متبادل فصل کی کاشت پر دھان کے کسانوں کومعاوضہ دیا جائے : محمد علی شبیر

کسانوں کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے ریاستی حکومت کو دھان کی خریدی کیلئے متبادل ذرائع کو فروغ دینا چاہئے۔ یعنی دھان کی خریدی کیلئے ریاست کو مرکز پر منحصر نہیں رہنا چاہئے۔

حیدرآباد: کانگریس کے سینئر قائد و سابق وزیر محمد علی شبیر نے ہفتہ کے روز حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں کو دھان کی کاشت سے باز رکھنے کی کوشش نہ کرے۔ کسانوں کو دھان کی کاشت سے زبردستی باز رکھنا غیر قانونی قدم ہوگا۔

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو چاہئے کہ وہ مرکز سے مسلسل نمائندگی کرتے ہوئے ایف سی آئی (فوڈ کارپوریشن آف انڈیا) کو یاسنگی سیزن میں دھان کی خریدی نہ کرنے سے متعلق جاری کردہ احکام سے دستبرداری کیلئے مجبور کریں۔ مرکز پر دباؤ بنانے کیلئے چیف منسٹر کو اس مسئلہ پر کل جماعتی قائدین کے ایک وفد دہلی لے جائیں۔

کسانوں کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے ریاستی حکومت کو دھان کی خریدی کیلئے متبادل ذرائع کو فروغ دینا چاہئے۔ یعنی دھان کی خریدی کیلئے ریاست کو مرکز پر منحصر نہیں رہنا چاہئے۔

قانون ساز کونسل میں سابق سی ایل پی قائد محمد علی شبیر نے اپنے صحافتی بیان میں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر فصل کے بہ نسبت کسانوں کو دھان کی کاشت سے زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ اگر ایک ایکڑ اراضی پر اوسطاً30کنٹل دھان کی پیداوار ہوتی ہے تو اس سے کسانوں کو 58,200 روپے حاصل ہوں گے بشرطیکہ اس فصل کو اقل ترین امدادی قیمت پر فروخت کیا جائے۔

27 ہزار روپے کی ان پٹ سبسیڈی میں تخفیف سے کسانوں کو فی ایکر سے صرف31ہزار روپے کی آمدنی حاصل ہورہی ہے۔ آمدنی کی شرح میں اتار چڑھاؤ، معیار اور فصل کی معیار اور مارکٹ کے حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر دھان کے متبادل فصل کی کاشت کی جاتی ہے تو کسانوں کو اس طرح کی آمدنی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بڑی تعداد دھان کے متبادل فصل کی کاشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ متبادل فصل کی کی کاشت پر کسانوں پر مالی بوجھ پڑنے کی صورت میں حکومت کو ان کسانوں کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کسانوں کو دھان کی کاشت نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کاشتکاروں کو مالی بحران میں مبتلا نہیں کرسکتے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ان نامناسب حالات میں ریاستی حکومت کو ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔

2021-22 کے زرعی منصوبہ کے مطابق جس کو ریاستی حکومت نے اس سال اگست میں جاری کیا ہے، ریاست میں 41.85 لاکھ ایکڑ پر دھان کی کاشت کو یقینی بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ایف سی آئی کے فیصلہ کے باوجود ریاستی حکومت کو41.85 لاکھ ایکراراضی پر دھان کی کاشت کے فیصلہ کو واپس نہیں لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی اور ریاست کی ٹی آر ایس حکومت، کسانوں کی بہبود کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔

یہ حکومتیں، کسانوں کیلئے ایسے حالات پیدا کررہی ہیں کہ کاشتکار مجبور ہو کر کارپوریٹ اداروں کے آگے اپنا سرتسلیم خم کردیں۔ کسانوں کی آمدنی کو متاثر کرنے کیلئے یہ حکومتیں، ایک کے بعد دیگر مسائل کھڑے کررہی ہیں۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button