عالمی برادری کی جانب سے پوٹین کے فیصلے کی سخت مذمت

امریکہ نے آج منگل کو یوکرین کی دو علاحدگی پسند خود ساختہ ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک پر پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ دونوں ریاستیں یوکرین کے مشرقی حصہ میں واقع ہیں۔

ماسکو : امریکہ نے آج منگل کو یوکرین کی دو علاحدگی پسند خود ساختہ ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک پر پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ دونوں ریاستیں یوکرین کے مشرقی حصہ میں واقع ہیں۔ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹین نے مذکورہ دونوں ریاستوں کی خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے واضح کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کی ہے۔ اس کے تحت امریکیوں پر یوکرین کی دو ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک کے ساتھ کسی بھی نئی تجارتی یا سرمایہ کاری سے متعلق سرگرمی انجام دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے حلیف ممالک مزید پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔امریکی انتظامیہ کے نزدیک ماسکو کا یوکرین میں دو علاحدگی پسند علاقوں کی خود مختاری کو تسلیم کرنا روس کے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کی ”کھلی خلاف ورزی“ ہے۔

ایک سینئر امریکی ذمہ دار نے باور کرایا تھا کہ روس پر پابندیاں ماسکو کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں تنہا کر دیں گی اور جدید ترین ٹکنالوجی سے متعلق وسائل سے محروم کر دیں گی۔امریکہ کئی بار یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر ماسکو نے یوکرین پر حملہ کیا تو روس کو جرمنی سے مربوط کرنے والی گیس پائپ لائن”نورڈ اسٹریم 2“ کو کام کے لیے نہیں چلایا جائے گا۔

اس کے نتیجہ میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یورپ اور ماسکو کے درمیان سب سے خطرناک تصادم سامنے آ سکتا ہے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب دوسری جانب روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی نواز باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو ‘یوکرینی جارحیت’ سے تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈونیسک اور لوہانسک میں روسی حمایت یافتہ باغی 2014 سے یوکرین کی افواج سے لڑ رہے ہیں اور وہ وہاں ان علاقوں کو ’آزاد ریاستیں‘ قرار دیتے ہیں۔

مغربی طاقتوں کو خطرہ ہے کہ اس سے روسی افواج کا یوکرین کے مشرقی علاقوں میں داخل ہونا آسان ہوجائے گا۔یوکرین کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو ملک سے باہر نکالنے کے لیے منگل کی صبح خصوصی پرواز منگل روانہ کر دی۔

انڈیا کے خبر رساں ادارہ اے این آئی کے مطابق 200 سیٹوں والے بوئینگ 787 طیارے کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔بھارت نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ یوکرین میں بھارت کے 20 ہزار سے زیادہ شہری رہائش پذیر ہیں اور ان کے جان و مال کا تحفظ ان کے لیے سب سے اہم ہے۔

آسٹریلیا نے بھی حالات کے پیش نظر اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے وہ آسٹریلوی شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کے عمل میں مدد کریں گے۔

یواین آئی کے بموجب روس کے صدر پوٹین کے یوکرین کی روسی حامی علیحدگی پسند نام نہاد حکومتوں کو تسلیم کرنے کے بعد سے اس کے خلاف سخت ردعمل پیش کیا جا رہا ہے۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر قبضہ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ نیٹو اتحاد روس کے فیصلے کی مذمت کرتا ہے۔

اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے، جس کا روس بھی رکن ہے، 2015 کو یوکرین کی خودمختاری، زمینی سالمیت اور آزادی کی تصدیق کی تھی۔ دونسک اور لوہانسک یوکرین کے حصہ ہیں۔ ماسکو علیحدگی پسندوں کو مالی اور فوجی تعاون فراہم کر کے یوکرین کے مشرق میں جاری جھڑپوں کو ہوا دے رہا ہے۔

