لڑکی ہندو ہو یا مسلمان شادی مسئلہ ہے

یہ جولائی 2018 ء کی بات ہے جب دہلی کی ایک ٹیچر کو ایک ڈاکٹر کا رشتہ آیا تو وہ بڑی خوش تھی کہ عمر میں تھوڑا فرق ہے مگر ڈاکٹر کا رشتہ ہونے کے سبب اس نے شادی کے لیے فوری طور پر حامی بھرلی۔ اتنا ہی نہیں خاتون نے شادی کے بعد دہلی میں اپنی نوکری چھوڑ کر اڑیسہ کا رخ کرلیا کیونکہ جس ڈاکٹر سے اس کی شادی ہوئی تھی وہ اڑیسہ کا ہی رہنے والا تھا۔

محمد مصطفی علی سروری

یہ جولائی 2018 ء کی بات ہے جب دہلی کی ایک ٹیچر کو ایک ڈاکٹر کا رشتہ آیا تو وہ بڑی خوش تھی کہ عمر میں تھوڑا فرق ہے مگر ڈاکٹر کا رشتہ ہونے کے سبب اس نے شادی کے لیے فوری طور پر حامی بھرلی۔ اتنا ہی نہیں خاتون نے شادی کے بعد دہلی میں اپنی نوکری چھوڑ کر اڑیسہ کا رخ کرلیا کیونکہ جس ڈاکٹر سے اس کی شادی ہوئی تھی وہ اڑیسہ کا ہی رہنے والا تھا۔
ٹیچر کی شادی ڈاکٹر سے ہوگئی سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا لیکن شادی کے تھوڑے دن بعد ٹیچر کو پتہ چلا کہ وہ ڈاکٹر کی اکلوتی بیوی نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر نے ایک دو نہیں بلکہ کئی شادیاں کی ہیں۔ دہلی کی ٹیچر کو جلد ہی حقیقت کا پتہ چل گیا۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ شوہر سے علیحدگی اختیار کر کے واپس دہلی چلی جائو لیکن اس خاتون ٹیچر نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ڈاکٹر کی دھوکہ دہی کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کرونا کی وباء کے چلتے عام زندگی کے معمولات تھم سے گئے لیکن دہلی کی خاتون کو ٹیچر کو حالات کے سدھرنے کے بعد جیسے ہی موقع ملا اس نے جولائی 2021ء میں اڑیسہ کی مہیلا پولیس کے ہاں باضابطہ طور پر ڈاکٹر کی دھوکہ دہی کے خلاف شکایت درج کروادی۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کی 21؍ فروری 2022ء کی بھونیشور سے شائع رپورٹ کے مطابق پیر 14؍ فروری کو اڑیسہ پولیس نے اس ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا۔ جس نے دہلی کی ٹیچر کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہوئے شادی کی تھی۔
قارئین کرام بظاہر یہ دھوکہ دے کر شادی کرنے کا واقعہ نظر آرہا ہے لیکن اڑیسہ کے اس ڈاکٹر کی گرفتاری کے بعد بھونیشور کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈاکٹر اوما شنکر داش نے جو تفصیلات بتلائی وہ بڑی حیران کن تھیں۔
ڈاکٹر جس کا نام پرکاش سیوان بتلایا گیا وہ نقلی ڈاکٹر ہے اور ایک دوسری خبر میں یہ بھی اطلاع دی گئی ہے وہ تو صرف دسویں پاس ہے۔
ہندوستان ٹائمز اخبار نے اس کی عمر 54 سال بتلائی ہے۔ اب خبر کا سب سے دلچسپ پہلو تو یہ ہے کہ اڑیسہ کے اس شخص نے دو ایک نہیں بلکہ جملہ 27خواتین سے شادیاں کی اور انہیں دھوکہ دیا۔ شادی کے بعد عورتوں سے ان کا پیسہ لے کر چلتا بنا۔ بات صرف اتنی نہیں ہے جب ہم ان عورتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جن کے متعلق پولیس کے اعلیٰ اہلکار نے بتلایا تو تعجب ہوتا ہے۔ اس دھوکہ باز نے آن لائن شادی طئے کروانے والی ویب سائٹ کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم یافتہ با اثر خواتین کو تک دھوکہ بازی کا نشانہ بنایا ہے۔
