فوارے کو شیولنگ بتاکر ہندوؤں کا مذاق اڑایاجارہا ہے: توقیر رضا

مولانا نے انتباہ بھرے لہجے میں کہا کہ نفرت کی سیاست کر کے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب کسی بھی مسجد میں زبردستی کی گئی تو اس کاخامیازہ حکومت کو بھگتنا ہی ہوگا۔ فوارے کو شیولنگ بتاکر ہندو مذہب کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔

بریلی: وارانسی کے گیان واپی معاملے میں اتحاد ملت کونسل(آئی ایم سی) کے صدر مولانا توقیر رضاخان نے کہا ہے کہ فوراے کو شیولنگ بتا کر ہندو مذہب کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ مولانا نے انتباہ بھرے لہجے میں کہا کہ نفرت کی سیاست کر کے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اب کسی بھی مسجد میں زبردستی کی گئی تو اس کاخامیازہ حکومت کو بھگتنا ہی ہوگا۔ فوارے کو شیولنگ بتاکر ہندو مذہب کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ رضا نے منگل کی رات ایک پروگرام میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ گیان واپی کا سروے بند کمروں کے لئے ہونا تھا کھلے حوض کے لئے نہیں۔ یہ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

 حوض میں کھڑے فوراے کو شیولنگ بتا کر ہندو مذہب کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ اس کے خلاف تو ہندوؤں کو کھڑا ہونا پڑے گا۔ اگر گیان واپی میں شیولنگ ہے تو ایسا حوض اور فوراہ ہر ضلع اور ہر صوبے میں موجود ہے۔

انہوں نے بریلی شہر کی جامع مسجد، نومحلا مسجد، رحمانی مسجد،مرزا مسجد سمیت کئی مساجد کے نام بھی گنائے۔ انہوں نے کہا’ اس سے ہماراکوئی نقصان نہیں ہے۔ بلکہ ایسی باتوں سے دنیا میں ہندوستان کی شبیہ دھومل ہورہی ہے۔ بجکہ ایک قانون بن چکا ہے کہ اب کسی مذہبی مقام کو توڑا نہیں جاسکتا۔ جہاں مسجد ہے یا دوسرے مذہبی عبات گاہیں ہیں وہ اسی مقام پر ویسے ہی رہیں گی۔

بابری مسجد کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا’سپریم کورٹ نے ہمارے عقیدے کو نہیں مانا۔ ہندوؤں کا عقیدے کا احترام کیا۔ جبکہ ملکیت مسلمانوں کی مانی تھی۔ اس طرح بابری مسجد معاملے میں ایک جج نے فیصلہ دے کر راجیہ سبھا میں جگہ حاصل کی اب ایک اور جج کی تیاری ہے۔

مولانا نے کہا کہ ملک کے تقسیم میں بھی آر ایس ایس اور جناح کی ملی بھگت تھی۔ جناح کے والد گنا لال کٹر ہندو تھے۔ دادا پریم جی تھے جناح نے گھر میں تنازع ہونے پر ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا تھا۔ وہ مسلمان ہونے کے باوجود اسلامی روایات پر عمل نہیں کرتے تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button