فساد زدہ شہر کھرگون میں کرفیو کے سائے میں عید‘ مساجد ویران

عتیق علی نامی شخص ان دو مسلم تاجرین میں شامل ہیں جنہوں نے 12 اپریل کو اپنی جائیدادوں کے انہدام کے خلاف مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیا عید منائیں گے جب کہ ہمارا سارا کاروبار تہس نہس ہوگیا ہے۔

کھرگون (مدھیہ پردیش) : مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون میں عید کے موقع پرمکمل کرفیو نافذ رہا جہاں گذشتہ ماہ رام نومی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ چہارشنبہ کے روز کرفیو میں 11 گھنٹوں کی نرمی دی گئی۔ 10 اپریل کے تشدد کے بعد پہلی مرتبہ پٹرول پمپس کو بھی کھولنے کی اجازت دی گئی۔ ضلع انتظامیہ نے ایک ہی دن تین تہواروں کے آنے کے پیش نظر منگل کے روز مکمل کرفیو نافذ کردیا تھا۔ مندروں، مساجد اور عیدگاہوں میں ویرانی چھائی رہی۔ گھروں کے اندر ہی نماز عید ادا کرلی گئی۔

 سارے ٹاؤن میں پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیاں سائرن بجاتے ہوئے گشت کررہی تھیں۔ ایک مقامی شخص شاد اللہ بیگ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے  جن کے گھر کا ایک حصہ مقامی انتظامیہ نے ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی کے نام پر منہدم کردیا تھا۔ انہوں نے روتے ہوئے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ہماری زندگیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ میرا سارا کاروبار اور روزگار کے ذرائع تباہ ہوچکے ہیں۔ میرے پاس 65 ہزار روپئے مالیتی ایک بھینس، دو گائیں اور ان کے بچھڑے اور تین بکریاں تھیں جو میرے چھوٹے سے ڈیری کاروبار کا حصہ تھیں۔ میرے پاس عید پر قربانی کے لیے 18 ہزار روپئے مالیتی ایک بکرا بھی تھا۔

 حکام نے ان تمام کو ضبط کرلیا حالانکہ میرے ارکانِ خاندان انہیں دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لیے مہلت دینے کی گزارش کررہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 10 اپریل کے تشدد کے بعد کوئی نوٹس دیئے بغیر ان کے گھر کا ایک بڑا حصہ منہدم کردیا گیا۔ 2021ء میں میرے مکان کے ایک حصہ کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ فسادات میں نہ تو میرا اور نہ میرے چھوٹے بچوں کا کوئی ہاتھ تھا۔ اس کے باوجود ہماری زندگیاں تباہ کردی گئیں۔ ان کی اہلیہ پروین بیگ نے بھی اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ہم کیا عید منائیں، جب کہ ہماری ساری زندگی کو تباہ کردیا گیا ہے اور ہم نے کوئی جرم بھی نہیں کیا تھا۔

 میرے بچوں کے پاس نئے کپڑے تک نہیں ہیں۔ میں نے کسی طرح سوئیاں بنائی ہیں تاکہ وہ تہوار کے دن بھوکے نہ سوئیں۔ ہمارا برقی کنکشن تک منقطع کردیا گیا ہے اور ہم اس جھلسا دینے والی گرمی میں جبکہ درجہ حرارت زائد 45 ڈگری ہے، پڑوسیوں کی مدد سے محض ایک بلب اور فیان پر گزارا کررہے ہیں۔

 عتیق علی نامی شخص ان دو مسلم تاجرین میں شامل ہیں جنہوں نے 12 اپریل کو اپنی جائیدادوں کے انہدام کے خلاف مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیا عید منائیں گے جب کہ ہمارا سارا کاروبار تہس نہس ہوگیا ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ میری ریسٹورنٹ کا ایک بڑا حصہ اور اسٹاف کے لیے مختص کمروں کو 12 اپریل کو منہدم کیا گیا تھا، لیکن انتظامیہ نے ناجائز قبضوں یا تعمیرات کو منہدم کرنے کی نوٹس مجھے 14 دن کے بعد 26 اپریل کو دی ہے۔

 اب عدالت ہی ہماری واحد امید ہے اور ہم نے اپنے نقصانات کی تلافی کے لیے معاوضہ دینے کی عدالت سے گزارش کی ہے۔ امجد نامی شخص نے جن کی تین بیکریاں ہیں اور جو مقامی بیکری اسوسی ایشن کے صدر ہیں، مابعد فرقہ وارانہ تشدد انہدامی کاروائی میں اپنی بیکری سے محروم ہوچکے ہیں، انہوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ انہوں نے اپنی جائیداد کی ملکیت کے دستاویزات پیش کیے تھے، تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ تمام جائیدادیں قانونی ہیں۔ اس کے باوجود ایک بیکری کو منہدم کردیا گیا۔

 اس کے دوسرے دن 13 اپریل کو حکام نے مجھے طلب کیا اور ایک پرانے دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا، جس پر فروری کی تاریخ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 12 اپریل کو مقامی انتظامیہ کے لوگ بلڈوزروں کے ساتھ پہنچے اور میری تین بیکریوں اور ایک مکان کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ان کی نشاندہی کی۔ میں نے انہیں تمام متعلقہ دستاویزات بتائے  تاکہ یہ ثابت کیاجاسکے کہ یہ پوری طرح قانونی ہیں۔ اس کے باوجود ایک بیکری کو منہدم کردیا گیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button