عید تک تمام مساجد سے لاؤڈ اسپیکرس نکال دیئے جائیں : راج ٹھاکرے

مہاراشٹرا نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے مساجد پر لاؤڈ اسپیکرس کو ”مذہبی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ“ قرار دیتے ہوئے مہا وکاس اگھاڑی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی دی گئی ڈیڈ لائن 3 مئی تک تمام لاؤڈ اسپیکرس نکال دے۔

اورنگ آباد: مہاراشٹرا نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے مساجد پر لاؤڈ اسپیکرس کو ”مذہبی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ“ قرار دیتے ہوئے مہا وکاس اگھاڑی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی دی گئی ڈیڈ لائن 3 مئی تک تمام لاؤڈ اسپیکرس نکال دے۔

راج ٹھاکرے نے اتوار کے روز اورنگ آباد کے ایک میدان میں منعقدہ ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”اب یا کبھی نہیں۔ 3 مئی تک تمام لاؤڈ اسپیکرس نکال دیئے جائیں۔ رمضان عید کے بعد 4 مئی سے میں کسی کی نہیں سنوں گا۔ تمام ہندو مساجد کے باہر دوگنی آواز میں ہنومان چالیسہ بجائیں گے“۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تمام مذہبی مقامات حتیٰ کہ مندروں سے بھی لاؤڈ اسپیکرس نکال دیئے جانے چاہئیں لیکن مساجد سے نکالے جانے کے بعد۔ راج ٹھاکرے نے مزید انتباہ دیا کہ اگر حکومت 3 مئی تک اُن کے الٹی میٹم پر توجہ نہیں دیتی تو پھر وہ نتائج کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں گڑبڑ پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس بات کو دہراتے ہوئے کہ لاؤڈ اسپیکرس، مذہبی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ اگر مسلمان اسے مذہبی مسئلہ بنانے کی کوشش کریں تو ہندو بھی مذہبی لحاظ سے اس کا جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہاں موجود تمام پولیس ملازمین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جائیں اور ابھی سے لاؤڈ اسپیکرس نکالنا شروع کردیں۔ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، ہمیشہ سے ہے، لیکن میں اس کا حل بتا رہا ہوں۔ یا تو اب، یا پھر کبھی نہیں۔

یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ریاست میں تمام لاؤڈ اسپیکرس غیرقانونی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر اترپردیش میں انہیں نکالا جاسکتا ہے تو پھر مہاراشٹرا میں کیوں نہیں؟

انہوں نے مہاراشٹرا میں ذات پات کی سیاست شروع کرنے پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کو ایک بار پھر نشانہئ تنقید بنایا اور کہا کہ اس کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے اور اب یہ تعلیمی اداروں میں بھی داخل ہوگئی ہے جہاں طلباء دوست بنانے سے پہلے ان کی ذات کے بارے میں سوچتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button