مجلس کی ایم وی اے سے اتحاد کی تجویز: امتیاز جلیل

جلیل کی تجویز کو ادھوٹھاکرے زیر قیادت پارٹی نے مسترد کردیا ہے جب کہ بی جے پی نے اس قسم کا اتحاد اسد الدین اویسی زیر قیادت اور سینا کے درمیان مسترد نہیں کیا۔ شیوسینا لیڈر اور ایم ایل سی امباداس دانوے نے کہا کہ پارٹی سے اتحاد کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا جو وندے ماترم کی مخالفت کرتی ہے اور رضا کاروں کے خیالات چلاتی ہے۔

اورنگ آباد: مہاراشٹرا میں حکمران شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کی تجویز پیش کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم‘ ایم پی امتیاز جلیل نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) ایک تین پہیوں کے آٹو رکشا سے ”اطمینان بخش کار“ میں تبدیل ہوجائے گی جو بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روک سکے گی۔

جلیل کی تجویز کو ادھوٹھاکرے زیر قیادت پارٹی نے مسترد کردیا ہے جب کہ بی جے پی نے اس قسم کا اتحاد اسد الدین اویسی زیر قیادت اور سینا کے درمیان مسترد نہیں کیا۔ شیوسینا لیڈر اور ایم ایل سی امباداس دانوے نے کہا کہ پارٹی سے اتحاد کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا جو وندے ماترم کی مخالفت کرتی ہے اور رضا کاروں کے خیالات چلاتی ہے۔

 نیم فوجی تنظیم فورس کو حیدرآباد میں مسلمانوں کی حکمرانی میں تعینات کیا گیا تھا اور جس نے 1947-48ء میں حیدرآباد کی ہندوستان میں انضمام کی مزاحمت کی تھی۔ ناگپور میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر دیویندر پھڈنویس نے یہ کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم، این سی پی اور کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملا رہی ہے جو بی جے پی کے لئے سودمند نہیں ہے۔

جلیل نے جمعہ کو کہا تھا کہ اے آئی ایم آئی ایم بی جے پی کی B ٹیم نہیں ہے جیسا کہ اصل دھارے کی پارٹیاں الزام لگاتی ہیں اور وہ این سی پی اور کانگریس کی حلیف بننا چاہتی ہے۔ اورنگ آباد ایم پی نے کہا کہ انہوں نے آل انڈیا اتحاد المسلمین کی خواہش کے مطابق ریاستی وزیر اور این سی پی کی لیڈر راجیش توپے کے مکان کا دورہ کیا تھا۔ ہفتہ کو جلیل نے کہا کہ ایک اور پہیہ سے 3 پہیوں والا آٹو رکشا اطمینان بخش کار میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button