لالو یادو کو ضمانت کے خلاف درخواستوں کی سماعت سے سپریم کورٹ کا اتفاق

سپریم کورٹ نے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ کے دو معاملوں میں دی گئی ضمانت کو چیلنج کرنے والی جھارکھنڈ حکومت کی عرضی پر پیر کو ان سے جواب طلب کیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ کے دو معاملوں میں دی گئی ضمانت کو چیلنج کرنے والی جھارکھنڈ حکومت کی عرضی پر پیر کو ان سے جواب طلب کیا۔

جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گوائی کی بنچ نے نوٹس جاری کیا اور لالو یادو کو ضمانت دینے کے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی ریاستی حکومت کی درخواست پر جواب طلب کیا۔

یہ معاملہ ہائی کورٹ کے مورخہ 17 اپریل 2021 اور 9 اکتوبر 2020 کے احکامات سے متعلق ہے (دمکا اور چائی باسا ٹریژری کیسس سے متعلق)۔

درخواست گزار کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا یہ خیال کہ مجرم پہلے ہی آدھی سزا کاٹ چکا ہے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 427کے خلاف ہے ۔

سابق چیف منسٹر لالو یادو کو جھارکھنڈ کے دیوگھر، دمکا اور چائباسا ٹریژری سے کروڑوں وپے دھوکہ سے نکالنے (چار چارہ گھوٹالہ کے) کے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button