عاپ، کرناٹک میں طاقتور متبادل بنے گی: ریاستی صدر

بنگلورو کے لیے نئی دہلی کا ماڈل بے حد موزوں ہے حالانکہ اس کی کامیابی پر شبہ کیا گیا۔ تینوں بڑی پارٹیوں کے دوست کہہ رہے ہیں کہ وہ بے اعتباری کا شکار تھے۔ کامیاب ہونے کی صلاحیت پر شبہ پنجاب کے نتائج کے بعد دور ہوگیا۔

بنگلورو: اگلے چار سے چھ ہفتوں میں عام آدمی پارٹی (عاپ) کرناٹک میں بی جے پی، کانگریس اور علاقائی جماعت جے ڈی ایس کا طاقتور متبادل بن کر ابھرے گی۔عاپ کے ریاستی صدر پرتھوی ریڈی نے آج یہ بات کہی۔ آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے پرتھوی ریڈی جو قومی عاملہ کمیٹی کے رکن اور قومی ترجمان بھی ہیں، نے کہا کہ پنجاب میں پارٹی کی شاندار کامیابی نے دکھادیا کہ عاپ صرف شہری اور میٹروپولیٹن شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ زرعی اور دیہی ہندوستان میں بھی اثر دکھاسکتی ہے۔ اگلے 4-6ہفتوں میں کئی بڑے نام کرناٹک میں عآپ میں شامل ہوں گے۔

 فی الحال ان ناموں کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔ ریڈی جو دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال اور انا ہزارے کے ساتھ قریبی طور پر کام کرچکے ہیں نے کہا کہ ملک کے عوام پنجاب میں 5 سالوں میں نہیں بلکہ ابتدائی 5-6 ماہ میں ہی بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے۔ پارٹی منشیات کی لعنت پر توجہ مرکوز کرے گی جو پنجاب میں خوفناک صورت اختیار کرچکی ہے۔

پنجاب کے نوجوان ڈرگ ریاکٹس سے متاثر ہیں۔ منشیات کی لعنت اور زراعت کے لیے ہمارے پاس واضح منصوبہ ہے۔ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے۔ یہ ملک کی تمام ریاستوں تک پہنچے گا اور اچھے لوگ پارٹی کو مضبوط کرنے آگے آئیں گے۔ بنگلورو کے لیے پارٹی کے منصوبوں پر انہوں نے کہا کہ اگلے 30دنوں میں نئی دہلی اور پنجاب کا انقلاب شہر کے ہر گھر تک پہنچے گا۔

بنگلورو کے لیے نئی دہلی کا ماڈل بے حد موزوں ہے حالانکہ اس کی کامیابی پر شبہ کیا گیا۔ تینوں بڑی پارٹیوں کے دوست کہہ رہے ہیں کہ وہ بے اعتباری کا شکار تھے۔ کامیاب ہونے کی صلاحیت پر شبہ پنجاب کے نتائج کے بعد دور ہوگیا۔ یہاں بھی یقینا تبدیلی آئے گی۔ ریاست کے لیے وسیع منصوبوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ریڈی نے کہا کہ اگلے تین ماہ میں عآپ ریاست کے تمام حلقوں میں موزوں امیدواروں کی تلاش کرے گی۔ اُن امیدواروں کو ہم حلقہ کے ہر گھر تک پہنچنے 9سے 10ماہ کا وقت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل تک لوگ عاپ کے اچھے کاموں کی بات کرتے اور برا محسوس کرتے کہ پارٹی ریاست میں گندی، جھگڑالو سیاست کاسامنا نہیں کرسکتی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ عآپ دولت اور بازو کی طاقت کا مقابلہ کرکے نہیں جیت سکتی۔ پنجاب کی جیت کے ساتھ یہ رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔ لوگوں کی نئی نسل سیاست میں آئے گی۔

 کرناٹک میں حجاب تنازعہ بی جے پی کا جال ہے، کیو ں کہ وہ اپنی کارکردگی نہیں دکھاسکتے۔ کانگریس اقلیتوں کو اور بی جے پی ہندوؤں کو اپنا ووٹ بینک سمجھتی ہے۔ عآپ غریبوں کی ضرورت کی تکمیل کرتی ہے اور تمام مذاہب کے ضرورتمندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کرے گی جنہیں مذہب نہیں کچھ اور چاہیے۔ عاپ اس کا خیال رکھے گا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button