ماں امتحان دیتی ہے بچے کامیابی حاصل کرتے ہیں

یہ تاملناڈو کے مدورائی ضلع کے ویلامل ودیالیہ سنٹر کی بات ہے جب سیکوریٹی گارڈز ایک 55 سالہ بزرگ کو طلبہ کے لائن سے باہر نکلنے کو کہا اور بتلایا کہ سرپرستوں کو امتحان سنٹر کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔لیکن ویلامل ودیالیہ کے سیکوریٹی گارڈ اور عملہ کی حیرت کی انتہاء نہیں رہی جب 55 سال کے بزرگ نے واضح کیا کہ وہ کسی طالب علم کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ وہ خود طالب علم ہیں۔ جی ہاں قارئین کرام 55 سال کے راجیہ کوڈی اپنا ہال ٹکٹ ہاتھ میں پکڑے امتحان ہال میں داخلہ کے لیے قطار میں موجود تھے۔

محمد مصطفی علی سروری

اتوار 17؍ جولائی کے دن دوپہر کے دو بجے سے پہلے پہلے لاکھوں طلبہ میڈیکل انٹرنس امتحان لکھنے کے لیے اپنے اپنے امتحانی مرکز پہنچ چکے تھے۔ صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ ان کے والدین اور سرپرست بھی ان کے ساتھ امتحانی مراکز پر موجود تھے۔ جیسے جیسے دو بجے کا وقت قریب آرہا تھا امتحانی مراکز پر تعینات عملہ طلبہ کو جلد سے جلد اپنے اپنے رول نمبر چیک کرنے اور اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ترغیب دے رہا تھا اور سرپرستوں سے امتحانی سنٹر کے باہر انتظار کرنے اور بیٹھنے کو کہا جارہا تھا۔ طلبہ جلدی جلدی قطار بناکر امتحانی مرکز میں داخل ہو رہے تھے۔
یہ تاملناڈو کے مدورائی ضلع کے ویلامل ودیالیہ سنٹر کی بات ہے جب سیکوریٹی گارڈز ایک 55 سالہ بزرگ کو طلبہ کے لائن سے باہر نکلنے کو کہا اور بتلایا کہ سرپرستوں کو امتحان سنٹر کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔لیکن ویلامل ودیالیہ کے سیکوریٹی گارڈ اور عملہ کی حیرت کی انتہاء نہیں رہی جب 55 سال کے بزرگ نے واضح کیا کہ وہ کسی طالب علم کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ وہ خود طالب علم ہیں۔ جی ہاں قارئین کرام 55 سال کے راجیہ کوڈی اپنا ہال ٹکٹ ہاتھ میں پکڑے امتحان ہال میں داخلہ کے لیے قطار میں موجود تھے۔
راجیہ کوڈی کا تعلق امبائی این پٹی مدورائی سے ہے۔ وہ شروع سے ہی ڈاکٹر بننے کے خواہشمند تھے۔ انہوں نے 17 سال کی عمر میں ایم بی بی ایس میں داخلہ کا امتحان کامیاب کرنے کے بعد ایک خانگی میڈیکل کالج میںد اخلہ لیا تھا۔ لیکن خانگی کالج کی بھاری فیس وہ نہیں دے سکے تھے۔ تو انہیں اپنا میڈیکل کورس چھوڑ دینا پڑا۔ پھر انہوں نے بی ایس سی کا کورس مکمل کیا اور اپنی عملی زندگی میں جٹ گئے۔ گھر کی اور بچوں کی ذمہ داریوں میں الجھنے کے بعد بھی راجیہ کو ڈی کے دل میں ڈاکٹر بننے کی خواہش چنگاری بن کر جل رہی ہے۔ اور پچھلے برس جب انہوں نے یہ خبر پڑھی کہ اڑیسہ کے ایک 64 سالہ بزرگ نے NEET کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایک میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا ہے تو انہوں نے طئے کرلیا وہ بھی NEET کا امتحان لکھیں گے۔ یوں مدورائی کے 55 سالہ راجیہ کو ڈی نے اس برس 17؍ جولائی 2022ء کو میڈیکل انٹرنس کا امتحان لکھا۔ انہوں نے اخبار نیو انڈین ایکسپریس بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس ان کے لڑکے نے بھی NEET کا امتحان 521 مارکس کے ساتھ پاس کرتے ہوئے کڈولور کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لے لیا تو انہوں نے اپنے بچے کے نوٹس کی مدد سے اس برس کے امتحان کی تیاری کی اور بہت پر امید ہیں۔ انہوں نے اخبار کو بتلایا کہ اتوار کے امتحان میں فزکس اور کیمسٹری کے سوالات انہیں آسان لگے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انہیں 460 مارکس ملیں گے۔ (اخبار نیو انڈین ایکسپریس 18؍ جولائی 2022)
