عالمی تنہائی اور اس کے اثرات

منور مرزا

روس نے دو ماہ قبل یوکرین پر حملہ کیا اور پھر جنگ کی دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا۔ ہزاروں یوکرینی ہلاک اور ملک کھنڈر بنا، تو روس کا جانی اور فوجی نقصان بھی کم نہیں ہوا۔ ماسکو کی معیشت بری طرح دباﺅ کا شکار ہے۔کل تک دنیا امریکہ پر الزام لگاتی تھی کہ وہ چھوٹے ممالک پر جارحیت کرتا ہے، اب یہی الزام کھلے عام روس پر لگ رہا ہے۔193 میں سے145 ممالک نے روس کو جارح قرار دیا، 43 ممالک غیر جانب دار رہے، جب کہ صرف پانچ نے روس کی حمایت کی، جن میں زیادہ تر اس کی کلائنٹ اسٹیٹس ہیں۔ صرف شام کے صدر اسد کا ووٹ اس کے حق میں آیا، ظاہر ہے، جس طرح ماسکو نے ان کے لیے شامی شہریوں پر بم باری کی تھی، اُس احسان کو کچھ تو چکانا تھا۔ غیر جانب دار ممالک کا، جن میں ہندوستان، پاکستان اور چین شامل ہیں، موقف یہ ہے کہ جنگ روکی جائے اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
وہ روسی شکایات پر غور کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ یوکرین وار روسی ساکھ کو تو نقصان پہنچا ہی رہی ہے، اس کے معاشی معاملات بھی دگرگوں ہو گئے ہیں۔ ماسکو کا تقریباً ہر اہم ادارہ، کاروبار، کمپنی اور برآمدات اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ روس، دنیا میں گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور گندم کا اہم ترین ایکسپورٹر بھی، لیکن جب وہ اپنی اشیاءکھلی مارکیٹ میں فروخت ہی نہیں کرسکتا، تو پھر ان سب میں سر فہرست ہونے کا کیا فائدہ۔ خبر ہے کہ ہندوستان گندم کی ایکسپورٹ میں روس کی جگہ لینے کے لیے کوشاں ہے۔
صدرپوٹن جنگ کے خاتمے اور پابندیوں کے بڑھتے اثرات کم کرنے میں ناکام ہیں۔ ان کے محفوظ ذخائر پر شدید دباﺅ ہے۔ جنگ ان کے لیے سردرد بنتی جا رہی ہے اور انہیں فیس سیونگ کا موقع بھی نہیں دیا جارہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں روس کو طویل جنگ میں الجھائے رکھنا چاہتی ہیں۔ یقینا ،اب روس کو احساس ہواہوگا کہ شام میں بم باری اور اپنی سرحد پر جنگ میں کیا فرق ہے۔روس کی عالمی تنہائی نہ صرف بڑھ رہی ہے، بلکہ غیر معمولی طور پر خطرناک بھی ہوچکی ہے۔”عالمی حقوق کمیشن‘ ‘سے اسے نکال دیا گیا ہے اور اس کے دوست ممالک، جن میں ہندوستان نمایاں ہے، اس کی مذمت نہیں کر رہے، تو اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔
ماسکو دہلی کی خوشامد کر رہا ہے کہ وہ اس کا ساتھ نہ دے، تو کم ازکم مخالفت بھی نہ کرے اور کسی بھی ذریعے سے اس کا تیل اونے پونے داموں خرید لے۔ پاکستان تو روس سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کر رہا تھا، جب کہ ہندوستان کو گزشتہ سال صدر پوٹن کے دورے کے موقعے پر دنیا کا جدید ترین میزائل دفاعی نظام ایس۔400 دیا گیا، مگر اب وہ اس کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ ہندوستان، امریکہ کے ساتھ کواڈ فورم پر بھی ہے اور جی- 20ممالک کا اہم شراکت دار بھی۔ یہ دونوں فورمز روس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ امریکہ، چین تجارت کا حجم 750 بلین ڈالرز سے تجاوز کر چکا ہے اور وہ اس میں کسی کمی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔چین ،روس کے لیے تجارت کی قربانی نہیں دے سکتا، اسی لیے صرف بیانات پر اکتفا کر رہاہے۔
