قاضیوں کو عدالت کی طرح فیصلے صادر کرنے کا اختیار نہیں : مدھیہ پردیش ہائی کورٹ

جسٹس وویک روسیا اور جسٹس راجندر کمار ورما پر مشتمل بنچ نے مزید کہا کہ قاضی کی جانب سے خلع کی شکل میں دلائی گئی طلاق قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہے اور اسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

اندور: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ (اندور بنچ) نے حال ہی میں کہا ہے کہ کوئی قاضی مسلمانوں کے کسی تنازعہ میں ثالث کا رول ادا کرسکتا ہے، لیکن کسی عدالت کی طرح فیصلے صادر نہیں کرسکتا اور نہ احکام جاری کرسکتا ہے۔

جسٹس وویک روسیا اور جسٹس راجندر کمار ورما پر مشتمل بنچ نے مزید کہا کہ قاضی کی جانب سے خلع کی شکل میں دلائی گئی طلاق قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہے اور اسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق عادل نامی ایک شخص نے مفادِ عامہ کی ایک درخواست داخل کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ان کے قاضی دستورِ ہند کے خلاف ایک متوازی عدالتی نظام چلا رہے ہیں، جو اس ملک کے قانون و انصاف کے نظام کے مغائر ہے۔

مفادِ عامہ کی درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ لوگ خود اپنی شرعی عدالتیں چلا رہے ہیں اور شخصی معاملات میں احکام و فرمان جاری کررہے ہیں۔

درخواست گزار نے اپنے شخصی معاملہ کا بھی حوالہ دیا، جس میں اس کی بیوی نے خلع کے لیے درخواست دی تھی اور اسے طلاق دلوا دی گئی تھی۔

مفادِ عامہ کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مدعلی علیہ نمبر 7 (صدر قاضی مسجد، 22 چھوٹی گوال ٹولی، اندور) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر و جنرل سکریٹری کی سرپرستی میں ایسے تنازعات کو قبول کررہے ہیں اور ان معاملات میں احکام صادر کررہے ہیں جنہیں فیصلے کے لیے عدالت کے سامنے لایا جانا چاہیے۔

حکومت ِ مدھیہ پردیش نے عدالت میں بیان دیا کہ قاضی ایکٹ 1880 کی دفعہ 4 کے تحت قاضی کو کوئی عدالتی یا انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔

دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ شادی اور نکاح کو باطل قرار دینے سے متعلق قانون مسلمانوں کے پرسنل لا کے تحت ہے اور ان کی مذہبی کتابوں کے ذریعہ اسے تسلیم کیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مقرر کیے گئے قاضیوں کو یہ واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ایسے تنازعات کو قبول نہ کریں جن میں فریقین پہلے ہی عدالت سے رجوع ہوچکے ہیں یا پھر تنازعہ کے خوشگوار تصفیہ کے لیے رضامند نہ ہوں۔

تبصرہ کریں

Back to top button