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ راجیہ کوڈی اگر 55 سال کی عمر میں NEET کا امتحان لکھتے ہیں تو اس سے ہمیں کیا سیکھ ملتی ہے۔ قارئین دراصل اس حقیقی اسٹوری میں ہمیں بہت ساری چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں کہ اپنی زندگی میں ہمیں کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے اور دوسری اہم بات کہ پڑھائی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ 55 سال کی عمر میں انٹرنس لکھنا اس بات کو ثابت کرتا ہے۔ اگر انسان اپنے اندر چاہت کی شمع کو جلائے رکھتا ہے تو اس سے روشنی ضرور ملے گی۔
خیر یہ تو 55 سالہ شخص کی بات ہوگئی۔ آیئے اب ایک ایسی 22 سالہ نوجوان لڑکی کی بات کرتے ہیں جو پڑھ لکھ کر ٹیچر بننا چاہتی ہے۔ اس لڑکی کا نام لاڈلی مدولی ہے اور اس کا تعلق درج فہرست قبائل سے ہے۔ وہ اڑیسہ کے کوراپٹ کی رہنے والی ہے۔ اس نوجوان خاتون کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس میں اس کے کسان باپ کو پانچ لڑکیاں ہیں اور لاڈلی اپنے والدین کی پانچویں اولاد ہے۔ اس کی چار بڑی بہنوں کی پہلے ہی شادی ہوگئی ہے لیکن لاڈلی نے اپنی شادی کی مخالفت کی اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ آگے بڑھے گی اور ایک دن اپنے پیروں پر خود کھڑی ہوگی۔
لاڈلی کے والد تو کسان ہیں اور اس کے گھر کے وسائل محدود ہیں۔ اب لاڈلی کو اپنی پڑھائی کے لیے وسائل خود جمع کرنا ضروری تھے۔ لاڈلی نے بارہویں کا امتحان 65 فیصدی مارکس کے ساتھ پاس کیا۔ اس کے بعد Diploma in Elementary Education کا کورس بھی 85 فیصدی مارکس سے کامیاب کرنے کے بعد اب لاڈلی چاہتی ہے کہ وہ گریجویشن کی تعلیم حاصل کرے۔ اصل میں لاڈلی کی مجبوری ہی ہے کہ وہ کام کاج کرے تو ہی اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرسکتی تھی۔ اور گائوں دیہات میں اس کو کوئی مناسب اور اچھی نوکری نہیں مل رہی تھی تو لاڈلی نے بجائے بیکار رہنے کے محنت مزدوری کے راستے کو اپنایا۔
کیا لاڈلی کے لیے محنت مزدوری کرنا نئی بات ہے۔ اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 18؍ جولائی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق لاڈلی تو 12 سال کی عمر سے محنت کرنے لگی تھی۔ جب وہ تعمیراتی مزدوروں کی معاونت کرتی تھی اور اب خود بطور مزدور کام کر رہی ہے۔ اس کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ اس کو محنت مزدوری کرنے میں کوئی شرم نہیں آتی ہے۔ وہ روزانہ 200 روپئے کمالیتی ہے۔ جس سے وہ نہ صرف اپنی تعلیم کا خرچہ جمع کرتی ہے بلکہ باقی کی رقم گھر والوں کو گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لیے دیتی ہے۔
قارئین میڈیا کی ان خبروں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے سماج کے سبھی طبقات میں بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے اور درج فہرست قبائل کی لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کرنے نامساعد حالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ چونکہ جون ؍ جولائی دراصل امتحانات اور ان کے نتائج کے مہینے رہے ہیں تو تعلیم کے حوالے سے ہمیں ایسی ایسی خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں جس سے تحریک ملتی ہے۔
کھمم تلنگانہ کے 19 سالہ اے درگا پرساد کی کہانی بھی ایسی ہی ہے کہ ایک طالب علم کو کس طرح سے اپنی تعلیم پر فوکس رہنا چاہیے۔ پھر چاہے اس درمیان ہزار مشکلات آجائیں۔