دھوکہ دہی کا نشانہ بننے والی ان عورتوں میں دہلی ہائیکورٹ کی ایک وکیل، انڈوتبتن بارڈر پولیس کی اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار نے مزید بتلایا کہ ملزم کا مقصد عورتوں سے شادی کرتے ہوئے ان کا مال و دولت حاصل کرنا ہوتا تھا۔ وہ پنجاب، جھارکھنڈ اور دہلی کی عورتوں کے رشتے آن لائن رشتہ لگانے والی ویب سائٹ سے حاصل کرتا اور خاص کر ایسی خواتین اور عورتوں کو نشانہ بناتا جن کی شادیوں میں تاخیر ہو رہی ہو یا جن کی شادی کے بعد علیحدگی ہوچکی ہو۔ اڑیسہ کے اس دھوکہ باز کا نشانہ بننے والی خواتین کی اکثریت نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ سرکاری ملازمت کرتی ہیں یا خانگی شعبہ میں بھی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ لیکن ان (27) خواتین میں سے صرف ایک خاتون جو کہ دہلی میں ٹیچر تھی نے پولیس میں شکایت کرنے کے لیے آگے آئی۔ اور بقیہ خواتین دھوکہ دہی کے باوجود بھی اپنی بدنامی کے ڈر سے پولیس سے رجوع ہونے سے کتراتی رہیں۔
پولیس نے پرکاش سیوان کو بھونیشور کے ایک کرایہ کے گھر سے گرفتار کیا اور ساتھ میں اس کے گھر سے (128) اے ٹی ایم کارڈ اور (4) آدھار کارڈ جو الگ الگ ناموں سے بنوائے گئے تھے کے علاوہ بہار کے اسکول بورڈ کا سرٹیفکیٹ بھی برآمد کی ہے۔
ہندوستان میں آج بھی لڑکیاں کس قدر سنگین خطرات کا سامنا کر رہی ہیں اس کا ذرا اندازہ لگایئے۔ لڑکیوں کی شادیاں آج ہمارے ہاں بلاکسی مذہبی امتیاز کے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہیں۔
قارئین ذرا اس ٹیچر کے بارے میں سونچئے جس نے شادی کے نام پر دھوکہ کے بعد پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ دہلی کی خاتون ٹیچر کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز نے لکھا کہ والد کے انتقال کے بعد اس لڑکی نے پڑھ لکھ کر اپنے گھر والوں ماں اور چھوٹے بھائی بہنوں کی ذمہ داری سنبھالنا شرع کیا اور اس عرصے کے دوران اس کی عمر 40 برس ہوگئی۔ اب ضعیف ماں کا اصرار تھا کہ وہ فوری طور پر شادی کرلے۔ اپنی ماں کے مسلسل اصرار پر اس ٹیچر نے ایک آن لائن شادی کے پورٹل پر اپنے نام کا رجسٹریشن کروایا۔ اس کے پندرہ دن بعد ہی پرکاش سیوان نے اس ٹیچر کے لیے شادی کا پیغام بھجوادیا۔ پرکاش نے دہلی جاکر لڑکی سے ملاقات کی اور اپنے آپ کو ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل منسٹری آف ہیلتھ کے طور پر تعارف کروایا اور کہا کہ فی الحال اس کی پوسٹنگ بنگلور میں ہے لیکن شادی کے بعد وہ دہلی میں اپنا ٹرانسفر کروالے گا۔ بات چیت کے دوران پرکاش کے ساتھ ایک اسسٹنٹ بھی کھڑا تھا جو اس کے آفس کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ دو ملاقاتوں میں ہی دہلی کی خاتون ٹیچر اور اس کے گھر والے مان گئے۔ لڑکی کی عمر بھی چالیس برس تھی اور دولہا بھی 50 برس کا تھا۔ لڑکی والے خوش تھے کہ اتنا بڑا سرکاری عہدیدار ان کی بچی سے شادی کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ ان دونوں کی سال 2018ء میں ہی دہلی کی آریہ سماج کے مندر میں یہ شادی ہوگئی لیکن شادی کے بعد پرکاش دولہن کو بنگلور نہیں لے گیا۔ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی دولہن کو اڑیسہ لے کر گیا۔ وہ پانچ دن ساتھ رہے پھر اچانک پرکاش نے بتایا کہ اس کو ایک ضروری کام سے فوری طور پر بنگلور جانا ہے۔ وہ بھی دہلی واپس چلی آئی۔ پرکاش کا اچانک مہینوں تک غائب ہونا شک کا باعث بنا اور پھر جب دہلی کی اس خاتون ٹیچر کو کہیں سے اپنے شوہر کی دھوکہ بازی کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے اس دھوکہ باز کو سبق سکھلانے کے لیے پولیس میں شکایت درج کروانا ضروری سمجھا اور پولیس نے تقریباً 8 مہینوں کی تحقیقات کے بعد 14؍فروری کو پرکاش کو باضابطہ گرفتار کر کے 27 شادیوں کابھانڈا پھوڑ دیا۔ پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پرکاش کی دھوکہ دہی کا شکار بننے والی خواتین میں ایک چارٹرڈ اکائونٹنٹ کے علاوہ سپریم کورٹ میں کام کرنے والی دو خواتین ، ریاست کیرالا کی ایڈمنسٹریٹو سرویس میں کام کرنے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ (بحوالہ اخبار ہندوستان ٹائمز۔ 21؍ فروری 2022ء کی رپورٹ)
