لڑکی کرے تو برائی اور لڑکے کے لیے

سلمان مجھے لے کر خوب گھومتا تھا بلکہ ہم دونوں نے صرف شادی نہیں کی لیکن عملی طور پر ہمارے درمیان میاں بیوی کی طرح تعلقات تھے۔ لیکن سال 2019ء میں مجھے پتہ چلا کہ سلمان کی شادی کسی دوسری لڑکی سے ہو رہی ہے تو میں نے سلمان کے اس دھوکہ کے بعد طئے کرلیا اب میں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی۔

محمد مصطفی علی سروری

میں نورخاں بازارکی رہنے والی ہوں۔ میری دوستی تقر یباً سات سال پہلے نلہ کنٹہ کے رہنے والے سلمان کے ساتھ ہوئی۔ حالانکہ ہم دونوں الگ الگ علاقے کے رہنے والے تھے۔ لیکن ہمارے درمیان انسٹاگرام مشترک تھا۔ اسی ایپ کے ذریعہ سے ہمارا رابطہ ہوا۔ بہت جلد ہماری دوستی گہری ہوگئی۔ ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گھومنے پھرنے لگے۔ ہماری نیت کوئی بری نہیں تھی۔ ہم تو شادی کرنا چاہتے تھے۔ سلمان نے میرے ساتھ یہی وعدہ کیا تھا لیکن جب سال 2015ء میں وہ وقت آگیا جب سلمان کا مجھ سے شادی کرنا ضروری تھا لیکن سلمان نے شادی سے انکار کردیا۔ میں تو برباد ہوگئی تھی۔ میرا تو سب کچھ لٹ گیا تھا۔ میں تو مجبور تھی اور آخری سہارے کے طور پر میں پولیس سے رجوع ہوئی اور باضابطہ طور پر شکایت درج کروائی۔

پولیس میں ایف آئی آئی درج ہونے کے بعد سلمان دبائو میں آگیا اور مجھ سے مل کر اس نے معافی چاہی اور منت سماجت کرنے لگا کہ میں پولیس شکایت واپس لوں چونکہ سلمان نے مجھ سے شادی کرلینے کا وعدہ کیا تھا تو میں نے اس نیت سے کہ اب سلمان کا وعدہ کیا تھا تو میں نے اس نیت سے کہ اب سلمان تو میرا شوہر بننے تیار ہے تو اپنے شوہر کے خلاف شکایت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں لہٰذا میں نے سلمان سے مفاہمت کرنے کے لیے پولیس شکایت واپس لے لی۔ مجھے خوشی تھی کہ میری زندگی سدھر گئی۔

سلمان مجھے لے کر خوب گھومتا تھا بلکہ ہم دونوں نے صرف شادی نہیں کی لیکن عملی طور پر ہمارے درمیان میاں بیوی کی طرح تعلقات تھے۔ لیکن سال 2019ء میں مجھے پتہ چلا کہ سلمان کی شادی کسی دوسری لڑکی سے ہو رہی ہے تو میں نے سلمان کے اس دھوکہ کے بعد طئے کرلیا اب میں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی۔ لیکن سلمان اپنی شادی کے کچھ دن بعد دوبارہ مجھ سے انسٹاگرام پر رابطہ کرنے لگا اور پھر اس نے بولا کہ اس کی بیوی تو بیمار ہے اور اس کی طبیعت صحیح نہیں ہے اور اس مرتبہ وہ مجھ سے ہی شادی کرے گا۔

سلمان نے دوبارہ شادی کے وعدے پر میرے پیسے لیے۔ میں محنت کر کے کمانے والی لڑ کی ہوں۔ آج بھی سلمان میرے ایک لاکھ دس ہزار روپئے باقی ہے۔ شادی کے وعدے کے ساتھ اس نے میرے ساتھ ہر طرح کا کھیل کھیلا۔ مسجد کے روبرو وعدہ کیا۔ یہ شاید دسمبر 2021ء کی بات ہے۔ سلمان نے وعدہ کیا کہ 15؍ جنوری 2022 کو وہ میرے ساتھ نکاح کرلے گا۔ اب میں روزے رکھنے لگی تاکہ ہماری زندگی کامیاب ہوجائے لیکن 15 ؍ جنوری سے ایک دن پہلے ہی سلمان نے مجھے مرتبہ پھر سے دھوکہ دیا۔ مجھے بتلائے بغیر دوبئی چلا گیا۔ میرے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں اب تو اس کا پیچھے چھوڑنے والی نہیں ہوں ۔ اس لیے میں دبیرہ پولیس اسٹیشن میں پھر سے جنوری 2022ء میں ایف آئی آر درج کروائی ہوں۔ اب میں انصاف کے حصول تک خاموش نہیں بیٹھوں گی۔ سب لوگ میری مدد کرے تو میرا کام آسان ہوسکتا ہے اور ایک مومن کو انصاف مل سکتا ہے۔

