عالمی برادری میں چچا سام کی تنہائی

مسعود ابدالی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت ادارے کی انسانی حقوق کونسل UNHRCسے روس کی رکنیت معطل کردی گئی۔ روس پر الزام ہے کہ اس کی فوج یوکرین میں سنگین جنگی جرائم کی مرکتب ہورہی ہے۔ یہ کونسل 2006 می قائم کی گئی تھی جس کا مقصد دنیا بھر میں انسانی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ جنیوا اس ادارے کا صدر مقام ہے اور اس کے 47ارکان افریقہ، ایشیاءو بحرالکاہل، مشرقی یوروپ، لاطینی امریکہ اور مغربی یوروپ و شمالی امریکہ کے لیے مختص نشستوں پر منتخب ہوتے ہیں جس کی مدت تین سال ہے۔ پاکستان 2020تک UNHRC کا رکن تھا، جس کے بعد یہ نشست بنگلہ دیش نے سنبھال لی۔ اقوام کے دوسرے اداروں کی طرح UNHRC بھی بس ”گپ شپ“ کی ایک آرام دہ جگہ ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں ا نسانی حقوق کی پامالی، امریکہ میں سیاہ فاموں سے امتیاز ی سلوک، امریکہ اور یوروپ کے منظور نظر آمروں کی جانب سے اپنے مخالفین پر بدترین تشدد، برمی و ایغوروں کی نسل کشی جیسے معاملات پر UNHRCنے عملاً خاموشی اختیار کررکھی ہے‘ اور تو اور تاتاروں اور اہل شیشان پر ہونے والے مظالم پر بھی UNHRCکو کوئی تشویش نہیں۔ روس کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد کو امریکہ اور ناٹو اپنی بڑی کامیابی گردان رہے ہیں، لیکن اگر رائے شماری کا تجزیہ کیا جائے تو نتائج امریکہ بہادر اور اس کے اتحادیوں کے لیے مایوس کن رہے ہیں۔ قرارداد کے حق میں 93 اور مخالفت میں 24ووٹ آئے اور اس اعتبار سے یہ تحریک مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی لیکن اگر اسے مجلس کے کل193ارکان کے تناسب میں دیکھا جائے تو جنرل اسمبلی کے نصف سے بھی کم ارکان نے قرارداد کی حمایت میں ہاتھ کھڑے کیے۔ اٹھارہ ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے اور وہاں موجود58 ارکان رائے شماری کے دوران غیرجانبدار رہے۔ مسلم دنیا یعنی OICکے 57ملکوں میں سے صرف ترکی، چاڈ، لیبیا اور البانیہ نے حمایت کی۔ الجزائر ، ایران اور شام سمیت 10مسلم ممالک نے مخالفت میں ووٹ ڈالے اور باقی تمام مسلم ممالک غیر حاضر یا غیر جانبدار رہے۔ سارے براعظم افریقہ سے صرف چاڈ اور لیبیا نے حمایت کی، چھ ممالک مخالفت میں کھڑے ہوئے اور باقیوں نے غیر جانبداری کا علم بلند کیا۔ ہندوستان اور سعودی عرب سمیت امریکہ کے غیر یوروپی اتحادیوں میں سے کسی ایک نے بھی قرارداد کی حمایت نہیں کی اور سب کے سب غیرجانبداری کے گھونگھٹ میں چھپے رہے۔ وسط ایشیاءسے قرارداد کو ایک بھی ووٹ نہ ملا، چار ممالک نے مخالفت کی اور دو ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ برصغیر کے تینوں ممالک یعنی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش رائے شماری کے دوران غیر جانبدار رہے۔ مشرق وسطیٰ میں صرف اسرائیل نے دوستی کا حق ادا کیا جبکہ واشنگٹن کے تمام خلیجی اتحادی اور مصر غیر جانبدار رہے۔
نئی اسرائیلی حکومت غیر مستحکم:
اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ کی 8ماہ پرانی حکومت ڈانواڈول ہوگئی ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیل میں چار انتخابات ہوچکے ہیں جس میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ آخری انتخابات گزشتہ سال مارچ میں ہوئے جس کے بعد بائیں بازو، لبرل اور قوم پرستوں نے اخوانی فکر کی حامل رعم پارٹی کی حمایت سے حکومت قائم کرلی اور طے یہ پایا کہ آدھی مدت یمینیہ (دایاں) کے نفتالی بینیٹ وزیراعظم ہوں گے اور اگست2023 میں شمع اقتدار یش اتید (مستقبل) پارٹی کے یارلیپڈ کے سامنے رکھ دی جائے گی۔ رعم کو ملا کر بھان متی کے اس کنبے کو 120 کے ایوان میں 61 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی۔بھان متی اس لیے کہ اتحاد میں ربائی (ملا) مخالف اسرائیل مادر وطن پارٹی، بائیں بازور کی لیبر اور دائیں بازو کی یمنیہ کے ساتھ عربوں کی رعم بھی شامل ہے۔ یمنیہ عربوں کی صورت دیکھنے کی روادار نہیں لیکن نتن یاہو کی مخالفت میں سب ایک پرچم تلے آگئے۔ تنازعہ کا آغاز اس طرح ہوا کہ جمعہ 15 اپریل سے 8 روزہ Passover تہوار شروع ہورہا ہے۔ یہ اس عظیم واقعہ کی یادگار ہے جب سمندر کو پھاڑ کر خدا نے حضرت موسیٰؑ کی قیادت میں بنی اسرائیل کو بحر قلزم سے بحفاظت گزارنے کے بعد ان کے سامنے فرعون اور اس کے پورے لشکر کو انتہائی ذلت کے ساتھ غرق کردیا۔ یہ واقعہ عبور عظیم Passoverکہلاتا ہے۔ تہوار پر خصوصی عبادت کے ساتھ بھیڑ کی قربانی اور لذت کام و دہن کا اہتمام ہوتا ہے۔ اسپتال کے مریضوں اور مسافروں میں کھانے بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ یہودیوں کے یہاں کھانے کے ضابطے اور پابندیاں خاصی سخت ہیں۔ اس تہوار پر حمص(Chametz) بہت مقبول ہے جو چنے کے آٹے سے بنایا جاتا ہے۔ فلسطینی حمس تو آٹے کو پانی میں گوندھ کر براہ راست بنایا جاتا ہے لیکن اسرائیلی ، ذائقے کو خمیری کرنے کے لیے آٹے کو گوندھ کر ایک دن چھوڑدیتے ہیں اور دوسرے دن اس آٹے کی روٹیاں بنالی جاتی ہیں۔ یہودی علماءکے نزدیک خمیر ایک نشہ آور چیز ہے جو ان کی شریعت میں حرام ہے۔ روایت کے مطابق مصر میں حمص روٹی بنانے کا یہی طریقہ تھا لیکن جب Passover کے لیے حضرت موسیٰؑ کے حکم پر یہودیوں نے ہجرت کی تو جلدی کی وجہ سے وہ آٹے کو خمیر نہ کرسکے اور تازہ آٹے کی روٹیاں بنالیں۔ علماءنے اس کی یہ تعبیر پیش کی کہ حضرت موسیٰؑ کی اطاعت کے علاوہ نشے سے پرہیز بھی خدا کی رضا کا سبب بنا جس کی وجہ سے ان پر وہ رحمت نازل ہوئی۔ اسی بناءپر Passover کی تقریبات میں یہودی حمص استعما ل نہیں کرتے۔ اس بار حکومت کی جانب سے تہوار کے موقع پر جو کھانا تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں حمص بھی شامل ہے۔ قدامت پسندوں کو یہ شکایت بھی ہے کہ عبادت گاہوں میں خواتین اور مردوں کو علاحدہ انتظام مناسب نہیں ہے جس کی وجہ سے دیوار گریہ سمیت یہودی عبادت گاہوں میں اختلاط مرد و زن قابل اعتراض حد پر آگیا ہے۔ محترمہ ایدت کو حمص تقسیم کیے جانے پر حلقہ انتخاب کی جانب سے سخت دباﺅ کا سامنا تھا اور معاملہ طنز و تنقید سے راہ چلتے فحش گالیوں اورہلکے پھلکے دھول دھپے تک پہنچ گیا۔ اسکول میں ان کے بچوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جارہا تھا۔ گھر کے آگے اشتعال انگیز مظاہرے کے ساتھ ان کے شوہر سے دفتر میں بدتمیزی کی گئی۔ حمص کے ساتھ ایک اور تنازعہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے میں تقریر کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینیوں کے علاقے کو (دریائے اردن کا) مغربی کنارہ کہہ دیا، یہودیوں کے یہاں یہ علاقہ یہوداو السامرہ (Ezor Yehuda Veshomron) کہلاتا ہے۔ قدامت پسندوں کا خیال ہے کہ مغربی کنارہ کہہ کر نیفتالی صاحب نے اسے مقبوضہ عرب علاقہ تسلیم کرلیا ہے جبکہ یہ اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہے۔ محترمہ ایدت پر دباﺅ اتنا بڑھا کہ انہو ںنے وزیراعظم کی حمایت سے ہاچھ کھینچ لیا۔ اسرائیل میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتے ہیں یعنی عوام براہ راست جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں اور حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے جماعتوں کو پارلیمان میں نشستیں عطا ہوتی ہیں۔ اس اصول پر عیدت کو لوٹی اور غدار قرار دیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مینڈیٹ کی توہین کی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل میں پارٹی ٹکٹ، جماعتوں کے سربراہ کی صوابدید پر تقسیم نہیں ہوتے بلکہ پارٹی نمائندگی کے لیے امیدوار براہ مقابلہ کرکے ٹکٹ حاصل کرتے ہیں، اس لیے ہر منتخب رکن فیصلہ کرنے میں خود مختار ہے ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ 120 کے ایوان میں وزیراعظم کے ووٹ 60ہوگئے ہیں۔ اکثریت کے لیے 61ووٹ درکار ہیں۔ تاہم تکنیکل نکتے نے جناب نیفتالی بینیٹ کو بچالیا ہے۔ ضابطے کے مطابق اعتماد کے ووٹ کا حکم جاری کرنا اسپیکر کا صوابدید ی اختیار ہے اور اسپیکر ان کی پارٹی کا ہے۔ حزب اختلاف صرف عدم اعتماد کے ذریعہ وزیراعظم سے جان چھڑاسکتی ہے جس کے لیے 61ووٹ درکار ہیں۔ محترمہ عیدت نے اعلان کیا کہ اگر اعتماد کا مرحلہ آیا تو وہ حکومت کی حمایت نہیں کریں گے لیکن عدم اعتماد کی تحریک میں وہ غیرجانبدار رہیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کے باقی اتحادی کب تک ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں رعم کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ اگر وہ اپنے چار ارکان کو لے کر الگ ہوجائیں تو حکومت ختم ہوسکتی ہے۔
افغانستان میں تیل اور گیس کی تلاش:
شمالی افغانستان کے صوبے سرائے پل میں تیل کے دس پرانے کنوﺅں کی مرمت کا کام شروع ہوگیا ہے جسے تکنیکی اصطلاح میں work overکہتے ہیں۔ قشقری کے نام سے مشہور اس میدان کو 1930 میں شہرت ملی جب اس کی چٹانوں سے گاڑھا مواد بلبلے یا seepageکی شکل میں ظاہر ہوا۔ زمینی ساخت کا ابتدائی جائزہ پُرکشش محسوس ہوا چنانچہ 1957 میں سوئیڈن کے ماہرین ارضیات نے وہاں پہلا کنواں کھودا لیکن کامیابی نہ ہونے کی بناءپر کھدائی کا کام روک دیا گیا۔ دو سال بعد روسیوں نے قسمت آزمائی کی اور مستقل مزاجی سے کئی دہائیوں تک اس علاقے میں جسے ارضیات کی اصطلاح میںAmu Darya Basin کہا جاتا ہے کام جاری رکھا اور 232 کنویں کھود ڈالے۔ اس مہم کے دوران قشقری میں 10کنوﺅں پر کامیابی ہوئی یعنی وہاں ملنے والے تیل اور گیس کی مقدار تجارتی بنیادوں پر نفع بخش تھی۔ بدقسمتی سے 1979 کے روسی حملے کے بعد سے افغانستان بدامنی کا شکار رہا اور مزید کام نہ ہوسکا۔ امریکیوں نے قبضے کے بعد یہاں کچھ کام کیا۔ روسیوں نے قشقری میں تیل کے حجم کا اندازہ تین کروڑ بیرل کے قریب لگایا تھا اور 2010 میںامریکی وزارت دفاع کی نگرانی میں جب سے نیا جائزہ لیا گیا تو یہ تخمینہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔ افغان وزارت معدنیات نے 2012 میں چین کی قومی تیل کمپنی CNPC کو کام کا ٹھیکہ دیا گیا تاہم کوئی کام نہ ہوسکا۔ اب نئی افغان حکومت نے اپنے وسائل سے کام کا آغام کیا ہے۔ منصوبے کے تحت تمام کے تمام 10کنوﺅں سے پیداوار بحال کی جائے گی جن کی اوسط گہرائی 1000میٹر ہے۔ خیال ہے کہ یہاں سے 1500 بیرل تیل روزانہ حاصل ہوگا۔ ارضیات کے طالب علم کی حیثیت سے ہم کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ افغانستان سے جذباتی وابستگی کے علاوہ ہمیں اس سے ذاتی دلچسپی اس لیے بھی ہے کہ اس منصوبے پر میرے سابق آجر ویدر فورڈ نے بھی کام کیا ہے اور ہم عین حالت جنگ میں دوبار سرائے پل، شبر غن اور مزار شریف جاچکے ہیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button