قرآن پاک کے مطابق اسلام میں حجاب پہننا لازمی: وکیل دیودت کامت

اڈوپی کے طلباء اور والدین نے حجاب کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔ ہائی کورٹ میں آج سماعت کے دوران تین الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں۔

بنگلورو: حجاب اور بھگوااسکارف تنازع کرناٹک کے بیشتر اضلاع کے کالجوں میں پھیل گیا ہے۔ اڈوپی کے طلباء اور والدین نے حجاب کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔ ہائی کورٹ میں آج سماعت کے دوران تین الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں۔

بعد از دوپہر ہائی کورٹ میں دوبارہ شروع ہونے والی سماعت کے دوران این۔ کرشنا دکشت نے دفاع کے لیے دلائل دیے۔ ریاستی حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں یونیفارم کو لازمی قرار دیا ہے لیکن حجاب اور بھگوا اسکارف ریاست کے کئی اضلاع میں موضوع بحث بن چکے ہیں اور اسکولوں اور کالجوں میں طلباء کے درمیان تنازعات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگا نے بتایا کہ کالجوں میں یونیفارم کو لازمی قرار دینے کا اختیار اور آزادی ہے۔ منگل کو بھی حجاب اور بھگوا اسکارف کو لے کر تشدد، پتھراؤ اور ہلکا لاٹھی چارج ہوا۔ ہائی کورٹ میں حجاب پر پابندی سے متعلق سماعت بھی صبح 11.30 بجے ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل دیودت کامت نے دلیل دی کہ قرآن پاک کے مطابق اسلام میں حجاب پہننا لازمی ہے۔ اس پر پابندی لگا کر حکومت نے طلبہ کے حقوق کو پامال کیا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19(1) کہتا ہے کہ لباس پہننے کا حق ہے۔ اپنے مذہب پر عمل کرنا لوگوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت مذہبی پابندی کا تعین نہیں کر سکتی۔ حجاب سے بالوں کو ڈھانکنا چاہیے۔

درخواست گزار کے وکیل کامت نے عدالت میں دلیل دی کہ کیرالا ہائی کورٹ نے اس حق کو تسلیم کیا ہے۔ ریاستی حکومت حجاب کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی ہے، جو لوگ حجاب پہننا چاہتے ہیں وہ کالج بورڈ سے پرمٹ لے سکتے ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button