متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النیہان کا انتقال

صدارتی امور کی وزارت نے جمعہ سے شروع ہونے والے 40 دنوں کے لیے سرکاری سوگ اور پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا۔ وزارتوں، محکموں، وفاقی اور مقامی اداروں اور نجی شعبے میں بھی تین دن تک کام معطل رہے گا۔

ریاض: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان انتقال کر گئے ہیں، یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے جمعے کو بتائی۔ صدارتی امور کی وزارت نے جمعہ سے شروع ہونے والے 40 دنوں کے لیے سرکاری سوگ اور پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا۔

وزارتوں، محکموں، وفاقی اور مقامی اداروں اور نجی شعبے میں بھی تین دن تک کام معطل رہے گا۔

اسی دوران متحدہ عرب امارات کی وزارت صدارتی امور نے ملک کے عوام سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ عرب اور دیگر اسلامی ممالک نے بھی شیخ خلیفہ بن زید النیہان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ شیخ خلیفہ، 3نومبر 2004 سے ملک کی سربراہی کررہے تھے۔

اُن کی عمر 73 برس تھی اور وہ گذشتہ کئی برسوں سے مختلف بیماریوں کا بھی شکار تھے۔ وہ متحدہ عرب امارات کے دوسرے صدر تھے۔ جبکہ اُن کے والد ابو ظہبی 16ویں حکمراں تھے۔

شیخ خلیفہ سال 2014 سے ہی بہت کم نظر آنے لگے تھے۔ جبکہ اُن کی دل کی سرجری ہوئی تھی۔ تاہم عملاً وہ ہی ملک کے حکمراں تھے۔ اُس کے باوجود اُن کے بھائی اور ابو ظہبی کے ولیعہد شہزادہ محمد بن زید کو عام طورپر مختلف سرکاری امور کا نگران سمجھا جاتا رہا ہے۔

شیخ خلیفہ بن زید النیہان 1948 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ شیخ زید کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ متحدہ عرب امارات کے سربراہ کا عہدہ سنبھالتے ہی اُنہوں نے ملک کو ترقی کی نئی شاہراہوں پر گامزن کردیا۔

اُنہوں نے عرب امارات کی وفاقی حکومت اور ابو ظہبی کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی عمل میں لائی تھیں۔

اُن کی سربراہی میں عرب امارات نے بے مثال ترقی کی اور ہزاروں لاکھوں بیرونی شہریوں کو عرب امارات میں کام کرنے کا موقع دیا یہاں تک کہ وہ اسے اپنا گھر سمجھنے لگے۔

اُن کے انتقال کے بعد دنیا بھر کے ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور سربراہان کی جانب سے تعزیتی بیانات جاری کئے جارہے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button