قارئین یہ کوئی عام سا واقعہ نہیں بلکہ یہ واقعہ ہمارے سماج میں لڑکیوں کی شادی کس قدر مشکل بنادی گئی ہے اس کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ہندوستانی لڑکی چاہے کتنی بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے شادی کے نام پر اس کے ساتھ دھوکہ ہوسکتا ہے۔ چاہے لڑکی وکیل بن کر سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے لگے یا سیول سروس کا ریاستی امتحان کامیاب کرے یا پھر ملک کا باوقار امتحان کامیاب کر کے چارٹرڈ اکائونٹنٹ کیوں نہ بن جائے۔ اس کے ساتھ شادی کے نام پر دھوکہ ہوسکتا ہے اور تو اور اتنی بااختیار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی اپنے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی کی شکایت پولیس میں درج کروانے سے صرف اس لیے پیچھے ہٹتی ہیں کہ ان کی اور ان کے گھر والوں کی بدنامی ہو گی۔
خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی اور شادی کے نام پر دھوکہ دہی تو دنیا بھر میں ہوتی ہے لیکن دوسرے ملکوں میں خواتین اپنے حق کے لیے آواز بھی اٹھاتی ہیں اور دھوکہ کے خلاف شکایت بھی درج کرواتی ہیں۔
انگریزی اخبار خلیج ٹائمز نے 19؍ فروری 2022 کو ابوظہبی سے ایک خبر دی کہ ایک عرب شہری نے ایک مقامی خاتون سے شادی کا وعدہ کیا اور شرط رکھی کہ اگر خاتون اس کا وہ قرضہ ادا کرے جو وہ ابوظہبی میں باقی ہے تو وہ اس خاتون سے شادی کر لے گا۔ اس عرب شہری کو حکومت ابوظہبی نے ملک میں داخلہ کی اجازت سے اس وقت تک منع کردیا تھا جب تک وہ اپنے قرضے کی رقم ادا نہیں کرتا۔ اس پس منظر میں جب خاتون نے اس شخص کا قرضہ واپس کر کے ابوظہبی میں اس کے داخلہ کی راہ ہموار کی تو واپس ابوظہبی آکر وہ عرب شہری شادی کے وعدے سے مکر گیا جس پر خاتون نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ وہ عرب شہری خاتون کو چار لاکھ تیس ہزار درہم کی رقم واپس کرے۔ یہ تو عرب معاشرے کی مثال تھا لیکن ہمارے ملکی معاشرے میں خواتین کو درپیش شادی کے مسائل حل کرنے کے لیے کون آگے آئے گا۔ ذرا سونچئے گا۔ ہندوستان کی عورتوں کو کس طرح سے قدم قدم پر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مسلمان عورتوں کے لیے بھی شادی کسی طرح سے بھی آسان نہیں ہے۔
مسلم معاشر ے میں شادیوں کے مسئلے کو اگر ہم مسلمان حل نہیں کریں گے تو خدشہ ہے کہ کل کے دن غیر اس مسئلہ کا بھی استحصال کریں گے۔
مسلم لڑکیو ںکے حجاب پہننے کو اسلام کی تعلیمات سے جوڑ کر نعرے لگانے والے مسلمان کیا اس حوالے سے غور کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ مذہب اسلام نے تو نکاح کو نہایت آسان بنایا تھا۔ پھر کیسے ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھی شادیاں مشکل ترین بن گئی ہیں۔ ذرا سونچئے گا۔ کیا ہم کو اسلام سے محبت صرف لڑکیوں کے حجاب استعمال کرنے تک ہی ہے یا ہم زندگی کی صبح و شام اور ہر معاملے میں اسلام کو ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کردے اور اپنا خود کا احتساب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں) ۔sarwari829@yahoo.com

تبصرہ کریں

Back to top button