عشرت جہاں کی ضمانت کے خلاف پولیس کی اپیل

دہلی پولیس کے اسپیشل سل نے 26 فروری 2020کو عشرت جہاں کو گرفتار کیا تھا اور ان پر انسدادِ غیرقانونی سرگرمیاں قانون‘ تعزیرات ِ ہند‘ سرکاری جائیداد کو نقصان کے انسداد کے قانون اور آرمس ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کی واحد رکنی بنچ نے آج سابق کانگریس کونسلر عشرت جہاں کی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی اپیل کو ڈیویژن بنچ کو منتقل کردیا۔ یہ کیس 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ وسیع تر سازش سے متعلق ہے۔

 جسٹس انو ملہوترہ‘ دہلی پولیس کی اپیل کی سماعت کررہی تھیں جس کے ذریعہ عشرت جہاں کو دی گئی ضمانت کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی مزید سماعت 11 جولائی کو جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ پر ہوگی۔

یہی بنچ فی الحال عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی اپیلوں کی سماعت کررہی ہے۔ 14 مارچ کو ایک تحت کی عدالت نے 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ وسیع تر سازش سے متعلق کیس میں عشرت جہاں کو ضمانت منظور کی تھی۔

 اس موقع پر ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے کہا تھا کہ وہ شخصی طورپر فسادات کے لئے شمال مشرقی دہلی میں موجود نہیں تھیں اور نہ ہی کسی گروپ کا حصہ تھیں۔

دہلی پولیس کے اسپیشل سل نے 26 فروری 2020کو عشرت جہاں کو گرفتار کیا تھا اور ان پر انسدادِ غیرقانونی سرگرمیاں قانون‘ تعزیرات ِ ہند‘ سرکاری جائیداد کو نقصان کے انسداد کے قانون اور آرمس ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔

 استغاثہ کے بموجب عشرت جہاں دیگر ملزمین کے ساتھ ربط میں تھیں جن کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور اس کا واحد مقصد فسادات کی سازش کو پورا کرنا تھا۔ پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ عشرت جہاں 26  فروری کو خریجی خاص علاقہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کررہی تھیں ۔

اور انہوں نے ایک بڑے ہجوم کو اس بات پر اکسایا تھا کہ وہ پولیس کی ہدایت کے باوجود سڑک کا تخلیہ نہ کرے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ان کے اکسانے کی وجہ سے ہجوم نے پولیس پر سنگباری کی۔

تبصرہ کریں

Back to top button