عمران خان کی جانب سے کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب

سرکاری ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی کہ خصوصی دعوت پر تمام حلیف جماعتوں کے صدور وزیر اعظم خان کی صدارت میں کابینہ کے خصوصی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اسلام آباد: ان اطلاعات کے درمیان کہ حکومت کی حلیف ایم کیو ایم۔پی کے دو وزراء‘ اپنی پارٹی کے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی تائید کرنے کے اعلان کے بعد مستعفی ہوگئے، پاکستان کے مشکلات میں گھرے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا۔

سرکاری ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی کہ خصوصی دعوت پر تمام حلیف جماعتوں کے صدور وزیر اعظم خان کی صدارت میں کابینہ کے خصوصی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

ذرائع نے کہا کہ تازہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جس کا مقصد متحدہ قومی مومنٹ۔پاکستان (ایم کیو ایم۔پی) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے علی الترتیب7اور5 ارکان کو واپس لانا ہے۔ کابینی ارکان اور خصوصی اجلاس میں مدعو کیے جانے والوں کو اس دستاویز سے متعلق اعتماد میں لیا جائے گا جسے وزیراعظم نے ان کی حکومت کو بے دخل کرنے کی ”بیرونی سازش“ کا ثبوت قرار دیا ہے۔

قبل ازیں خان نے کہا کہ پارٹی کی طاقت کے مظاہرہ کی ریالی میں جس مکتوب کا انہوں نے ذکر کیاتھا، وہ چہارشنبہ کو صحافیوں اورحکومت کے حلیفوں کو دکھائیں گے جس میں حکومت کے خلاف بیرونی سازش کا ثبوت ہے، کیوں کہ ان پر دستاویز منکشف کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

دریں اثناء وزیر داخلہ شیخ راشد نے کہا کہ وزیراعظم خان آج شام میں قوم سے خطاب کرکے تازہ سیاسی صورت حال سے متعلق عوام کو اعتماد میں لے سکتے ہیں،مگر ابھی تک اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

جیو نیو ز نے اطلاع دی کہ ایم کیو ایم پی نے اپوزیشن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور اس کے وز راء مستعفی ہوچکے ہیں مگر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایم کیو ایم پی کے لیڈر سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ ان کی پارٹی اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان معاہدہ کو قطعیت دی جاچکی ہے۔

پاکستان کی پیپلز پارٹی کی مرکزی عاملہ کمیٹی اور ایم کیو ایم پی کی رابطہ کمیٹی معاہدہ کی توثیق کرے گی۔“ انہوں نے کہا کہ تفصیلات کا اعلان چہارشنبہ کو پریس کانفرنس کے دوران کیا جائے گا۔ ان کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر قائدین نے منگل کی رات متحدہ اپوزیشن کے قائدین سے بات چیت کی جو چہارشنبہ کی اولین ساعتوں تک جاری رہی۔

اس کے چند گھنٹوں بعدایم کیو ایم پی کے ارکان مقننہ اور وفاقی وزراء فاروق نسیم اور امین الحق نے وزیراعظم کو اپنا ستعفیٰ پیش کردیا۔ مخلوط حکومت کی ایک اور حلیف بی اے پی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ اس نے خان کے خلاف ووٹ دینے کی اپوزیشن کی دعوت قبول کرلی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button