عمران خان اپنے دورہ ماسکو کو مختصر نہیں کریں گے:فواد چودھری

پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ان افواہوں کو مسترد کردیا کہ وزیراعظم عمران خان یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کے درمیان ماسکو کے دورہ کو مختصر کردیں گے۔

ماسکو/اسلام آباد: پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ان افواہوں کو مسترد کردیا کہ وزیراعظم عمران خان یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کے درمیان ماسکو کے دورہ کو مختصر کردیں گے۔

چہارشنبہ کی شام کو عمران خان ماسکو پہنچے اور ان کا سرخ قالین استقبال کیاگیا۔ دریں اثناء روس نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے اور اس نے آج صبح ملک کے مشرقی علاقہ پر بھرپور حملہ کیا ہے۔

وزیراطلاعات فواد چودھری جو وفد کا حصہ ہیں انہوں نے عمران خان کے دورہ کو مختصر کرنے کی ان افواہوں کو قیاس آرائیاں اور بے محل قرار دیا۔ وزیراطلاعات نے بتایاکہ دورہ جاری ہے اور وزیراعظم شیڈول کے مطابق آج شب پاکستان لوٹ جائیں گے۔

اس سے قبل دن میں عمران خان نے ماسکو میں دوسری عالمی جنگ کے روسی مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نامعلوم فوجی کے مقبرے پر گلہائے عقیدت نچھاورکئے۔

چہارشنبہ کی شب کو ایرپورٹ پر عمران خان اور ان کے وفد کا استقبال روس کے وزیر خارجہ آئیگور مورگلوف اور پاکستانی سفارتخانہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کیا۔

وزیراعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔ پوٹین کے ساتھ عمران کی سمٹ کے دوران دونوں قائدین نے باہمی تعلقات کا بھرپور جائزہ لیا جس میں توانائی تعاون بھی شامل ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بات بتائی گئی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں قائدین نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جس میں اسلاموفوبیا اور افغانستان کے حالات بھی شامل ہیں۔

دو دہوں سے زائد عرصہ کے دوران پاکستانی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے جس سے کثیر جہتی پاکستان روسی تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو بھی ترقی ہوگی۔ پاکستانی وزیراعظم کے دورہ ماسکو کا مقصد معاشی تعاون کے بشمول دیگر مسائل پر تبادلہ خیال رہا ہے۔

اس سے قبل مغربی ممالک نے یوکرین بحران پر ماسکو کے خلاف نئی تحدیدات عائد کردیا ہے۔ پاکستان کے قومی صیانتی مشیر معید یوسف جو ان کے ہمراہ موجود ہیں۔ انہوں نے دورہ کے وفد کے بارے میں ظاہر کردہ خیال کو مسترد کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں عالمی سطح پر کشیدگی ضرور ہے لیکن ہمارا دورہ باہمی نوعیت کا ہے جبکہ چینی دورہ کیلئے بھی ایسا ہی راستہ اختیار کیاگیا تھا جہاں ہمارے دورہ کا اہم مقصد معیشت اور معاشی اظہار کنندے و رابطہ شامل ہیں۔

یوکرین بحران میں شدت کے موقع پر پاکستانی موقف پر سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ روس اور ساری دنیا کیلئے پاکستان کا پیام یہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے ایسے معاملہ میں شامل نہیں جس میں فریقین کے درمیان مقابلہ کا نتیجہ صفر ہے‘ جبکہ کریملن نے بھی ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button