عمران خان کا راحت پیاکیج ملک کیساتھ تاریخی دھوکہ : بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کے ذریعہ کہا،“پی ایم کا پیکج ایک مذاق کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے 120 ارب روپے کے سبسڈی پیکج کے اعلان کے بعد، دونوں اہم اپوزیشن جماعتوں نے راحت پیکج کو ملک کے ساتھ ”سب سے بڑا اور تاریخی دھوکہ“ اور”حکومت کی ناکامی کااعتراف“قرار دیاہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کے ذریعہ کہا،“پی ایم کا پیکج ایک مذاق کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ گھی، آٹا اور دال پر صرف چھ ماہ کے لیے 30 فیصد رعایت دینے سے کچھ خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ گزشتہ تین برسوں میں گھی کی قیمت میں 108 فیصد، آٹے کی قیمت میں 50 فیصد اور گیس کی قیمت میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا، "تاریخی مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کا سامنا کرنے والے 20 کروڑ لوگوں کے لیے 30 فیصد بہت کم ہے۔ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔”سابق سینیٹر اور پی پی پی ایل کے لیڈر شیری رحمان نے عمران کو "پاکستان کا وزیرالزام”اور ان کے اعلان کو "عجیب و غریب تقریر” قرار دیا۔

جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسٹر رحمان نے ٹویٹر پر وزیر اعظم کی تنقید کی اورکہا کہ انہوں نے ان کے لئے ‘وزیرالزام’ کا نام اس لیے چنا ہے کیونکہ وہ تیل، گیس اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے لیے سابقہ حکومتوں اور بین الاقوامی منڈیوں پرالزام عائد کرتے رہے ہیں۔

رحمان نے لکھا، "پاکستان کے وزیرالزام کے ذریعہ دی گئی عجیب تقریر میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ سابقہ حکومتوں اوربین الاقوامی بازاروں کے سبب ہے۔ پی پی پی کو 130 ڈالر فی بیرل سے زیادہ عالمی تیل کی قیمتوں کا سامنا کرناپڑا، لیکن مقامی پیٹرول آج کی قیمتوں سے نصف تھا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button