ماریوپول کے ایک تھیٹر پر روسی حملہ

یوکرین کے عہدیداران ان سینکڑوں شہریوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو محصورہ شہر ماریوپول میں روسی حملہ سے تباہ شدہ ایک تھیٹر میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

کیف: یوکرین کے عہدیداران ان سینکڑوں شہریوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو محصورہ شہر ماریوپول میں روسی حملہ سے تباہ شدہ ایک تھیٹر میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

دریں اثناء سرکاری عہدیداران نے بتایا کہ روسی گولہ بارود سے دوسرا صف اول کے شہر کی عمارتیں تباہ ہوگئیں جہاں شہری رہتے تھے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ چند افراد ماریوپول تھیٹر حملہ میں زندہ بچ گئے ہیں لہٰذا امید پیدا ہوگئی ہے ماریوپول سٹی کونسل کی جاری کردہ تصویر میں ایک بڑے تین منزلہ تھیٹر کے مکمل حصہ کو چہارشنبہ کی شام حملہ کے بعد منہدم دکھایا گیا۔

عمارت کے تہہ خانہ میں سینکڑوں افراد پناہ لئے ہوئے ہیں اور وہ روس کے تین ہفتہ طویل گلا گھونٹنے والے محاصرہ سے اپنے تحفظ کی کوشش کررہے ہیں جبکہ یہ حکمت عملی مقام آزوف بحری بندرگاہی شہر ہے۔

شلٹر تھیٹر میں جانے والا انٹرنس ملبہ سے چھپ گیا ہے اور مہلوکین کی تعداد بھی غیر واضح ہے۔ ڈونسک علاقائی انتظامیہ کے سربراہ نے ٹیلی گرام پر یہ بات بتائی۔ یوکرینی پارلیمنٹ کے رکن اور ڈونسک کے سابق گورنر نے فیس بک پر بتایا کہ چند افراد تباہ شدہ عمارت سے زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے لیکن انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے جمعرات کو جرمن قانون سازوں سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کے لئے مزید مدد طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل شروع ہوئی جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 108 بچے شامل ہیں۔

انہوں نے ماریوپول کے سنگین حالات کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ روسیوں کے لئے ہر چیز نشانہ ہے جس میں تھیٹر بھی شامل ہے جہاں سینکڑوں افراد نے پناہ حاصل کی تھی جو کل مسمار کیا جاچکاہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button