فلم ”دی کشمیر فائلس“ میں نصف سچائی دکھائی گئی ہے: بگھیل

چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر بھوپیش باگھیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کے ذریعہ نصف سچائی دکھائی گئی ہے جس میں صرف تشدد بتایا گیا ہے لیکن کوئی پیام اُس کے ذریعہ نہیں دیا گیا۔

رائے پور: ہندی فلم ”دی کشمیر فائلس“ پر جاریہ بحث کے درمیان جو 1990ء میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف ظلم و زیادتی کی بنیاد پر مبنی ہے۔

چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر بھوپیش باگھیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کے ذریعہ نصف سچائی دکھائی گئی ہے جس میں صرف تشدد بتایا گیا ہے لیکن کوئی پیام اُس کے ذریعہ نہیں دیا گیا۔

باگھیل چہارشنبہ کی شب فلم کا مشاہدہ اپنے کابینی رفقاء اور ایم ایل ایز کے ساتھ کرنے کے بعد اخباری نویسوں سے بات کررہے تھے۔ فلم میں نصف سچائی دکھائی گئی ہے۔

اس میں یہ تجویز نہیں پیش کی گئی اور نہ ہی حل ظاہر کیا گیا اور نہ ہی اس سمت کوئی کوشش کی گئی۔ اس کے ذریعہ کوئی بھی پیام نہیں دیا گیا۔ صرف تشدد دکھایا گیا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا۔

باگھیل نے یہ بات اُس وقت کہی جب اُن سے فلم کے بارے میں رد عمل پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فلم دہشت کے واقعات پر مبنی ہے اور تاریخ کی لائن میں خاندان کے ساتھ واقعات پر توجہ دی گئی ہے جس کی وجہ سے فلم آگے بڑھی ہے۔

ایک کوشش سیاسی پیام دینے کے لئے کی گئی ہے۔ اِس فلم دکھایا گیا ہے کہ وی پی سنگھ حکومت جو اُس وقت بی جے پی کی مدد سے مرکز میں اقتدار پر تھی، اُس نے کشمیری پنڈتوں پر کئے گئے ظلم و ستم کو روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یہ کہا گیا کہ وہ مقام چھوڑ دیں۔

سینئر کانگریسی لیڈر نے یہ بات کہی۔ فوج کو بھی وہاں نہیں بھیجا گیا جب سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے لوک سبھا میں اِس مسئلہ کو اُٹھایا تھا۔ تب فوج وہاں بھیجی گئی۔ مزید بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے باگھیل نے کہا کہ ہر روز ایسے ہی مسائل کھڑے ہورہے ہیں۔

آرٹیکل 370 (جس کے ذریعہ جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو یقینی بنایا گیا تھا) منسوخ کردیا گیا لیکن کشمیری ہندؤں کی بازآبادکاری کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ یہاں تک کہ فلم میں مسئلہ کا کوئی حل نہیں پیش کیا گیا جب فلم تیار کی گئی اس میں مسئلہ کا حل بھی تھا، لیکن ڈائرکٹر نے اس کی یکسوئی نہیں کی۔ صرف ایک لکچر جاری کیا۔

اس کا انہوں نے دعویٰ کیا۔ مرکزی حکومت آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد صرف سیاست کررہی ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی مدد کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے چھتیس گڑھ بی جے پی ایم ایل ایز پر بھی نکتہ چینی کی کہ وہ فلم کا مشاہدہ کرنے نہیں آئے باوجود کہ اُنہیں دعوت دی گئی تھی اور کہا کہ وہ کسی سے بحث کرے بغیر بھاگ گئے۔

مخالفت کے درمیان بی جے پی نے فلم ”دی کشمیر فائلس“ کے ٹیکس میں راحت کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی زیر قیادت حکومت کو چاہیے کہ وہ فلم پر جی ایس ٹی ختم کردیں جس سے وہ ملک میں ٹیکس سے فری ہوجائے گی۔

تبصرہ کریں

Back to top button