علاوہ ازیں ایک دفعہ پھر یوکرین پر قبضے کے لئے بہانہ گھڑنے کی کوششوں میں ہے۔یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ارسولا وان در لئین، یورپی یونین کونسل کے سربراہ چارلس میشل، یورپی پارلیمنٹ کی سربراہ رابرٹا میٹسولا اور یورپی یونین خارجہ تعلقات و سلامتی پالیسی کے ہائی کمشنر جوزف بوریل نے سوشل میڈیا سے بیک وقت جاری کردہ بیانات میں روس کے، نام نہاد دونسک اور لوہانسک جمہوریتوں کو تسلیم کرنے کے، فیصلے کی مذمت کی ہے۔

مشترکہ بیان میں یورپی یونین سربراہان نے کہا ہے کہ یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کیا جانا بین الاقوامی قانون، یوکرین کی زمین سالمیت اور منسک سمجھوتوں کی کھْلی خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین اور اس کے اتحادی، یوکرین کے ساتھ اتحاد کی حالت میں اور مصّمم شکل میں ردعمل پیش کریں گے۔

یواین آئی کے بموجب روس کی جانب سے ڈ ونسک اور لوہنسک کو عوامی جمہوریہ (ڈی پی آر,ایل پی آر) کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالہ سے یوروپی یونین روس پر پابندیاں عائد کرے گا یہ بات یوروپی کونسل کے صدر چارلس مشیل اور یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے پیر کو کہی۔

دونوں قائدین نے مشترکہ طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا یوروپی یونین اس غیر قانونی کام میں ملوث افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرے گا۔قبل ازیں، دونوں قائدین نے ڈی پی آر اور ایل پی آر کو جمہوریہ کے طور پر تسلیم کرنے کو "بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔عالمی برادری نے صدرپوٹین کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

مذاکرات میں بائیڈن نے کیف انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کا اظہار کیا اور صدر زلنسکی کو آگاہ کیا ہے کہ روس نے یوکرین پر قبضے کی کوشش کی تو اس کا جواب سخت پابندیوں کی شکل میں دیا جائے گا۔برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پوٹین کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی کھْلی خلاف ورزی ہے۔

ہم ماسکو کے خلاف پابندیوں کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے جرمن چانسلر اولاف شْولز کے بھی اس اقدام کی مذمت کرنے کا ذکر کیا ہے۔فرانس نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے کہا ہے کہ روس نے یہ فیصلہ کر کے بین الاقوامی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

میکرون نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ روس پر پابندیاں لگائی جائیں۔اٹلی کے وزیر خارجہ ‘لوئیجی ڈی مے یو’ نے بھی کہا ہے کہ روسی حکام کا، نام نہاد علیحدگی پسند لوہانسک اور دونسک جمہوریتوں کو تسلیم کرنے کا، فیصلہ منسک سمجھوتوں کی خلاف ورزی ہے لہٰذا اس فیصلے کی مذمت کی جانی چاہیے۔

یہ فیصلہ سفارتی حل کے راستے میں شدید رکاوٹ بن رہا ہے۔ اٹلی، یوکرین کی بین الاقوامی سرحدوں کو تسلیم کرتا اور ان سرحدوں کے اندر یوکرین کی زمینی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔جاپان کے وزیر اعظم کیشیدہ فومیو نے بھی کہا ہے کہ ہم روس کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیشیدہ نے کہا ہے کہ روس کا، نام نہاد دونیتسک اور لوہانسک جمہوریتوں کو تسلیم کرنے کا، فیصلہ منسک سمجھوتے اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔ روس کے اقدامات یوکرین کی زمینی سالمت اور خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے بھی پوتن کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ روس کو پس قدمی کر لینی چاہیے۔ اپنی سرحدوں کی طرف واپس لوٹ جانا چاہیئے اور ہمسایہ ممالک کے لئے خطرہ بننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔جرمنی کی وزیر خارجہ اینالینا بیربوک نے روس سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

قزاقستان کے وزیر خارجہ مختار تیلوبردی نے کہا ہے کہ قزاقستان کسی صورت میں روس کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔جارجیا، سلوواکیہ، چیک، ہالینڈ اور آئر لینڈ نے بھی روس کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button