بیجنگ کا دہلی سے تجارتی حجم ایک سو بلین ڈالرز سے زائد ہے۔ وہ اس کے ساتھ شنگھائی فورم پر ہے اور پانچ رکنی برکس بینک میں بھی شامل ہے، تو کیا وہ ہندوستان پر کسی قسم کا دباﺅ ڈال رہا ہے یا اس پوزیشن میں ہے کہ اسے روس کی حمایت یا کم ازکم امریکہ اور یوروپ کی مخالفت پر راضی کرسکے؟غور کیا جائے، تو یہ تمام ممالک بشمول روس، اپنے اپنے اقتصادی مفادات کے تابع ہیں۔ان کی آبادیاں بڑھ چکی ہیں اور اگر وہ اپنے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو ان کے فلسفے اور نظریے سب ڈھیر ہوجائیں گے۔ اس ضمن میں روسی کمیونزم کی مثال زیادہ پرانی نہیں ہے۔ آج ہر ملک کے عوام معاشی خوش حالی اور بہتر معیار زندگی چاہتے ہیں۔ وہ اب نظریات اور نعروں کی بجائے سہولتوں کی فراہمی ہی سے حکومتوں کی کام یابی، ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ استعماریت کا زمانہ ہے اور نہ ہی سرد جنگ کا دور، جہاں ممالک کو غلام رکھا جاتا یا نام نہاد نظریاتی بلاکس کے بندھنوں میں جکڑ دیا جاتا تھا۔ چین، جاپان اور جرمنی کی مثالیں دی جاتی ہیں، لیکن ویت نام پر بہت کم لوگوں کی نظر پڑتی ہے، جو جنگ آزادی کے بعد مکمل یوٹرن لے کر مغربی کیمپ کا حصہ بن چکا ہے۔
ایک زمانے میں برصغیر میں ہوچی مَن اور وہاں کے دوسرے انقلابی لیڈر آئیڈیل مانے جاتے تھے۔چین 1945ءتک جاپان کے فوجی قبضے میں تھا، دوسرے الفاظ میں اس کا غلام تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان میں ایٹم بم نے تباہی مچائی، تو اس نے گھٹنے ٹیک دیے اور یوں چین سے آزاد ہوا۔پھر وہاں چیئرمین، ماﺅزے تنگ کی رہنمائی میں انقلاب آیا اور وہ ایک کمیونسٹ ملک بن گیا۔ یہ انقلابی دور1979ء تک رہا۔ ظاہر ہے، نظریات کی یکسانیت کے باعث روس اس کا قریبی دوست بنا، لیکن صرف دس سال بعد ہی روس اس کا حریف بن گیا۔ چین، امریکہ کا شدید مخالف تھا اور اسی طرح امریکہ اسے دشمن کہتا تھا، لیکن پھر امریکی صدر، نکسن نے چین کا دورہ کیا اور دونوں کے درمیان دوستی شروع ہوگئی۔
چین نے اس دوستی سے یہ فائدہ اٹھایا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی جدید ٹیکنالوجی اور ان کے تجارتی طریقے اپنے ماحول اور ضروریات کے مطابق اپنالیے اور آج دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن گیا۔وہ امریکہ کا اب بھی سب بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ جاپان، امریکی ایٹمی حملے کے نتیجے میں سوپر پاور سے زیرو پاور ہوگیا اور امریکی غلامی میں چلا گیا، اسی نے اس کا آئین بنایا، اُس پر ہتھیار اور فوج رکھنے کی پابندیاں عاید کیں، لیکن جاپان کی قیادت اور دانش نے اِس تباہی سے نکلنے کا راستہ تلاش کرلیا۔ اس نے اسی غلامی میں رہتے ہوئے اقتصادی قوت بننے کی وہ راہیں تلاش کیں کہ صرف پندرہ برس میں دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت بن گیا۔ امریکہ کی بڑی تجارتی کمپنیز، ہالی ووڈ کے بیش تر ادارے اس نے خرید لیے۔
آج کون کسی جاپانی کو امریکی غلامی کا طعنہ دینے کی ہمت کرسکتا ہے؟وہاں کا پاسپورٹ دنیا کے مضبوط ترین پاسپورٹس میں سے ایک ہے۔جرمنی، ہٹلر کی قوم پرست اور فاشسٹ پالیسی سے تباہ ہوا۔جنگ میں شکست کھائی، دو ٹکڑے ہوا۔ ہٹلر اور اس کا نازی ازم دنیا میں جرم کی اصطلاح بن گئے۔ بعدازاں، وہاں کی قیادت نے غور کیا کہ ملک تباہ اور نفرت کی علامت کیسے بنا اور اسے دنیا کے لیے قابل قبول کیسے بنایا جائے؟نئی قیادت نے دشمنیاں ختم کرکے اقتصادی جدوجہد شروع کی۔ جرمن خود کو دنیا کی سب سے اعلیٰ قوم تصورکرتے ہیں، لیکن انہیں اندازہ ہوگیا کہ انہوں نے ہٹلر کی شکل میں قیادت کا غلط چناﺅ کیا، جسے دنیا نے قبول نہیں کیا اور اب اسے درست کرنے کا وقت ہے۔قیادت نے اقتصادی مضبوطی کا نیا راستہ دکھایا، تو قوم کام میں لگ گئی، ملک کے دونوں حصّے دوبارہ مل گئے اور یوں جرمنی پہلے یوروپ پر چھایا، پھر دنیا میں اپنی دھاک بٹھائی۔جرمنی ہمیشہ سے روس کے لیے ایک سافٹ پالیسی رکھتا ہے، جس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ مشرقی جرمنی میں روسی بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، پھر یہ کہ اس کی فروغ پاتی معیشت کے لیے روس کی توانائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دوسری طرف، وہ نیٹو کا اہم رکن اور امریکہ کا حلیف بھی ہے۔
