قاسم سلیمانی کی برسی پر اسرائیلی اخبار کی ویب سائٹ ہیک۔ مشرق ِ وسطی میں کشیدگی

یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا تازہ اشارہ ہے۔ ہیکرس نے امریکہ کے ہاتھوں ہلاک ایران کے سرکردہ جنرل قاسم سلیمانی کی پہلی برسی پر اسرائیل کے ایک بڑے اخبار کی ویب سائٹ کو نشانہ بنایا۔

دُبئی: یمن کے حوثی باغیوں نے بحراحمر میں ایک اماراتی پرچم بردار جہاز پر قبضہ کرلیا۔ عہدیداروں نے پیر کے دن یہ بات بتائی۔

یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا تازہ اشارہ ہے۔ ہیکرس نے امریکہ کے ہاتھوں ہلاک ایران کے سرکردہ جنرل قاسم سلیمانی کی پہلی برسی پر اسرائیل کے ایک بڑے اخبار کی ویب سائٹ کو نشانہ بنایا۔

بحراحمر بین الاقوامی تجارت اور تیل کی منتقلی کی اہم روٹ ہے۔ایران نواز حوثیوں نے ساحل حدیدہ کے قریب جہاز پر قبضہ کی بات مانی۔ کسی بھی گروپ نے یروشلم پوسٹ کو ہیاک کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ہیکرس نے اخبار کے ہوم پیج پر ایک تصویر لگادی جس میں ایک مزائل دیکھی جاسکتی ہے۔ اماراتی جہاز پر قبضہ کی خبر سب سے پہلے برطانوی فوج کی یونائٹیڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنس نے دی جس نے صرف اتنا کہا کہ ایک نامعلوم جہاز پر کل نصب شب حملہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی اتحادی افواج کی طرف سے جاری حملہ میں چند گھنٹے بعد کہا گیا کہ حوثیوں نے یہ حملہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ جہاز میں طبی آلات لے جائے جارہے تھے۔

بریگیڈیر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کو فوری اس جہاز کو چھوڑدینا چاہئے ورنہ اتحادی افواج ضروری کارروائی کریں گی۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ نے اعلان کیا کہ باغی فوجیوں نے ایک اماراتی ”فوجی کارگو شپ“ پر قبضہ کرلیا جس میں کسی لائسنس کے بغیر فوجی آلات لے جائے جارہے تھے۔

یہ جہاز یمن کے بحری حدودمیں تھا۔ ترجمان نے کہا کہ باغی مزید تفصیلات بعد میں بتائیں گے۔ جہاز‘ ابوظبی کی لیوا میرین سرویسس کی ملکیت ہے۔ اس کے ایک ملازم نے امریکی نیوز ایجنسی دی اسوسی ایٹیڈ پریس(اے پی) کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہمارا جہاز نشانہ بنا ہے۔ اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

2016 میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ اُس وقت ایک اماراتی جہاز کو ایریٹیریا اور یمن کے درمیان پکڑلیا گیا تھا۔ اس وقت بھی حوثیوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔ یروشلم پوسٹ نے ٹویٹ کرکے مانا کہ اس کی ویب سائٹ ہیکرس کا نشانہ بنی ہے۔ انگریزی زبان کے اخبار نے لکھا کہ ہم مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اخبار نے بعدازاں اپنی ویب سائٹ بحال کردی۔

حکومت ِ اسرائیل کی طرف سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پیر کے دن عراق میں فوجیوں نے بغداد ایرپورٹ کے قریب 2 خودساختہ خودکش ڈرونس کو مارگرایا۔ امریکی اور عراقی عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ کسی بھی گروپ نے حملہ کی ذمہ داری نہیں لی حالانکہ ایران نواز ملیشیا پر ایسے حملوں کے لئے انگلی اٹھتی رہتی ہے۔

ایران نے بھی اسرائیلی اخبار کی ویب سائٹ کو ہیاک کرنے کا فوری اعتراف نہیں کیا تاہم ایران میں قاسم سلیمانی مرحوم کی یاد میں جلسے ہونے لگے ہیں۔ قاسم سلیمانی‘ ایرانی پاسداران ِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ تھے۔

وہ عراق‘ لبنان اورشام تینوں ملکوں کا اکثر و بیشتر سفر کیا کرتے تھے۔ صدربشارالاسد کی مدد کے لئے شام کی طویل جنگ میں قدس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ عراق میں بھی یہ فورس تعینات کی گئی۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی فورس نے عراقی عسکریت پسندوں کو سڑک کنارے نصب کئے جانے والے بم بنانا سکھایا تھا۔

امریکی فوجی ان بموں کا نشانہ بنتے تھے۔ کئی ایرانی‘ جنرل قاسم سلیمانی کو اپنا ہیرو مانتے ہیں جس نے بیرونی ممالک میں ایران کے دشمنوں سے لڑائی لڑی تھی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان درپردہ جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے خطہ میں کشیدگی عروج پر ہے۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button