لکڑی کے پل کی صدی قدیم ”خسرومنزل“ کا انہدام

حیدرآباد: شہرحیدرآبادکے ثقافتی ورثہ کواس وقت بڑا جھٹکہ لگا کہ جب شہر کے لکڑی کاپل علاقہ میں واقع صدی قدیم عمارت ”خسرو منزل“ کوجمعرات کی شب زمین دوزکردیاگیا۔

بتایا جاتاہے کہ یہ ڈھانچہ نظام کی فوج کے چیف کمانڈنگ آفیسر کی رہائش گاہ تھی۔اس عمارت کو 1920میں تعمیرکیاگیاتھا۔عمارت کے مالکان 2013 سے ہی اس ڈھانچہ کومنہدم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

انہوں نے اس قدیم عمارت کی چھت کومنہدم کردیاتھا۔ حیدرآبادمیٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے کئی مثالیں دیتے ہوئے اس عمارت کومنہدم کرنے کی اجازت نہیں دی۔

حیدرآباداربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (حڈا) کے رہنمایانہ خطوط کے تحت خسرو منزل کوتیسرے درجہ کا ہیرٹیج ڈھانچہ قرار دیاگیا تھا۔

شہر کے ایک تاریخ داں محمدشفیع اللہ نے کہاکہ بدبختی کی بات ہے کہ شہر ایک اورثقافتی ڈھانچہ سے محروم ہوگیا۔تاریخی عمارتوں اور ڈھانچوں کے تحفظ کیلئے ہمیں سخت قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک اور تاریخ داں انورادھا ریڈی نے کہاکہ حڈانے اس عمارت کومنہدم کرنے کی اجازت نہیں دی مگراس کے باوجود اس تاریخی ورثہ کوزمین دوز کردیا گیاایسا ظاہر ہوتاہے کہ حکومت‘ثقافتی ڈھانچوں کوبچانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

Back to top button