حال ہی میں جب جے ای ای مین کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو درگا پرساد نے 96.48 فیصدی مارکس حاصل کیے او رکامیابی درج کروائی۔ قارئین ایک ایسے پس منظر میں جب 154 طلباء نے سو فیصدی نشانات کے ساتھ کامیابی درج کی تو 96.48 کے ساتھ کامیابی حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 14؍ جولائی 2022کی رپورٹ کے مطابق درگا پرساد نے جن حالات میں امتحان لکھا اور اس کا گھریلو پس منظر اس کی اس کامیابی کو ایک نئی پہچان دیتا ہے۔
جس دن درگا پرساد کو JEE کا امتحان لکھنے کے لیے جانا تھا۔ عین اسی دن درگا پرساد کی ماں کا دیہانت ہوجاتا ہے۔ لیکن درگا پرساد ہمت نہیں ہارتا اور اپنی ماں کی نعش کو گھر میں چھوڑ کر امتحان لکھنے چلا جاتا ہے۔
19 برس کی عمر میں درگا کا یہ پہلا امتحان تھا جب اس کی ماں اس کے ساتھ نہیں تھی۔ ورنہ ہر امتحان سے پہلے اس کی ماں ہر دم اس کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ کیادرگا کی ماں کوئی پڑھی لکھی خاتون تھیں جو اس کے اس کے امتحان میں تیاری کرتی تھی۔ اخباری اطلاع کے مطابق تو درگا کی ماں نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور تو اور درگا کی ماں تو دونوں آنکھوں سے محروم نابینا تھی لیکن نابینا ہونے کے باوجود اپنے بچے کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے، پڑھنے لکھنے اور اچھا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمیشہ ترغیب دلاتی رہتی تھی۔
درگا پرساد کے والد موہن ریڈی ایک کسان ہیں۔ انہوں نے نابینا خاتون سے شادی کی۔ درگا پرساد کا بڑا بھائی شہر حیدرآباد کے ایک ہاسٹل میں مقیم ہے اور ایل ایل بی کا کورس کر رہا ہے۔
درگا پرساد کا تعلق کھمم کے دور افتادہ چیرلہ منڈل سے ہے جو کہ ماوسٹوں سے متاثر علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم کے لیے اس کے والد نے اپنا گھر بدل دیا اور سرکاری تعلیمی اداروں سے بچوں کو دسویں اور انٹر کی تعلیم دلوائی۔
JEE مین میں کامیابی کے بعد درگا پرساد نے اخباری نمائندے کو بتلایا کہ میں آگے پڑھ کر آئی اے ایس بننا چاہتا ہوں تاکہ اپنی ماں کے خوابوں کی تکمیل کرسکوں۔ میری یہ کامیابی بھی میری ماں کی مرہون منت ہے۔
درگا کے والد موہن ریڈی کہتے ہیں کہ غربت کے باوجود ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز کی۔ میرے بچے کم عمری سے ڈسپلن کے پابند اور اچھی قدروں کے پاسدار ہیں۔ ہم نے ابتداء سے ہی ان کی تربیت کا خاص خیال رکھا۔ اخبار نے اس خبر کو Born in Poverty, this Telangana JEE Topper took exam day his mother died کی سرخی کے تحت شائع کیا۔
قارئین درگا پرساد کی شاندار کامیابی نے ثابت کیا کہ بچوں کی کامیابی کے لیے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں اور تو اور نابینا خاتون بھی اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور نمایاں کارکردگی کو یقینی بناسکتی ہے۔ یہ ماں کی حوصلہ افزائی اور تربیت ہی تھی کہ اپنی ماں کی موت پر بین بجانے کے بجائے درگا پرساد نے امتحان کو بہتر طور پر لکھ کر اپنی ماں کو خراج پیش کیا ہے۔ درگا کی اس کامیابی سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ کاش کے کوئی بتلائے غریبی، معاشی پریشانیاں، یہاں تک کسی عزیز کی موت کا غم بھی انسان کو تعلیم سے نہیں روک سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے اندر چاہت ہو اور جب کسی قوم میں مائیں کسی بات کا تہیہ کرلیتی ہیں تو وہ قوم انشاء اللہ ناکام نہیں ہوسکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے وہ امت مسلمہ کے ہر ماں باپ کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے فکر کرنے اور عملی اقدامات اُٹھانے والا بنائے۔ (آمین یا رب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں) – sarwari829@yahoo.com
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button