ۲ ہینڈبیگ ساتھ لیں ساتھ میںحج کیمپ میں بینک کا دیا گیا بیاگ ضرور رکھیں کیونکہ یہ عرفات میں ہجوم میں پیٹھ پر ہونے سے بہت کا م آئے گا۔ عرفات میںکھانے پینے کی چیزیں بہت بٹتی ہیں یہ ضرورت سے زیادہ نہ لیں ورنہ اٹھاکرلانے میں کافی تکلیف ہوگی اورعبادت کا وقت ضائع ہوگا۔ ٭ حج کمیٹی کے ذریعہ علماء کے بتائے گئے طریقے پر ہی اپنی نمازوں کا اہتمام کریں خاص طور پرعرفات میںظہر اور عصر کی نمازیں۔

٭ عرفات اورمزدلفہ میں کھانے پینے میں احتیاط سے کام لیں۔ ثقیل غذا اور پانی کا کم استعمال کریں اور وضوکو زیادہ دیرتک بچاکر رکھیں ۔ ٭ مزدلفہ میں بھیڑ سے ہٹ کر آگے کھلے مقام پرقیام کریں قریب حمامات ہوں، خیال رکھیں۔ نمازوں کیلئے قبلہ کارخ کا خاص رکھیں ورنہ نماز نہیں ہوگی۔

٭ مزدلفہ سے صبح ہونے کے بعد ہی روانہ ہوں تاکہ ہجوم چھٹ جائے بڑے شیطان کو کنکریاںمارکرقربانی کے وقت کے بعد ہوسکاتو عزیزیہ جاکراپنے روم میں نہا کراحرام رکھ کر کچھ کھاپی کر عصر سے پہلے اپنے خیموں میں آجائیں۔ ٭طواف زیارت کیلئے 10؍اور11؍ کی نصف شب حرم شریف جائیں، ۳۰۔۳۰ ریال میں منیٰ سے بسیں بہت مل جاتی ہیں، فجر کے پہلے یا بعد طواف زیارت کیلئے وقت کافی موزوں رہتا ہے بھیڑ کم ہوتی ہے اشراق تک سعی بھی مکمل ہوسکتی ہے۔10،11 بجے تک حرم سے منیٰ کیلئے روانہ ہوجائیں حرم شریف کے سامنے نیچے سیلر میں ٹیکسی، منی بس بہت مل جاتی ہیں۔ ۱۰ ریال میں منیٰ کے قریب چھوڑدیتے ہیں کنکریاں مار کر اپنے خیمے میں لوٹنا بہترہوتاہے۔11؍ کوعصر کے بعد کوئی ایک فرد عزیز یہ جاکراپنا غیرضروری سامان روم میں رکھ کرمغرب سے کافی پہلے منیٰ کو لوٹ آئیں تاکہ12؍ کوکنکریاں مارکر سیدھے روم کو آسکیں اور سامان سنبھالنے میں ہجوم کے دباؤ سے بچ سکتے ہیں۔٭ ۱۲؍ کو صبح سے ہی معلم کے کارندے جلدنکل کرکنکریاں مارکرنکل جانے کیلے پکارتے رہتے ہیں مگربعدظہر ہی خیموں سے نکل کر کنکریاں مارکر عزیزیہ لوٹ جانا بہترہوتاہے جبکہ ہجوم بہت کم رہتاہے۔ ٭ کنکریاں مارتے وقت بائیں ہاتھ سے اپنے خواتین کا ہاتھ تھام لیں بالکل سامنے سے کنکریاں نہ ماریں ورنہ پشت پر ہجوم کا دباؤ رہیگا بلکہ ذراساآگے جاکر بازوہوکرکنکریاں ماریں آسانی ہوگی۔

٭ سفر حج سے پہلے پہلے حرمین شریفین کی حرمت وآداب کو سیکھیں اور عمل کرنے کا پکا ارادہ کرنا لازمی ہے۔ آج کل دیکھنے میں آتاہے کہ حرم شریف میں بے ادبی زیادہ ہورہی ہے اور کعبۃ اللہ کو پیٹھ کرکے مووی بنانا عجیب نہیںرہا۔ بعض تو طواف کے دوران بیوی کے کاندھے پرہاتھ رکھ کر یا ہاتھ میں ہاتھ لیکر یا پھر فون پر باتیں کرتے ہوئے رہتے ہیں۔ ذرا سوچیں کیا کر رہے ہیں، کرسیوں کا استعمال توضعیفوں کے لئے ہے اب تو نوجوان بھی دھڑلے سے کرسیو ںپر پیرپر پیر رکھ کر خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں پیچھے بیٹھے ہوئے حاجیوں کو کعبہ دکھائی دینے میں دقت ہوتی ہے۔ اقامت کے وقت اگلی صفوں میں بہت جگہ خالی رہتی ہے آگے بڑھ کر صف کوپوری کرنا بارگراں ہوتا جارہاہے۔ دوران طواف کہنیوں سے دوسروں کو دھکانہ دیں غور کریں سامنے کعبہ اور اسکے ٹھیک اوپر فرشتوں کا کعبہ ’’بیت المعمور‘‘ اور اوپر عرش عظیم، وہ حرم شریف جہاں پر ہروقت 120قسم کی رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں۔ اور صرف دیدار کعبہ پر 20قسم کی رحمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ اوراپنا طرز عمل خوب سوچیں یہ تو’’مقام عائیض‘‘ (پکڑکامقام) ہے۔ اگر عبادت زیادہ نہ کرسکوتو کم ازکم بے ادبی نہ کریں اور لغو باتوں سے بچیں۔

