عمران ملک میرا ریکارڈ توڑتے ہیں تو خوشی ہو گی:اختر

ہندوستانی فاسٹ بولر عمران ملک نے آئی پی ایل 2022 میں اپنی رفتار سے سب کو دنگ کردیا ہے۔ عمران جو مسلسل 150 پلس کی رفتار سے گیند کررہے ہیں، جلد ہی ٹیم انڈیا کیلئے کھیلتے نظر آسکتے ہیں۔

لاہور: ہندوستانی فاسٹ بولر عمران ملک نے آئی پی ایل 2022 میں اپنی رفتار سے سب کو دنگ کردیا ہے۔ عمران جو مسلسل 150 پلس کی رفتار سے گیند کررہے ہیں، جلد ہی ٹیم انڈیا کیلئے کھیلتے نظر آسکتے ہیں۔

کئی تجربہ کاروں کا خیال ہے کہ جموں و کشمیر کا یہ تیز گیند باز جلد ہی پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولر شعیب اختر کا ریکارڈ توڑ سکتاہے۔ عمران، سن رائزرز حیدرآباد کیلئے کھیل رہے ہیں، اب تک آئی پی ایل 2022 میں 157 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرچکے ہیں جوکہ آئی پی ایل کی تاریخ کی دوسری تیز ترین گیند ہے۔

عمراں کی تیز رفتاری دیکھ کر اب شعیب اختر کو بھی ٹھنڈ لگنے لگی ہے۔ اختر نے سب سے پہلے عمران کی رفتار کے بارے میں کہاکہ اگر ہندوستانی تیز گیندباز ان کا ریکارڈ توڑ دیتے ہیں تو انہیں خوشی ہوگی۔ بعد میں انہوں نے یہ بھی کہاکہ عمران کو اپنا ریکارڈ توڑتے ہوئے اپنی ہڈیاں نہیں توڑنی چاہئیں۔

اختر نے اسپورٹس کیڈا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ میرے ورلڈ ریکارڈ کو 20 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکاہے۔ جب لوگ مجھ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو میں بھی سوچتا ہوں کہ کوئی تو ہوگا جو اس ریکارڈ کو توڑے گا۔ مجھے خوشی ہوگی کہ عمران نے میرا ریکارڈ توڑا۔ ہاں لیکن وہ میرا ریکارڈ توڑتے ہوئے اپنی ہڈیاں نہ توڑیں (ہنستے ہوئے) یہی میری دعا ہوگی۔

کہنے کا مطلب ہے فٹ ہونا۔ اختر جو راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور ہیں، 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ عمران نے حال ہی میں آئی پی ایل 2022 کے ایک میچ میں 157 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی جوکہ آئی پی ایل کی تاریخ کی دوسری تیز ترین گیند تھی۔

سن رائزرس حیدرآباد کا یہ تیز گیند باز آئی پی ایل 2022 میں 150 پلس کی رفتار سے لگاتار بولنگ کررہا ہے۔ اختر نے کہاکہ ہندوستانی ٹیم کو آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کھیلنی ہیں۔

ایسے میں عمران ملک یقینی طورپر سلیکٹرز کے ریڈار پر ہوں گے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بی سی سی آئی کو عمران ملک جیسے تیز گیند بازوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ اختر نے کہاکہ عمران کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کام کا بوجھ زیادہ نہ ہو۔

تبصرہ کریں

Back to top button