غازی آباد میں مسلم خواتین پر پولیس کا لاٹھی چارج

۔ کرناٹک کے کالجوں میں حجاب پر پابندی سے متعلق تنازعہ پر دیگر ریاستوں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس معاملہ کی ہائی کورٹ میں سماعت ہورہی ہے۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانہ پر شیئر کیا گیا اور بعض افراد نے اس کارروائی پر پولیس کو نشانہ تنقید بنایا۔

غازی آباد: کرنا ٹک میں حجاب پر پابندی کے خلاف اترپردیش کے غازی آباد میں احتجاج کے دوران پولیس ملازمین کے برقعہ پوش خواتین پر لاٹھی چارج کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے۔ کرناٹک کے کالجوں میں حجاب پر پابندی سے متعلق تنازعہ پر دیگر ریاستوں میں بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس معاملہ کی ہائی کورٹ میں سماعت ہورہی ہے۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانہ پر شیئر کیا گیا اور بعض افراد نے اس کارروائی پر پولیس کو نشانہئ تنقید بنایا۔

پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس ویڈیو کے بارے میں تحقیقات کررہی ہے۔ پولیس نے گذشتہ اتوار کو پیش آئے واقعہ کے سلسلہ میں احتجاجیوں کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ اس ایف آئی آر میں پولیس نے کہا ہے کہ اسے پتہ چلا تھا کہ 15 مسلم خواتین اجازت لیے بغیر غازی آباد کے ثانی بازار روڈ پر جمع ہوئی ہیں اور ان کے ہاتھ میں حکومت کے خلاف پوسٹرس ہیں۔ جب ایک پولیس ٹیم وہاں پہنچی تو خواتین نے نعرہ بازی شروع کردی۔

 خاتون کانسٹبلس نے احتجاجیوں کو گھر واپس ہوجانے کی ترغیب دی، تاہم ان کے ساتھ دھکم پیل کی گئی۔ احتجاجی خواتین کے ساتھ موجود چند مرد حضرات نے کانسٹبلس کو گالی گلوج شروع کردی۔ ایک ملزم کی رئیس کی حیثیت سے شناخت ہوئی ہے۔ ان افراد نے کانسٹبلس کو دھمکیاں بھی دیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس ملازمین احتجاجیوں کو منتشر کرنے طاقت کا استعمال کررہے ہیں۔

 ایک برقعہ پوش خاتون کو ایک پولیس ملازم کو اسے لاٹھی سے مارنے سے روکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ غازی آباد کے اندرا پورم میں ایک پولیس عہدیدار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا تھا۔ احتجاجیوں کو منتشر کردیا گیا تھا۔ اس معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button