٭پیر اور جمعرات کو حرمین میں افطار کا دستر بچھایا جاتا ہے ضرور شرکت کریںہوسکا تو نفل روزوں کا بھی اہتمام کریں‘

آداب مدینہ منورہ :

مدینہ منور میں پہنچنے کے بعد غسل کے بعد مسواک، عطراور نئے کپڑوں کا اہتمام کرتے ہوئے زیارت کیلئے روانہ ہوں۔ ریاض الجنہ میں جانے والوں کو پاٹیشن کی دیوار کھول کر جانے دیتے ہیں۔ دوڑتے ہوئے دھکہ دیتے ہوئے یااونچی آواز میں بات کرتے ہوئے ہر گزنہ جائیں آداب ملحوظ رکھیں۔ ٭گنبد خضراء کے سامنے باب جبریل، باب بقیع کے پاس اونچی آواز میں اجتماعی طور پر سلام نہ پڑھیں اورنہ وہاں کہ منتظمین سے بحث کریںخوامخواہ دل پر غبار ہوگا عبادات اور حاضری کامزہ خراب ہوجائے گا۔٭ مدینہ منورہ میںزیارتوں کے وقت کھجور کے دکانات میں قیمت زیادہ ہوتی ہے’’جبل احد‘‘ کے پاس بے شمار دکانیں لگی ہوتی ہیں اجواکھجور وہاں سستے مل جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ سے مسواک، پساہوا سرمہ، مہندی ، کھجور ضرورلیں کلمی، برنی کھجور۸،۱۰ ریال فی کلو ملتاہے یہ تبرک کیلئے موزوں ہیں۔

٭ جانمازیں، نماز کے اسکارف وغیرہ زیادہ خریدناہوتو بنگالی مارکٹ میں ہول سیل دوکانات بہت ہیں۔مسجد نبوی ؐ گیٹ نمبر ۷ کے باہروسیع بازار ہے وہاں بھی آپ کو ساری چیزیں دستیاب رہتی ہیں۔ اشراق کے بعد یاعصر کے بعد جانا بہتر ہوتاہے رش کم رہتا ہے۔ مدینہ منورہ میں روڈ کراس کرتے وقت سکون سے دونوں ہاتھ اٹھاکر اشارہ کرنے سے کاریں اور دیگر گاڑی والے رک جاتے ہیں، عجلت نہ کریں ورنہ حادثہ کاخدشہ رہتاہے۔٭ مدینہ منورہ میں بنگالی مارکٹ کے پاس، انڈین اور پاکستانی ہوٹل کافی ہیں سہولت ہوگی۔

٭ مدینہ منورہ میں گیٹ نمبر15کے پاس حکومت کی طرف سے میوزیم اورایل سی ڈی پرپاؤرپائنٹ کے ذریعہ قرآنی آیات کے پس منظر میں بہترین پروگرام بنایاگیاہے ضروردیکھیںایمان ویقین میں اضافہ ہوگا۔

٭ مدینہ منورہ میں گیٹ نمبر15کے پاس حکومت کی طرف سے میوزیم اورایل سی ڈی پرپاؤرپائنٹ کے ذریعہ قرآنی آیات کے پس منظر میں بہترین پروگرام بنایاگیاہے ضروردیکھیںایمان ویقین میں اضافہ ہوگا۔

٭ مدینہ منورہ میں زیارتوں کیلئے 10ریال پربڑی بسوں کاانتظام رہتا ہے۔ گائیڈکے ساتھ یہ بہتر ہے یہ نسبت چھوٹی گاڑیوں کے۔٭ مسجد نبویؐ میں باب عثمان کے پاس اوپر ایک لائبریری ہے جس میں قدیم تصاویر ،کتابیں اور حضرت عثمانؓ کی شہادت کے وقت جس صفحہ پرآپ کا خون مبارک گراتھا، وہ صفحہ کی کاپی بھی موجود ہے۔٭حرمین میں فوٹوگرافی، سیلفی سے قطعی گریز کریں۔ ورنہ یہ حرکت اُلٹا گناہ اوراللہ اور رسول کی ناراضگی کا سبب ہوگی۔