قارئین کرام یہ ساری کہانی ایک مسلم لڑکی کی ہے۔ جو میڈیا کے روبرو اپنی ایف آئی آر کی نقل بتلاکر انصاف کی اپیل کر رہی ہے۔ برقعہ پوش مسلم خاتون کے اس ویڈیو پر لوگوں نے انگلیاں اٹھائیں اور تبصرے کیے۔ لڑکی کے کردار پر، اس کی پرورش پر سوالات اٹھائے گئے۔ لڑکی گھر والوں کو غیرت دلائی گئی اور میڈیا کو یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ ٹھیک ہے ایک لڑکی اپنی کہانی سنا رہی ہے میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی خبروں کو کوریج نہ دے۔ اس لڑکی کی کہانی پر ہم بعد میں بات کریں گے۔ آیئے۔ اب ایک اور خبر کا بھی مطالعہ کرلیجئے گا۔

یہ واقعہ 20؍ نومبر 2021 کا ہے۔ حیدرآباد کے ایک مسلم گھرانے کی دو بہنوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوجاتا ہے اور یہ جھگڑا اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ چھوٹی بہن جس کی عمر 15برس بتلائی گئی ہے وہ اپنی بہن کا گھرچھوڑ کر رات کے اندھیرے میں گھر سے باہر چلی جاتی ہے۔ بہن کو چھوڑ کر سڑک پر آٹو والوں سے مدد مانگنے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس 15 سالہ لڑکی کو جسمانی استحصال کا نشانہ بناکر باضابطہ طور پر جسم فروشی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لڑکی کی بڑی بہن پولیس میں اپنی بہن کی گمشدگی کی شکایت درج کرواتی ہے۔ بہادر پورہ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیتا ہے مگر لڑکی کا کوئی پتہ نہیں چلتا اور پھر ایک مہینے گیارہ دن کے بعد گمشدہ لڑکی کی بڑی بہن کو انسٹاگرام پر اپنی چھوٹی بہن سے مسیج ملتا ہے وہ کہاں پر ہے اور کیسے بعض لوگ اس سے جسم فروشی کا کاروبار کروا رہے ہیں ۔

4؍ جنوری 2022ء کو بہادر پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں 15 سال کی ایک لڑکی گم ہوجاتی ہے۔ گمشدگی کا یہ واقعہ 20؍ نومبر کا ہے اور لڑکی کی بہن پورے دس دن بعد پولیس میں یکم ؍ دسمبر کو پولیس میں شکایت درج کروا رہی ہے۔ اس دس دن کے وقفے کو ذہن میں رکھیں۔ دوسرا اہم نکتہ دو آٹو ڈرائیورس کا رول ہے۔ دونوں مسلمان ہیں۔ اس کے بعد جب جنوری 2022ء میں بہادر پورہ پولیس 15سالہ نابالغہ لڑکی کو جن کے گھر سے برآمد کرواتی ہے وہ بھی دو مسلم خواتین ہیں جنہیں پولیس نے باضابطہ طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ اب ذرا ایک اور اہم نکتہ غور کریں کہ نابالغہ لڑکی اپنی بڑی بہن سے انسٹاگرام کے ذریعہ رابطہ کرتی ہے اور مدد مانگتی ہے۔ سوشیل میڈیا پر اس خبر کی اشاعت کے بعد پھر سے لوگوں کے تبصرے شروع ہوگئے۔ زیادہ تر لوگ جسم فروشی کروانے کے اس واقعہ میں ملوث مرد و خواتین ملزمان کو سخت سے سخت سزاء دلوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایک گوشہ بدستور مطالبہ کر رہا ہے کہ اس طرح کی خبروں کا میڈیا میں کوریج نہیں ہونا چاہیے۔

