عمران خان کیخلاف کاروائی روکنے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کاانکار

عدالت کے رجسٹراردفتر کی جانب سے درخواست پر انتظامی اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد وزیراعظم نے اسے ہٹا دیا اوردرخواست کو بعد ازاں جسٹس عامر فاروق کی طرف سماعت کیلئے لسٹڈ کیا۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے اس درخواست پر عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں پاکستان کے الیکشن کمیشن (ای سی پی) کو خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کیلئے جاری انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور دیگر وزراء کے خلاف کارروائی کرنے سے روکنے کے لئےعبوری حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

ای سی پی نے اس سے قبل وزیر اعظم خان، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، چیف منسٹر محمود خان، وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور مراد سعید سمیت دیگران کو انتخابات سے قبل انتخابی ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا تھا ۔ جس کے بعد مسٹر خان اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے آئی ایچ سی میں درخواست دائر کر دی ۔

 عدالت کے رجسٹراردفتر کی جانب سے درخواست پر انتظامی اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد وزیراعظم نے اسے ہٹا دیا اوردرخواست کو بعد ازاں جسٹس عامر فاروق کی طرف سماعت کیلئے لسٹڈ کیا۔ سماعت کے دوران وکیل دفاع نے دلیل پیش کی ہے کہ صدر نے انتخابی مہم کے دوران عوامی عہدیداروں کو انتخابی تشہیر کے لئے فعال بنانے کے لئے 2017 کے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا۔

 چیف الیکشن کمشن نے اگلے انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق کا مسودہ طلب کیا ہے ۔ عدالت کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرنے کا آئینی اختیار ہونا چاہیے۔ جسٹس فاروق نے ای سی پی اور کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس معاملے میں عدالت کی مدد کریں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت اب 28 مارچ کو ہوگی۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button