فن لینڈ اور سویڈن کی ناٹو میں شمولیت پرترکی رضامند

نیٹو کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ تینوں فریقین کی جانب سے میمورنڈم پر دستخط کیے جانے کے بعد ترکی کی تشویش، بشمول ہتھیاروں کے برآمدات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ازالہ ہو گیا ہے۔

میڈریڈ/واشنگٹن: ترکی فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو فوجی اتحاد میں شمولیت کی حمایت کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ انقرہ نے ویٹو کرنے کی دھمکی دینے کے کئی ہفتے بعد کہا ہے کہ اسے دونوں نارڈک ملکوں سے، جو چیزیں مطلوب تھیں، وہ مل گئی ہیں۔فن لینڈ کے صدر ساولی نینیستو نے کل اعلان کیا کہ ترکی فن لینڈ اور سویڈن کی مغربی فوجی اتحاد نیٹو میں شمولیت کی حمایت کرنے پر رضامند ہوگیا ہے۔

انقرہ گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ کہتا آ رہا تھا کہ وہ ان دونوں ملکوں کے نیٹو میں شمولیت کی تجویز کو ویٹو کر دے گا۔یہ اعلان میڈرڈ میں نیٹو سمٹ کے آغاز سے قبل نینستو، سویڈش وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن اور ترک صدر رجب طیب اردغان کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا۔

 نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے اس میٹنگ کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔نینسٹو نے ایک بیان میں کہا کہ اس میٹنگ کے بعد ہمارے وزرائے خارجہ نے ایک سہ فریقی میمورنڈم پر دستخط کیے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ترکی رواں ہفتے میڈرڈ سربراہی اجلاس میں فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو کا رکن بننے کی تجویز کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میمورنڈم سے تینوں ممالک کے اس عزم کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف اپنی مکمل حمایت کریں گے۔“ترکی نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے، ”ہمیں، جو چیز مطلوب تھی، وہ مل گئی اور ہم نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔

“ترکی ماضی میں اسکینڈی نیویائی ملکوں پر کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ افراد کی مدد کرنے پر ”دہشت گردوں کو پروان چڑھانے“ کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ انقرہ پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ترکی نے اسکینڈی نیویائی ملکوں سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ شام میں ترکی کی فوجی کارروائیوں کے بعد اس کے خلاف ہتھیاروں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

انقرہ نے فن لینڈ اور سویڈن میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے افراد کو ترکی کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، جو اس کے بقول 2016 کے ناکام بغاوت میں شامل تھے۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ تینوں فریقین کی جانب سے میمورنڈم پر دستخط کیے جانے کے بعد ترکی کی تشویش، بشمول ہتھیاروں کے برآمدات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ازالہ ہو گیا ہے۔

“ ترکی نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ اسے دونوں ممالک کی نیٹو میں شمولیت پر اعتراضات ہیں۔قبل ازیں صدر اردغان نے میڈرڈ روانہ ہوتے وقت نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”اگر سویڈن اور فن لینڈ نیٹو کی رکنیت چاہتے ہیں تو انہیں اتحاد کے 70 سالہ رکن ملک ترکی کے سکیورٹی خدشات پر توجہ دینا ہو گی۔

“ انہوں نے مزید کہا، ہم اپنے اتحادیوں سے دہشت گردی کی ہر نوعیت اور اظہار کے خلاف بلا تفریق جدوجہد کرنے اور کسی ایک نیٹو رکن کو درپیش خطرے کو اصل میں پورے نیٹو اتحاد کے لئے خطرہ قبول کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ اس نئی پیش رفت سے ناٹو کو مزید تقویت ملے گی۔امریکی صدر جو بائیڈن نے ترکی، فن لینڈ اور سویڈن کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

بائیڈن نے کل کہا کہ فن لینڈ اور سویڈن میں انتہائی قابل فوجوں کے ساتھ مضبوط جمہوریتیں ہیں۔ ان کی رکنیت سے نیٹو کی اجتماعی سلامتی کو تقویت ملے گی اور پورے بحر اوقیانوس کے اتحاد کو فائدہ پہنچے گا۔ ہم ان کا اپنے اتحاد میں جلد استقبال کر سکیں۔

جیسا کہ ہم میڈرڈ میں اس تاریخی نیٹو سربراہی اجلاس کا آغاز کر رہے ہیں، ہمارا اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ متحد اور پرعزم ہے۔دی گارڈین اخبار کے مطابق میڈرڈ میں سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکی، فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو کا رکن بننے کی اجازت دینے کے لیے آخری لمحات میں معاہدہ ہوا تھا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جان اسٹولٹن برگ نے کہا کہ یہ معاہدہ ترکی، فن لینڈ اور سویڈن کے درمیان ہوا ہے۔ اس معاہدے میں ترکی کے خدشات کا خیال رکھا گیا ہے جس میں ہتھیاروں کی برآمدات اور دہشت گردی جیسے مسائل شامل ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button