مشرق وسطیٰ

سعودی عرب اور حوثیوں کا جنگ بندی پر اتفاق

یمن میں جنگ بندی اور امن کیلئے عمان کی ثالثی میں مذاکرات کامیاب ہوگئے، فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔یمنی سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 6 ماہ کی جنگ بندی پراتفاق ہو گیا۔

عمان: یمن میں جنگ بندی اور امن کیلئے عمان کی ثالثی میں مذاکرات کامیاب ہوگئے، فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔یمنی سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 6 ماہ کی جنگ بندی پراتفاق ہو گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی کا مقصد 2 سال کے عبوری سیٹ اپ پر 3 ماہ کے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔حوثی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے رہا کیے گئے 13 حوثی قیدی صنعا پہنچ گئے، اس سے پہلے حوثیوں نے ایک سعودی قیدی کو رہا کیا تھا۔

مذاکرات کے دوران یمن کی بندرگاہیں اور ائیرپورٹ کھولنے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں جاری کرنے، تعمیر نو کے منصوبوں اور سیاسی منتقلی جیسے مسائل پر گفتگو کی گئی۔واضح رہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے بعد فروری میں عرب اتحاد نے یمن پر عائد درآمدی پابندیوں میں نرمی کر دی تھی، جس کے بعد حوثیوں کے زیر کنٹرول جنوبی بندرگاہوں پر سامان کی نقل حرکت شروع ہو گئی۔

یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اب تمام کمرشل بحری جہاز براہ راست عدن سمیت یمن کے جنوبی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہو سکیں گے،کئی چیزوں کی درآمد پرعائد پابندیاں ہٹالی گئی ہیں اب فرٹیلائیزرس اور بیٹریوں سمیت 500 قسم کی اشیاء یمن کی جنوبی بندرگاہوں پر لائی جا سکیں گے۔

علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب حوثی ملیشیا کی قیدیوں کے امور کی قومی کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر المرتضی نے اعلان کیا ہے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 13 قیدیوں کی آمد ہوئی ہے۔المرتضیٰ نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ "آج صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی حکام کی طرف سے رہائی پانے والے 13 قیدیوں اور زیر حراست افراد پہنچ گئے ہیں۔

اس کے بدلے پہلے ہی ایک سعودی قیدی کو رہا کردیا گیا تھا۔“ انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے وسیع تر تبادلے سے قبل اس امید کا اظہار کیا کہ یہ قدم اس ہفتے کے آخر میں طے پانے والے معاہدے کے نفاذ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

اے ایف پی کے مطابق سرکاری یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ دوسری طرف عمانی وفد نے صنعا کا دورہ شروع کیا ہے تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ساتھ ثالثی کے ایک حصے کے طور پر بات چیت کی جاسکے۔ اس بات چیت کا مقصد یمن میں ایک نئی جنگ بندی تک پہنچنے اور سعودی ایرانی ہم آہنگی کے بعد امن عمل کو بحال کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام اور یمنی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ ریاض اور تہران کے معاہدہ کے بعد سعودی عرب اور ایران میں سفارتی تعلقات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کی روشنی میں جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک یمن میں سیاسی حل تک پہنچنے کا بھی امکان پیدا ہوگیا ہے۔