٭ خواتین کے لئے گیٹ نمبر 25، 28سے داخلے پر ریاض الجنہ تک پہنچے میں آسانی ہوتی ہے رات 10بجے کے بعد زیارت سکون سے کرسکتے ہیں۔

مدینہ طیبہ میں بھی عجیب بے خوفی ‘ بے ادبی کا ماحول رہنے لگاہے۔نبی پاک ؐ کی زیارت کیلئے اور سلام پیش کرنے جاتے ہیںبدتمیزی ‘ بے حرمتی کی ایک وباپھیلی ہوئی جسمیںاکثر حاجی ملوث ہوتے ہیں۔ وہ مقام جہاں’’ سیدالکونین‘‘ تشریف فرماہیں اور جہاں حاضری وسلام پر آقائے دوجہاں کا یہ فرمان کہ’’ آنے والوں کے سلام کا میں خود جواب ایسے دونگا جیسے زندگی میں دیتا ہوں‘‘اتنی جرائت کہ گستاخی کی حدوں کو پار کیا جارہا ہے۔ہر ایک ہاتھوںمیں موبائیل فون کاکیمرہ آن رہتاہے بائیں ہاتھ میں چپل ، اُونچی آواز میں بات کرتے ہیںاور گستاخی وبے ادبی سے جالی مبارک کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔کھلی آیت موجود ہے۔’’ ائے مؤمنو نبیؐ کی آواز سے اپنی آواز کو بلند مت کرو ورنہ زندگی بھرکے اعمال ضائع ہو جائیں گے‘‘ ۔ خداراایسی بھیانک غلطی سے بچیں اور اپنے مبارک سفر کواکارت ہونے سے بچائیں۔

مواجہہ شریف میںسرکاردوجہاں کو سلام پیش کرتے وقت کے آداب سیکھے بغیر چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جنیدؒ وبایزیدؒ کی بھی سانسیں ادب واحترام سے رک جایاکرتی تھیں جہاں ملائک بھی باداب حاضر ہوتے ہیں اورجہاں پر سید الملائک جبریل امین بھی نہایت ادب و احترام سے وحی لے کرحاضرہوتے تھے اور ہم۔۔ استغفراللہ۔

لے سانس بھی آہستہ کہ یہ دربار نبی ہے
پلکوں کاجھپکنا بھی یہاں بے ادبی ہے

ریاض الجنہ میںہر گز چپل نہ لے جائیں کہیں بھی رکھ دیںملی توملی ورنہ نئی لے لیں۔ ٭مدینہ پاک میں خریداری میں چکانے کی کوشش نہ کریں۔ خبرداروہاں کی زمین پر ہرگزنہ تھوکیں۔ کسی بھی چیز میں عیب نہ نکالیں حتیٰ کے وہاں کے پکوان کو بھی برانہ کہیں۔ کسی کو بھی اپنے سے حقیر نہ سمجھیںکچھ بھی تکلیف ہوتوبرداشت کرلیں۔ اپنے گناہوں کا احساس کرتے ہوئے ہمیشہ ندامت سے آنسوبہائیں۔ یہ ذہن میں رکھیں ’’رحمت العالمین‘‘ آرام فرماہیں۔

خدارااس روحانی سفرکو انوار وبرکات وتجلیات کے قابل بنائیں ایسا نہ ہوکہ کہیں لینے کے دینے پڑجائیں۔

٭ خاص دعا: اے اللہ مجھ کو اُن تمام گناہوں سے بچائیے جو آپ کو ناراض کرنے والے ہوں، اے اللہ مجھ سے وہ ساری عبادتیں کروالیجئے جوآپ کو راضی کرنے والی ہوں،اور وہ ساری دعائیں کروالیجئے جو میرے اورمیری نسلوں کیلئے تمام عزیز واقارب وامت مسلمہ کی بھلائی کیلئے ضروری ہے۔ اور آخرمیں وہ ساری نعمتیں، برکتیں، انوار، تجلیات اورانعام اکرام سے نوازدیجئے اورمیرے قلب کو اس قابل بنادیجئے۔ حج کے بعد مجھ سے یتیموں ، بیواؤں، مسکینوں، معذوروں، غریبوں کی خدمات کے کام لیجئے اور آخردم تک اپنے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ بنائیے۔ آمین ثم آمین۔

٭وطن عزیز میں ظالموں کے شر سے ملت کے جان ومال،عزت و آبرو کی حفاظت اور شرپسندوں کے عزائم کوناکام بنانے کیلئے خاص دعاء کریں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button