لکھیم پور کے کسان بی جے پی اور ایس پی سے برہم

کئی کسانوں نے کہا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر 23 فروری کو نوٹا (ان میں سے کوئی بھی نہیں) کا استعمال کریں گے، کیوں کہ انتخابات کے دوران تمام جماعتیں ان کے لیے زبانی جمع خرچ کرتی ہیں، لیکن ان کی شکایات کو دور کرنے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے۔

لکھیم پور کھیری (اترپردیش) :لکھیم پور کھیری کے کسان جو اکتوبر میں پیش آئے واقعہ سے ابھی تک ابھر نہیں سکے ہیں، آنے والے اسمبلی انتخابات میں ”نوٹا“ استعمال کرنے کے آپشن پر غور کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کی دو اصل سیاسی جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بی جے پی نے انہیں دھوکہ دیا ہے، جب کہ دیگر پارٹیاں غیرمؤثر ہیں۔

 تیرائی بیلٹ میں واقع ضلع لکھیم پور کھیری میں ان کسانوں کی اکثریت ہے۔ انہوں نے کہاکہ متنازعہ زرعی قوانین کی وجہ سے انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن وہ سماج وادی پارٹی کی تائید کرنا بھی نہیں چاہتے، کیوں کہ سابق اکھلیش یادو حکومت نے نیشکر مل مالکین کی جانب سے کاشتکاروں کو دو ہزار کروڑ روپئے کے سود کے بقایہ جات معاف کردیے تھے۔

 کئی کسانوں نے کہا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر 23 فروری کو نوٹا (ان میں سے کوئی بھی نہیں) کا استعمال کریں گے، کیوں کہ انتخابات کے دوران تمام جماعتیں ان کے لیے زبانی جمع خرچ کرتی ہیں، لیکن ان کی شکایات کو دور کرنے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے۔

موضع مروچا کے ایک کسان جگپال ڈھلون نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں چاہے بی جے پی ہو، سماج وادی پارٹی ہو، بی ایس پی ہو یا کانگریس انتخابات کے دوران ان سے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے انہیں ایک شئے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی امید نہیں ہے۔ بی جے پی کو تکونیا میں 3 اکتوبر کو پیش آئے واقعہ کی سزا بھگتنی ہوگی۔

یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ لکھیم پور کھیری کے موضع تکونیا میں کسانوں کے احتجاج کے دوران 4 کسانوں سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے لڑکے آشیش مشرا نے انہیں گاڑی سے روند دیا تھا۔ اس کیس میں آشیش مشرا اصل ملزم ہیں اور جیل میں ہیں۔ کیول سنگھ نے جو اپنے دو بھائیوں کے ساتھ پالیا میں 45 ایکڑ اراضی کے مالک ہیں، کہا کہ کسان یہ نہیں بھولیں گے سابق اکھلیش یادو حکومت نے دو ہزار کروڑ روپئے سود کی رقم معاف کردی تھی، جو نیشکر کسانوں کو مل مالکین سے ملنے والی تھی۔

 انہوں نے کہاکہ کسانوں کی حالت بی جے پی حکومت میں بدتر ہوگئی ہے جس نے ہماری آمدنی کو دُگنا کردینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سوال پر کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں وہ کس کا ساتھ دیں گے، کیول سنگھ نے کہا کہ ہمیں بی جے پی یا سماج وادی پارٹی سے کوئی امید نہیں ہے۔ باقی جماعتیں کوئی معنی رکھتیں۔ کسانوں کی بڑی تعداد ووٹ دینے سے گریز کرنے کے حق میں ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر ہم نوٹا کا بٹن استعمال کریں گے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button