میری دانست میں دونوں واقعات کا پوری درد مندی اور ملی فکر کے ساتھ تجزیہ کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ ہماری نیت برائی کا خاتمہ اور اصلاح ہے۔ اگر مسلم میڈیا مالکان اپنے فورمس پر اس طرح کی خبروں کا کوریج نہ کریں تو پولیس کے FIR اور پولیس کے پریس نوٹ دوسرے اخبارات اور پلیٹ فارمس پر ضرور شائع ہوسکتے ہیں۔ تو یہ مشورہ بالکل نامعقول ہے کہ اس طرح کے واقعات اور جرائم کا کوریج نہ ہو۔ خبروں کو چھپانے سے مسائل حل ہونے والے تو نہیں ہاں اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان مسائل کا تجزیہ کریں۔

پہلا جو واقعہ ہے وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے سماج اور ہماری قوم میں لڑکے، لڑکیاں بالغ ہونے کے بعد بھی ان کی شادیوں کا کوئی نظم نہیں ہے۔ اپنے گھروں میں اپنے والدین اور اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرتے نظر آنے والے بچے بچیاں بغیر شادی کے بھی ایک دوسرے کے ساتھ رسم و راہ بنا رہے ہیں اور شادی کے وعدوں پر وہ سب کام کر جارہے ہیں جو کہ نکاح کے بعد ہی کرنا جائز ہے۔ لاکھ سہی کوئی کیسا ہی لباس پہنے، لباس کسی کی شرافت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ لباس ہی نہیں لاکھ کوئی کسی بھی شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہو ایسے ایسے چہرے اور ایسے یسے سفید پوش افراد جرائم کی خبروں میں بے نقاب ہو رہے ہیں کہ تعجب اور حیرت ہوتی ہے۔ ہم آنکھیں موند کر حقیقت سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے۔ ہم مسلمانوں کو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی۔ ہمارے بچوں کے بڑے (بالغ) ہوجانے کے بعد فوری طور پر ان کی شادیاں نہیں کی جائے تو شیطان ان کو کبھی بھی ورغلا سکتا ہے۔ شرعی حدود میں نکاح اور شادی کو مشکل بناکر ہم ہرگز اطمینان نہیں کرسکتے۔ اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ابھی تو لڑکا سیٹ نہیں ہوا۔ ابھی تو لڑکی کی پڑھائی پوری نہیں ہوئی ہے۔ ذرا غور کیجئے جذبات میں آکر نہیں بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے 15 سالہ نابالغہ لڑکی سے جسم فروشی کروانے والے مسلمان اور لڑکی کے بیان کے مطابق جیسا کہ پولیس نے بتلایا لڑکی سے یہ دھندا مسلم بستی میں ہی کروایا جاتا رہا۔ کیا ان لوگوں کے بارے میں کسی نے غور کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو غیر شرعی طور پر شادی سے ہٹ کر کسی خاتون یا عورت سے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے رجوع ہو رہے ہیں۔

میڈیا میں ایسے واقعات کو روکنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ لڑکیوں کے ہاتھ سے موبائل چھین لینے سے حالات سدھرنے والے نہیں۔ OYO کی ہوٹل سرویس پر پابندی لگانے سے بات بننے والی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی شادیوں میں عجلت کریں۔ صرف لڑکیوں کی نہیں بلکہ لڑکوں کی شادی بھی جلد سے جلد کرنے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ بچوں کی شادی نہیں کی جائے گی تو وہ شیطان کے بہکاوے میں آسکتے ہیں۔

کیا یہ سچ نہیں ہمارے سماج میں شرعی حدود میں نکاح آسان نہیں بلکہ مشکل بن گیا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں اگر شادی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں تو اس کے لیے صرف والدین اور سرپرست ہی نہیں ہم میں کا ہر فرد ذمہ دار ہے جو دعوتی کا (دعوتوں میں شرکت کرنے والا کا رول ) نبھاتے ہیں۔

اور پھر تربیت کا سوال بھی اٹھتا ہے کہ بچوں کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہے تو ہم نے اپنے بچوں کوکھلانا تو سکھایا لیکن اپنے جذبات پر قابو رکھنے کے لیے نفل روزوں کی تعلیم ہی نہیں دی۔ تعلیم کی بات پر یاد آیا کہ ہم نے تعلیم تو دور قرآن بھی نہیں سمجھایا اور بچے جب اپنے طور پر سیکھنا شروع کیے تو انہوں نے انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک دیکھا اور وہیں سے سیکھا جہاں پر ہر لمحہ برائی کی نئی نئی صورتیں اور تدبیریں سکھائی جارہی ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس مشکل حالات میں ہم سب پر ہماری اولاد پر ہماری نوجوان نسل پر رحم فرما۔ آمین یارب العالمین۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)۔

فون : 9848023752

تبصرہ کریں

Back to top button