متھرا مندر کیلئے 1991 کا قانون رَد کیا جاسکتا ہے: کشواہا

اس قانون کی رو سے عبادت گاہوں کا 15 اگست 1947 کا موقف برقرار رہے گا۔ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکے گی یعنی 15 اگست 1947 کو جو مندر‘ مندر تھا‘مندر ہی رہے گا جو مسجد‘ مسجد تھی‘ مسجد ہی رہے گی تاہم اس قانون سے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ کو الگ رکھا گیا تھا۔

بلیا (یوپی): بی جے پی رکن پارلیمنٹ رویندر کشواہا نے کہا ہے کہ نریندر مودی حکومت جب کسانوں کے احتجاج کے مدنظر زرعی قوانین رد کرسکتی ہے تو وہ متھرا میں کرشن جنم بھومی مندر کی تعمیر کے لئے عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کا قانون بھی واپس لے سکتی ہے۔

اس قانون کی رو سے عبادت گاہوں کا 15 اگست 1947 کا موقف برقرار رہے گا۔ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکے گی یعنی 15 اگست 1947 کو جو مندر‘ مندر تھا‘مندر ہی رہے گا جو مسجد‘ مسجد تھی‘ مسجد ہی رہے گی تاہم اس قانون سے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ کو الگ رکھا گیا تھا۔

کشواہا نے کہا کہ ایودھیا‘ کاشی(وارانسی) اور متھرا کے تعلق سے بی جے پی کا شروع سے واضح موقف رہا ہے۔ یہ تینوں مقامات ہمارے آستھا(عقیدہ) کا معاملہ رہے ہیں۔ ہمارا دھرم (مذہب) ان تین مذہبی مقامات سے جڑا ہے۔ بلیا کے رکن پارلیمنٹ نے اتوار کے دن میڈیا نمائندوں سے کہا کہ ہماری اصل اس مقام (متھرا) سے شروع ہوتی ہے۔

یہ ملک کے تفاخر کا معاملہ ہے۔ ایودھیا کا فیصلہ ہوگیا‘ کاشی وشواناتھ مندر پر کام چل رہا ہے‘ اب متھرا کی باری ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا پلیسس آف ورشپ(اسپیشل پرویژنس) ایکٹ 1991 کے خلاف جایا جاسکتا ہے‘ کشواہا نے کہا کہ جب کسانوں کے احتجاج کا نوٹ لے کر زرعی قوانین منسوخ کئے جاسکتے ہیں تو مودی حکومت یہ قانون بھی واپس لے سکتی ہے۔

چار پانچ سو سال قبل مسلمانوں نے ہمارے مندر کے سامنے اپنا عبادت خانہ کیوں بنایا‘ کیا ان کے پاس دوسری جگہ نہیں تھی۔ اب متھرا کو آزاد کرایا جائے گا۔ کشواہا نے کہا کہ وہاں مسلمانوں کے کونسے پیغمبر پیدا ہوئے کہ وہاں مسجد موجود رہے۔ مسلمانوں کے پیغمبر ادرشیہ (دکھائی نہ دینے والے) ہیں۔

مشہور کرشن مندر کے سامنے مسجد موجود رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ اسمبلی الیکشن سے قبل یہ مسئلہ کیوں اٹھ رہا ہے‘ بی جے پی قائد نے کہا کہ جب ذات پات کی بات ہوسکتی ہے‘ ذات پات کی بنیاد پر سیاسی اتحاد ہوسکتے ہیں تو پھر بھگوان کرشن کی بات بھی ہوسکتی ہے۔

ایودھیا کی طرح متھرا میں شروعات ہوچکی ہے اور کسی دن یہ معاملہ بھی طئے ہوجائے گا۔ چند دن قبل اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر کیشوپرساد موریہ نے یہ کہہ کر تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ برسراقتدار بی جے پی‘ متھرا میں مندر تعمیر کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

متھرا میں جس مقام کی بات ہورہی ہے وہ اورنگ زیب کے دور کی مسجد کے اندر واقع ہے۔ کئی مقدمے عدالت میں زیرسماعت ہیں۔ قبل ازیں دایا بازو گروپس نے اعلان کیا تھا کہ وہ 6 دسمبر کو شاہی عیدگاہ مسجد کے اندر کرشن بھگوان کی مورتی رکھ دیں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button