غیرمسلم افرادکی جانب سے مدرسے چلانے کیخلاف تحقیقات

جاوید نے کہا کہ عوام اکثر مدرسوں پر حکومت کے فنڈس کا بے جا استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اگر غیرمسلم افراد کی جانب سے چلائے جانے والے مدرسوں کو فنڈ مہیا کیا جائے تو غالباً یہ فنڈس کا بے جا استعمال ہوگا۔

 لکھنو: اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے صدرنشین افتخار احمد جاوید نے غیرمسلم افراد کی جانب سے محض گرانٹس حاصل کرنے کے لئے مدرسے چلانے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جاوید نے کہا کہ قانونی طورپر غیرمسلم افراد کو مدرسے چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ اسلامی موضوعات پر تعلیم نہیں دے سکتے۔ ان کے پاس اسلام کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں تاہم مدرسے تمام انسانوں کے لئے کھلے ہیں اور تمام عقائد کے لوگ ان میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ مدرسے مالی چیلنجس کا سامنا کررہے ہیں اور وہ سخت اصلاحات سے گزررہے ہیں۔ دیگر الفاظ میں انہیں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں مدرسہ کی تعلیمی نظام میں بدعنوانیوں پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ غیرمسلم افراد کی جانب سے مدرسے چلانے کے نتیجہ میں سرکاری فنڈس کا بے جا استعمال ہوسکتا ہے۔

مدرسے ان کے نصاب میں سائنٹفک اور سیکولر موضوعات کی کمی دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔طلبا کو روزگار کے قابل بنانا مقصود ہے۔ حکومت مسلم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے مدرسوں کو ماڈرن بنانے کی سخت کوشش کررہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ مسلم نوجوان قرآن کی تعلیم حاصل کرے مگر بیک وقت وہ سائنس اور کمپیوٹر جیسے جدید مضامین کی تعلیم حاصل کریں۔

 جاوید نے کہا کہ عوام اکثر مدرسوں پر حکومت کے فنڈس کا بے جا استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اگر غیرمسلم افراد کی جانب سے چلائے جانے والے مدرسوں کو فنڈ مہیا کیا جائے تو غالباً یہ فنڈس کا بے جا استعمال ہوگا۔ بورڈ کے پاس اطلاعات ہیں کہ ریاست کے کئی اضلاع میں دیگر طبقات کے لوگ مدرسے چلارہے ہیں۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button