اِن تضادات کے باوجود اس کی قیادت نے ملک کی گاڑی اس طرح چلائی کہ وہ عالمی قیادت کے درجے پر فائزہوگیا۔ مجال ہے، جرمنی کی مرضی کے بغیر یوروپ میں کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔ یاد رہے، جرمنی میں آج تک کوئی بھی جماعت اکثریت حاصل نہیں کرسکی، ہمیشہ اتحادی حکومت ہی بنتی ہے اور الیکشن کے بعد اتحادیوں کو ایک پیج پر لانے میں چھے ماہ سے ایک سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے۔مرکل بھی، جنہیں جرمنی اور یوروپ کی ” آئرن لیڈی“ کہا جاتا ہے، ایسی ہی اتحادی حکومتوں کی سربراہی کرتی رہیں۔ ان ہی کے آخری دنوں میں روس اور چین کے خلاف مغربی پالیسیز نے حتمی شکل اختیار کی۔جرمنی، یوکرین کے معاملے میں روس کی ک±ھل کر مذمت کرتا ہے۔
ان مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے اس کے اپنے مفادات ہی اہم ہوتے ہیں، باقی باتیں، پالیسیز، نظریات یا جذبات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اب نہ صرف عالمی لیڈر شپ حقیقت پسند ہوچکی ہے، بلکہ عوام بھی عالمی حقائق، اپنی ضروریات اور معیار زندگی کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگے ہیں۔ انہیں ادراک ہوچکا کہ اگر وہ معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط ہیں، تو ہی دنیا میں محترم اور قابلِ عزت ہوں گے۔یہ بات بے حد تکلیف دہ ہوتی ہے، جب کوئی کسی قوم کو بھکاری کہہ کر پکارے، لیکن اس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ جب کوئی لیڈر یا قوم ہر فورم سے قرض اور امداد مانگ رہے ہوں، تو انہیں ایسے ہی القابات سے نوازا جائے گا۔
ہمارے سامنے افغانستان اور سری لنکا کی مثالیں موجود ہیں۔ طالبان جنگ جیت کر بلا شرکت غیرے ملک کے حکم ران بن چکے ، لیکن صرف تین شرائط پوری نہ کرنے پر ہر ایک سے امداد کی اپیلز کر رہے ہیں، جس میں خوراک اور ادویہ بھی شامل ہیں۔ سری لنکا دیوالہ ہوچکا ہے۔کون سا فورم ہے، جہاں وہ کشکول اٹھائے نہیں کھڑا۔ طالبان اور سری لنکا اسی طرف جارہے ہیں، جہاں سے انہیں بیل آﺅٹ پیکیجز ملیں گے۔
دو مہینے ہوچکے، روس، یوکرین جیسے چھوٹے ملک پر قبضہ نہیں کرسکا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یوکرین فوجی طور پر روس کا ہم پلّہ ہے یا مغربی ممالک اسے بے تحاشا امداد دے چکے ہیں اور روس پر اقتصادی پابندیاں عاید ہیں، اصل وجہ یہ ہے کہ یوکرین کے عوام، خاص طور پر نوجوان اس بات پر قائل ہیں کہ بہتر زندگی گزارنے کا وہی راستہ ہے، جو ان کی قیادت نے اپنایا ہے۔وہ غور وفکر کے بعد اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ روس کی بجائے یوروپ کے ساتھ رہنا ہی ان کے لیے بہتر ہے۔
یوکرینی قوم کوئی جذباتی جنگ نہیں لڑ رہی، بلکہ سوچے سمجھے فیصلے پر عمل کر رہی ہے۔ جدید چین کے معمار، ڈینگ ژیاﺅ پنگ کہا کرتے تھے،”جب ہمارے ہزاروں طلبہ بیرونِ ملک سے اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس آئیں گے، تو آپ دیکھیں گے کہ چین کس طرح بدلتا ہے“اور پھر دنیا نے ایسا ہوتا دیکھا بھی۔ ان طلبہ نے اپنے ملک کو مغربی تعلیم کے جدید معیارات، ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار زندگی اور مارکیٹنگ کے جدید طریقوں سے روشناس کروایا۔ انہوں نے نہ صرف جدید چین کی بنیاد رکھی، بلکہ اسے ملک کے طول وعرض تک وسیع بھی کیا۔یوں ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کے ملک کی چالیس فی صد آبادی کو تین عشروں سے بھی کم میں غربت کی لکیر سے نکال کر مڈل کلاس طبقے میں داخل کردیا گیا۔
ہم نے چینی طلبہ کی بڑی تعداد کو آکسفورڈ، کیمبرج اور ہاروڈ یونی ورسٹیز میں تعلیم حاصل کرتے دیکھا۔وہ کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔کبھی مظاہروں میں نظر نہ آئے۔خاموشی سے سر جھکائے تعلیم اور ہنر حاصل کرتے اور ملک واپس چلے جاتے ہیں۔ بہت کم چینی ایسے ہیں، جو امریکہ یا یوروپ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں رہ گئے ہوں۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button